کرکٹ ورلڈ کپ 2019: ’اب ڈریسنگ روم میں تقریر کون کرے گا؟‘

سرفراز احمد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرفراز کی ٹیم نے ایک بار پھر ٹورنامنٹ کا آغاز اپنی ہی طرح کی 'انہونی' سے کر دیا ہے

کچھ دن ہی ایسے ہوتے ہیں کہ اچھے بھلے معروضی حقائق بھی ناقابلِ فہم سی کامیڈی میں بدل جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وقت بھی تخمینوں اور اندازوں کا مذاق اڑانے پہ تُلا ہوا ہے۔

بجا کہ چار سیمی فائنلسٹس میں اکثر لوگ پاکستان کا نام نہیں لے رہے، مگر پھر بھی یہ خدشہ کہیں نہ کہیں سبھی کے دل میں تو ہو گا ہی کہ کہیں اس بار بھی کوئی انہونی نہ ہو جائے۔

مبصرین اور ماہرین کے خدشے تو نجانے کب پورے ہوتے، سرفراز کی ٹیم نے ایک بار پھر ٹورنامنٹ کا آغاز اپنی ہی طرح کی ’انہونی‘ سے کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

سرفراز احمد اگر عمران خان بن گئے تو۔۔۔

پاکستانی ٹیم کٹھن امتحان کے لیے کتنی تیار؟

کسی بھی ٹیم کے لئے ایسا بدنما سکوربورڈ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ بالخصوص اس پاکستان ٹیم کے لئے یہ تکلیف زیادہ ہو گی جو ابھی اسی بات پہ پھولی نہیں سما پا رہی تھی کہ بیٹنگ یونٹ فارم میں آ گیا ہے اور مسلسل تین میچز میں 340 رنز کا ریکارڈ بنا چکا ہے۔

ایسے اعتماد اور جرات مندی کے بعد ناٹنگھم کی یہ پرفارمنس ہضم کرنا نہایت کرب ناک ہے۔ اور جب اس زوال کا ’پیٹرن‘ دیکھا جائے تو سارا غم بلیک کامیڈی میں بدل جاتا ہے کہ آخر کیوں ایک ہی طرح کی گیند پہ آٹھ کھلاڑیوں نے اپنی وکٹیں ہدیہ کر دیں۔

کرکٹنگ پیرائے میں دیکھا جائے تو سیدھی سی بات ہے کہ شارٹ پچ بولنگ ہمیشہ سے پاکستانی بلے بازوں کی کمزوری رہی ہے۔ جس طرح سے پاکستانی ٹاپ آرڈر آؤٹ ہوا، کوئی بھی ماہر وجہ بتا سکتا ہے کہ بلے بازوں کا ’فٹ ورک‘ عنقا تھا، قدم کریز میں منجمد تھے اور نظریں گیند پر نہیں تھیں۔

مگر ان تکنیکی مسائل کی تہہ میں وہ کون سے نفسیاتی عوامل کارفرما تھے جو نوبت یہاں تک لے آئے کہ چیمپئینز ٹرافی کی فاتح ٹیم کا ٹاپ آرڈر شارٹ پچ گیند دیکھتے ہی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے پہ مجبور ہوا۔

شاید یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ ویسٹ انڈیز تو کوئی ٹیم ہی نہیں ہے۔ بولر بھی نئے، بلے باز بھی نئے، انہیں تو ہم کھا پی جائیں گے، ڈکار بھی نہیں لیں گے۔

یا شاید یہ سمجھ لیا گیا کہ یہ نوآموز ٹیم شارٹ پچ کو بطور نفسیاتی حربہ استعمال کر رہی ہے اور ایسی نفسیاتی دھمکی کا جواب صرف جارحیت ہے کہ جب دو شارٹ پچ پہ چوکے پڑ گئے تو پھر سب پلان چوپٹ رہ جائیں گے اور دوبارہ کوئی شارٹ پچ سامنے نہیں آئے گی۔

بہر طور جو بھی سمجھا گیا اور جس طرح سے بھی نبٹا گیا، اخلاقی نتیجہ یہ رہا کہ ایک بار پھر ایک بڑے ٹورنامنٹ میں پاکستان کا آغاز نہایت برا ہوا۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ بھارت کے خلاف میچز کو جنگ کا درجہ دے دیا جاتا ہے وگرنہ چیمپئینز ٹرافی کے پہلے میچ میں بھارت سے شکست اس ہار کی نسبت کم خفت آمیز مارجن سے تھی۔ ٹرینٹ برج کی یہ ہار ماڈرن کرکٹ میں شاید طویل عرصہ تک پاکستان کا بدترین ریکارڈ رہے گی۔

چیمپئینز ٹرافی کی اس ہار کے بعد تو کچھ قسمت نے یاوری کی تھی اور کچھ شعیب ملک کی تقریر کام آ گئی تھی۔ اس بار مگر فارمیٹ ایسا جامع ہے کہ قسمت شاید زیادہ ساتھ نہیں دے سکے گی۔

ہاں یہ امکان ضرور ہے کہ شاید کوئی تقریر ڈریسنگ روم میں ہو جائے اور سبھی جاگ جائیں۔ سو، سوال یہ نہیں کہ اگلے میچ کی الیون کیا ہو گی بلکہ سوال یہ ہے کہ اگلے میچ سے پہلے ڈریسنگ روم میں تقریر کون کرے گا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں