کرکٹ ورلڈ کپ 2019:نیوزی لینڈ کی تباہ کن بولنگ، سری لنکا کو دس وکٹوں سے شکست دے دی

کیوی اوپنرز تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption کیویز کی طرف سے بیٹنگ کا آغاز کالن منرو اور مارٹن گپٹل نے کیا

انگلینڈ اور ویلز میں جاری کرکٹ کے 12ویں عالمی کپ کے تیسرے روز نیوزی لینڈ نے سری لنکا کا 137 رنز کا ہدف محض 16.1 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے حاصل کر لیا۔

کیویز کی طرف سے بیٹنگ کا آغاز کالن منرو اور مارٹن گپٹل نے کیا۔ دونوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہیں محتاط اور کہیں جارحانہ بیٹنگ کر کے نیوزی لینڈ کی فتح یقینی بنا دی۔ گپٹل نے 78 جبکہ منرو نے 58 رنز کی ناقابلِ تسخیر اننگز کھیلیں۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

اس سے قبل، نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر سری لنکا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی جس کہ بعد سری لنکا کی تمام ٹیم 29.2 اوورز میں صرف 136 رنز بنا سکی تھی۔ سری لنکن کپتان دمتھ کرونارتنے نے 52 رنز کی ناقابلِ تسخیر اننگز کھیلی۔

نیوزی لینڈ کی طرف سے میٹ ہنری اور روکی فرگیوسن نے تین، تین جبکہ کالن ڈی گرانڈہوم، جیمز نیشم، ٹرینٹ بولٹ اور مچل سینٹنر نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

اس سے قبل، جب نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے سری لنکا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تو سری لنکا کے اووپننگ بلے باز لاہیرو تھریمانے پہلے ہی اوور کی دوسری ہی گیند پر میٹ ہینری کی بولنگ پر چار رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔

کسال پریرا نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوتے ہوئے 24 گیندوں پر 29 رنز بنائے لیکن میٹ ہینری نے انھیں اپنے پانچویں اوور میں پولین کی راہ دکھا دی۔ اگلی ہی گیند پر کسال مینڈس بھی چلتے بنے جب مارٹںن گپٹل نے دوسری سلپ میں ان کا کیچ پکڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سری لنکا کے اووپننگ بلے باز لاہیرو تھریمانے پہلے اوور کی دوسری ہی گیند پر میٹ ہینری کی بولنگ پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے

سوفیا گارڈنز پر کھیلے جانے والے اس میچ میں کیوی بولرز چھائے رہے۔ چوتھے آؤٹ ہونے والے بلے باز دھننجایا ڈی سلوا تھے جو چار رنز بنا کر لوکی فیرگیوسن کی بولنگ پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ کالن ڈی گرانڈ ہوم نے اپنے پہلے ہی اوور میں سری لنکا کے سابق کپتان اینجلو میتھیوز کو ایل بی ڈبلیو کر کے سری لنکا کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

لوکی فرگیوںسن کی تیز رفتار بولنگ نے نئے آنے والے بلے باز جیون مینڈس کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا، اور وہ گلی میں کھڑے جیمز نیشم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

ساتویں آؤٹ ہونے والے کھلاڑی تھسارا پریرا تھے جنھوں نے کچھ دیر مزاحمت کی کوشش کی، لیکن وہ 23 گیندوں پر 28 رنز بنانے کے بعد سپنر مچل سینٹنر کی بولنگ پر ٹرینٹ بولٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد سری لنکا کے فاسٹ بولرز اسورو اڈانا، لاستھ ملنگا اور سرنگا لکمل چند ہی گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کالن ڈی گرانڈ ہوم نے اپنے پہلے ہی اوور میں سری لنکا کے سابق کپتان اینجلو میتھیوز کو ایل بی ڈبلیو کر کے سری لنکا کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا

آئی سی سی کی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر موجود کیوی ٹیم کی قیادت کین ولیمسن کر رہے ہیں جبکہ عالمی نمبر نو سری لنکا کی قیادت دمتھ کرونا رتنے کر رہے ہیں۔

سری لنکا کی جانب سے کپتان دمتھ کرونارتنے کے علاوہ لاہیرو تھریمانے، کسال مینڈِس، کسال پریرا، اینجیلومیتھیوز، دھننجایا ڈی سلوا، تھسارا پریرا، جیون مینڈِس، اسورو اڈانا، لاستھ ملنگا اور سرنگا لکمل ٹیم میں شامل ہیں۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم میں کپتان کین ولیمسن کے علاوہ مارٹن گپٹل، کالن منرو، راس ٹیلر، ٹام لیتھم، جیمز نیشم، کالن ڈی گرانڈہوم، مچل سینٹنر، لوکی فرگیوسن، ٹرینٹ بولٹ اور میٹ ہینری پر مشتمل ہے۔

یہ میچ کارڈف ویلز سٹیڈیم پر کھیلا جا رہا ہے، جہاں سری لنکا کو اب تک کھیلے گئے چار میچوں میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

یہ بھی پڑھیے

سرفراز احمد اگر عمران خان بن گئے تو۔۔۔

وہ میچ جہاں سے کرکٹ ورلڈ کپ کا سلسلہ شروع ہوا

دس بڑے کھلاڑی جو کرکٹ کا عالمی کپ نہ جیت سکے

کرکٹ کے گذشتہ 11 عالمی مقابلوں میں دونوں ٹیمیں 10 بار آمنے سامنے آ چکی ہیں جن میں چھ مرتبہ فتح سری لنکا کے نام جبکہ چار مرتبہ نیوزی لینڈ کے نام رہی ہے۔

آخری بار ان دونوں ٹیموں نے جنوری 2019 میں نیوزی لینڈ میں تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلی تھی جس میں نیوزی لینڈ نے سری لنکا کو وائٹ واش کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میٹ ہنری نے تین سری لنکن بلے باز پولین لوٹا دیا

ایک روزہ میچوں میں دونوں ٹیمیں اب تک 105 مرتبہ مدِمقابل آئی ہیں، 48 میچ نیوزی لینڈ نے اور 41 میچ سری لنکا نے جیتے ہیں جبکہ باقی 16 میچ منسوخ، بے نتیجہ یا برابر رہے۔

سری لنکا نے سنہ 1996 میں ورلڈ کپ کے فائنل میں آسٹریلیا کو اپ سیٹ شکست دے کر یہ ٹرافی اپنے نام کی تھی۔ اس کے علاوہ سری لنکا کی ٹیم سنہ 2007 اور 2011 کے ورلڈ کپس میں رنرز اپ رہی ہے۔

میزبان انگلینڈ کے علاوہ نیوزی لینڈ وہ واحد ٹیم ہے جس نے ورلڈ کپ کے تمام انڈیشنز میں حصہ لینے کے باوجود اب تک عالمی کپ نہیں جیتا۔

سنہ 2015 کے ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ نے پہلی بار ورلڈ کپ کے فائنل تک رسائی حاصل کی تھی لیکن اسے آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آئی سی سی کی درجہ بندی میں چوتھے نمبر پر موجود کیوی ٹیم کی قیادت کین ولیمسن کر رہے ہیں جبکہ عالمی نمبر نو سری لنکا کی قیادت دمتھ کرونا رتنے کر رہے ہیں۔

ورلڈ کپ 2019 میں ان دو ٹیموں کے علاوہ دفاعی چیمپئین آسٹریلیا، افغانستان، بنگلہ دیش، انڈیا، انگلینڈ، پاکستان، ساؤتھ افریقہ اور ویسٹ انڈیز حصہ لے رہی ہیں۔

یہ تمام ٹیمیں انگلینڈ اور ویلز کے 11 میدانوں پر مدِمقابل ہوں گی۔ پہلے مرحلے میں ساری ٹیم ایک دوسرے کے ساتھ ایک ایک میچ کھیلیں گی، جس کہ بعد چار بہترین ٹیمیں سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گی جبکہ عالمی کپ کا فائنل 14 جولائی کو لارڈز کے میدان پر کھیلا جائے گا۔

عالمی کپ کے ابتدائی دو میچ یک طرفہ رہے جن میں میزبان انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کو جبکہ ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو باآسانی شکست دی۔

آج کے دن کا دوسرا میچ افغانستان اور دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا کے مابین برسٹل کے میدان پر کھیلا جائے گا۔ یہ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام پانچ بجے شروع ہو گا۔

اسی بارے میں