کرکٹ ورلڈ کپ 2019: انگلینڈ کو ہرانے کے لیے پاکستان اور انڈیا کی ’ڈریم ٹیم‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں کا کرکٹ ورلڈ کپ کا سفر شروع ہو گیا ہے۔ انگلینڈ کی ٹیم کو اس ورلڈ کپ میں ان کے بیٹنگ لائن اپ کی وجہ سے فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس میں ایک اور اہم چیز بھی ہے اور وہ ہیں انگلش کنڈیشینز۔

تاریخی لحاظ سے پاکستان اور انڈیا دونوں ٹیموں میں ایسے کھلاڑی رہے ہیں جو انگلش کنڈیشنز میں نہ صرف اچھا کھیلتے ہیں بلکہ بعض اوقعات ان کے کھیل میں مزید بہتری آجاتی ہے۔

تو اگر پاکستان اور انڈیا دونوں ٹیموں کے بارہ بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے، جو موجودہ انگلش ٹیم کو انگلینڈ میں ہی ہرا سکیں تو وہ کون سے کھلاڑی ہوں گے؟ لیکن اس کے لیے ہم نے موجودہ یا حال کی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے ماضی کے کھلاڑیوں میں سے ’ڈریم ٹیم‘ کا انتخاب کیا ہے۔

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 سے متعلق یہ بھی پڑھیے

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں پاکستان ٹیم کہاں تک پہنچے گی

کرکٹ ورلڈ کپ ٹرافی کے بدلتے رنگ

پاکستان کی نئی ورلڈ کپ کِٹ ماضی کے مقابلے میں کیسی ہے؟

پاکستانی بیٹنگ جدید کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ GERRY PENNY

اوپنر اور ون ڈاؤن

سچن تندولکر، سعید انور اور راہل ڈراوڈ

ماسٹر بلاسٹر، گاڈ آف کرکٹ یا لِٹل ماسٹر۔ پاکستان انڈیا آل ٹائم الیون ہو یا ورلڈ الیون، سچن تندولکر دونوں ٹیموں میں آٹومیٹک سلیکشن کے حقدار ہیں۔ ایک وقت میں سعید انور اور لِٹل ماسٹر تندولکر میں سنچریوں کی دوڑ چل رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اگر انور ذاتی وجوہات کے باعث کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرتے تو شاید آج ان کی سینچریز سچن جتنی نہیں تو ان کے نزدیک ضرور ہوتیں۔

دونوں کھلاڑیوں کی اوپننگ جوڑی دائیں اور بائیں ہاتھ کی بیٹنگ کا خطرناک امتزاج ہے۔ تیز کھیلنے والے سعید انور کے لیے تندولکر کا ٹھہراؤ اور سٹرائیک روٹیٹ کرنے کی صلاحیت اس اوپننگ جوڑی کو مزید خطرناک بناتی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کی ون ڈے میچوں میں مجموعی سنچریوں کی تعداد 69 ہے اور کیریئر سٹرائیک ریٹ 80 سے زیادہ ہے۔ لئیم ڈاسن اور پلنکیٹ کا انگلش پچز پر سامنا کرنے کے لیے سعید اور تندولکر کافی ہیں۔

1999 کے ورلڈ کپ میں جب سری لنکا کے خلاف انڈیا کے 6 رنز پر ایک وکٹ گری تو اس وقت راہل ڈراوڈ نہ صرف کریز پر رکے بلکہ گنگولی کے ساتھ 318 رنز کی پارٹنرشپ بھی کی۔ ’دی وال‘ کہے جانے والے ڈراوڈ کو 1999 ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ سکور کرنے والے بیٹسمین کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ وہ، ون ڈاؤن کی پوزیشن پر نہ صرف ٹیم کو مستحکم کریں گے بلکہ سٹروک پلے میں سچن سے زیادہ پیچھے نہیں۔وکٹ کیپر کی انجری کی صورت میں ڈراوڈ کیپنگ کے فرائض بھی انجام دے سکتے ہیں۔

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 سے متعلق یہ بھی پڑھیے

دل پاکستان کے ساتھ لیکن دماغ ویسٹ انڈیز کے لیے

’میرا تو خیال تھا کہ بولنگ پاکستان کی طاقت ہے‘

’ہم ورلڈ کپ کے لیے نروس نہیں پرجوش ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI

