مشتاق احمد: دل پاکستان کے ساتھ لیکن دماغ ویسٹ انڈیز کے لیے

مشتاق احمد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مشتاق احمد کے لیے کسی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف کا حصہ بن کر پاکستانی ٹیم کے سامنے آنا کوئی نئی بات نہیں ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم جب 31 مئی کو ورلڈ کپ میں اپنا پہلا میچ کھیلنے ٹرینٹ برج کے میدان میں اترے گی تو حریف ویسٹ انڈین ٹیم کے ساتھ اسے ایک شناسا چہرہ نظر آئے گا جس کا دل پاکستان کے لیے ضرور دھڑک رہا ہو گا لیکن دماغ میں یہی سوچ کارفرما ہو گی کہ پاکستانی ٹیم کو کس طرح قابو کیا جائے۔

یہ شناسا چہرہ کسی اور کا نہیں بلکہ پاکستان کے سابق لیگ سپنر مشتاق احمد کا ہوگا جو اس وقت ویسٹ انڈیز کے سپن بولنگ کوچ کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

مشتاق احمد کو ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ نے گزشتہ سال سپن بولنگ کنسلٹنٹ کی ذمہ داری سونپی تھی اور اب وہ عالمی کپ میں بھی ان کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’میرا تو خیال تھا کہ بولنگ پاکستان کی طاقت ہے‘

پاکستانی بیٹنگ جدید کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟

’ہم ورلڈ کپ کے لیے نروس نہیں پرجوش ہیں‘

مشتاق احمد کے لیے کسی ٹیم کے کوچنگ سٹاف کا حصہ بن کر پاکستانی ٹیم کے سامنے آنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ اس سے قبل انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے سپن بولنگ کوچ کے فرائض بھی نبھا چکے ہیں۔

مشتاق احمد کہتے ہیں کہ وہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم کے ساتھ کام کرکے بہت لطف اندوز ہورہے ہیں کیونکہ اس ٹیم کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ کوچز کی تکینکی باتوں کو توجہ سے سنتی ہے۔ ’یہ ابھی نوجوان ٹیم ہے جس میں شائی ہوپ، نکولس پورن اور ہیٹمائر کا مستقبل بہت روشن ہے۔‘

مشتاق کوں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بہت جلد یہ اسی ویسٹ انڈین ٹیم کا روپ دھارلے گی جس کی کامیابیوں کے قصے میں ماضی میں سنائے جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مشتاق ماضی میں پاکستانی ٹیم کے کوچنگ سٹاف کا حصہ بھی رہ چکے ہیں

مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان ان کا ملک ہے اس میں کوئی شک و شبہ نہیں لیکن جہاں تک پیشہ ورانہ ذمہ داری کی بات ہے انھیں جو کچھ بھی پتا ہو گا وہ ویسٹ انڈین ٹیم کے ساتھ ضرور شیئر کریں گے۔ ’یہ پیشہ ورانہ تقاضہ بھی ہے اور ایمانداری بھی ہے۔‘ ان کے مطابق جب بھی ٹیم میٹنگ میں ان سے پوچھا جائے گا وہ ضرور بتائیں گے۔

مشتاق احمد کے خیال میں انگلینڈ 2019 کا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے فیورٹ ہے لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر بارشیں نہ ہوئیں اور وکٹیں خشک رہیں تو پھر ایشیائی ٹیموں کے امکانات بہت زیادہ روشن ہوں گے۔

’وہی ٹیمیں کامیاب ہوں گی جن کے سپنرز درمیانی اوورز میں اچھی بولنگ کریں گے اور جن کے ٹاپ آرڈر بیٹسمین بڑی اننگز کھیلیں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں شاداب خان پاکستان کے لیے ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ ’ان کے پاس گگلی ہے جس کا استعمال وہ بہت خوبصورتی سے کرتے ہیں۔ انھیں دلیری سے بولنگ کرنی ہوگی اور ویری ایشنز کو استعمال کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی ہو گی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں