کیا سعودی عرب میں خواتین سر عام سڑکوں پر دوڑ لگا سکتی ہیں؟

سعودی خاتون

سعودی عرب کے شہروں کی سڑکوں پر عبایہ پہنے جاگنگ کرنے والی خواتین دکھائی دینا کوئی عام بات نہیں لیکن ایسا کرنا کسی قانون کے خلاف بھی نہیں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں خواتین پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد ہوں، بہت لوگوں کے لیے یہ کسی خواب جیسا ہے۔

2013 میں بننے والی جدہ رننگ کمیونٹی نے اس خواب کو حقیقت کا رنگ دیا ہے۔

اس کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی سعودی شہری نوحا احمد کا کہنا ہے کہ ’جب سے میں نے دوڑنا شروع کیا ہے میری زندگی مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرد اور عورت اب کہیں بھی کسی بھی وقت ایک ساتھ دوڑ سکتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’سعودی خواتین کو عبایہ پہننے کی ضرورت نہیں‘

’اب سعودی عرب بدل رہا ہے اور تاریخ رقم ہو چکی‘

اس رننگ گروپ نے مرد اور خواتین کے مشترکہ تربیتی سیشنز کے انتظامات تو کیے ہیں لیکن یہ صرف خواتین کے بھی اجتماعات منعقد کرتے ہیں۔

اپنی ٹریننگ کرنے کے لیے یہ علی الصبح بھی جمع ہوتے ہیں اور اکثر راتوں کو بھی جدہ کی ویران سڑکوں پر اس گروپ کے ارکان ورزش کرتے نظر آتے ہیں۔

نوحہ احمد اسی طرح رات کے ایک مشترک تربیتی سیشن میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب خواتین کو سعودی عرب میں بہتر سہولیات دستیاب ہیں۔

’ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اب ہمیں مساوی حقوق حاصل ہیں۔ یہاں تک کہ سپورٹس کے شعبے میں ہمیں بعض اوقات مردوں سے بہتر سہولیات دستیاب ہیں کیونکہ خواتین پر زیادہ توجہ مرکوز کی جاتی ہے اور ان کا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔‘

سعودی عرب میں خواتین کو حالیہ برسوں میں کچھ آزادیاں حاصل ہوئی ہیں اور بعض قوانین میں نرمی لائی گئی ہے۔ تاہم ابھی بھی انھیں تنہا سفر کرنے، اپنی مرضی کی شادی کرنے، طلاق لینے، یہاں تک کہ بغیر کسی مرد رشتہ دار کے جیل سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں سعودی عرب کی خواتین پر سپورٹس میں شمولیت سے پابندی ہٹا لی گئی ہے اور اب خواتین فٹبال کا میچ دیکھنے سٹیڈیم بھی جا سکتی ہیں۔

حجاب میں ملبوس مصری خاتون رنر اسما السید بھی دوڑ لگانے والی خواتین میں شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پہلے تو قدرے شرم آتی تھی کہ لوگ ہمیں عجیب نظروں سے دیکھیں گے۔ لیکن جونہی میں دوڑنا شروع کرتی ہوں میں دنیا کو بھول کر بس دوڑنے سے لطف اندوز ہوتی ہوں۔‘

جدہ رننگ کمیونٹی کی پہل کے بعد اب دوسرے شہروں میں بھی اس قسم کے گروپ قائم ہو رہے ہیں، لیکن ابھی بھی خواتین کا سر عام دوڑنا اس ملک میں غیر معمولی بات ہے۔

اس کمیونٹی کی سربراہ نسرین غنیم نے اپنی امیدوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’میں چاہوں گی کہ سعودی خواتین سپورٹس کے ایسے مواقع کا فائدہ اٹھائیں۔

’ہمارے لیے تھوڑی کوشش سے تمام چیزیں ممکن ہو سکتی ہیں۔ ہم نے صرف یہ یاد رکھنا ہے کہ ہم لائق ہیں اور ہمیں ہار نہیں ماننی۔‘

اسی بارے میں