مڈل آرڈر

انضمام الحق، مہندر سنگھ دھونی، یوراج سنگھ

1992 کے ورلڈ کپ فائنل میں پہنچنے کے لیے جو اننگز پاکستان کو درکار تھی وہ انضمام الحق نے کھیلی۔ پاکستان کی ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ رنز سکور کرنے والے انضمام الحق اپنی میچ وننگ اننگز اور درمیان کے اوورز میں سکور بورڈ کو سستی سے بچانے کی وجہ سے مشہور تھے۔

اگر سچن اور سعید دونوں ہی کچھ دیر کے مہمان ہوئے تو اننگز مضبوط کرنے کے لیے ڈراوڈ کے ساتھ انضمام سے بہتر کوئی اور آپشن نہیں۔ دونوں کھلاڑی، سپن پر مہارت کی وجہ سے معین علی اور عادل راشد کے خطرے کو بھی بہت حد تک ختم کردیں گے۔

پانچویں نمبر پر یوراج سنگھ چھٹے پر آنے والے مہندر سنگھ دھونی کے ساتھ فنشر کا کردار ادا کریں گے۔ دونوں کھلاڑی تیز کھیلنے کے ساتھ ساتھ ہیلی کاپٹر شارٹس اور ریورس سوئپ میں بھی مہارت رکھتے ہیں، جو کہ نئی طرز کی کرکٹ اور ڈیتھ یا اختتامی اوورز کی ضرورت ہے۔ انڈیا کے ورلڈ کپ وننگ کپتان، وکٹ کے پیچھے وسیم اکرم کی آؤٹ سوئنگ اور شعیب اختر کی تیز گیندوں کو بھی سنبھال لیں گے۔

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 سے متعلق یہ بھی پڑھیے

بکنگھم پیلس کے باہر ’اوپننگ پارٹی‘ اور سرفراز کی شلوار قمیض

امام الحق چچا کی طرح ورلڈ کپ جیتنے کے خواہشمند

’کسی بھی نوجوان کرکٹر سے زیادہ فٹ ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کپتان اور آل راؤنڈرز

عمران خان، کپل دیو

اس وقت دنیا کی بہترین ون ڈے ٹیم انڈیا کے کپتان وراٹ کوہلی کے بارے میں کچھ دن قبل روی شاستری نے کہا تھا کہ کوہلی کا کپتانی کا سٹائل عمران خان سے ملتا ہے۔ عمران خان کے سر یہ صحرا جاتا ہے کہ انھوں نے پاکستان کا واحد ورلڈ کپ، پاکستان کی سب سے مضبوط ٹیم سے نہیں بلکہ پلاننگ اور سٹریٹیجی سے جیتا۔

خان کے بارے میں مشہور ہے کہ کھلاڑی ان کی کپتانی میں اپنی پوری قوت سے کھیلتے ہیں۔ ساتھ میں اگر کپل دیو جیسے نائب کپتان ہوں تو دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی صلاحیت میں مزید بہتری ہوگی۔ عمران اور کپل، دونوں ہی آل راؤنڈر ہونے کی وجہ سے تیز بیٹنگ کر کے فنشر کا کردار بھی ادا کرسکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بولنگ اٹیک

وسیم اکرم، شعیب اختر، انِل کمبلے

سچن تندولکر کی طرح سلطان آف سوئنگ بھی دنیا کے کسی بھی سکواڈ میں آٹومیٹک سلیکشن کے حقدار ہیں۔انگلش پچز پر مکمل کنٹرول کے ساتھ بولنگ کرنے والے وسیم اکرم کے لیے جیسن رائے اور جو روٹ جیسے کھلاڑیوں کو قابو میں رکھنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ جبکہ جانی بیرسٹو کے تباہ کن شاٹس کے لیے شعیب اختر کی تیزی کافی ہے۔

سپن ڈپارٹمنٹ میں آپ کے پاس دنیا کا واحد بولر موجود ہے جو کہ ایک میچ میں دس وکٹیں لے چکا ہے، 1996 کے ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے انل کمبلے گوگلی اور فلِپر جیسی مشکل گیندوں پر بھی مہارت رکھتے ہیں اور ڈیتھ اوورز میں بولنگ کرنے سے کتراتے نہیں۔

اسی بارے میں