کرکٹ ورلڈ کپ 2019: محمد عامر کو اعتماد دینے والی تین وکٹیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد عامر ہی پاکستان کی امید ہیں

فاسٹ بولر محمد عامر کی اپنا پہلا ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش پوری ہوگئی اور پہلے ہی میچ میں انہیں تین وکٹیں بھی مل گئیں لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں وہ اعتماد مل گیا جس کی انہیں کئی ماہ سے تلاش تھی۔

اٹھارہ اپریل کو جب ورلڈ کپ کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان ہوا تھا تو اس ٹیم میں محمد عامر شامل نہیں تھے البتہ انہیں ورلڈ کپ سے قبل انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کیاگیا تھا اور کہا گیا تھا کہ سیریز میں ان کی کارکردگی دیکھ کر انہیں ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

عام خیال یہی تھا کہ محمد عامر کی ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش پوری نہیں ہوسکے گی اور یہ خیال اسوقت مزید پختہ ہوگیا جب انگلینڈ کے خلاف سیریز میں وہ صرف ایک میچ کھیل پائے اور اوول کے اس میچ میں بھی بارش اور خراب موسم نے انہیں بولنگ کا موقع ہی نہیں دیا جس کے بعد وہ خسرہ کی بیماری میں مبتلا ہوگئے۔

محمد عامر کو انگلینڈ کے خلاف کھیلے بغیر ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ حیران کن بھی تھا اور کئی ایک کی نظروں میں غیرمنصفانہ بھی۔

اسی طرح وہاب ریاض کو تیئس ممکنہ کھلاڑیوں سے باہر سے لاکر دو سال بعد ون ڈے ٹیم میں شامل کیے جانے پر بھی سب معترض تھے جس کا جواب یہ دیا گیا کہ اسوقت مختلف نظرآنے والی انگلش کنڈیشنز میں ٹیم کوتجربہ کار بولرز کی ضرورت ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف بہت بری طرح ہارگئی لیکن اس شکست میں صرف ایک ہی مثبت پہلو نظرآیا اور وہ تھا محمد عامر کی محنت اور اس کے صلے میں تین وکٹیں۔

محمد عامر کے لیے یہ سب کچھ کردکھانا بہت ضروری تھا کیونکہ دو سال پہلے چیمپینز ٹرافی کے فائنل کے بعد سے وہ کسی بھی ون ڈے میں ایک سے زیادہ وکٹ نہیں لے پائے تھے اور پچھلے چودہ مکمل ون ڈے میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد صرف پانچ تھی ۔ان چودہ میں سے نو میچز ایسے بھی تھے جن میں وہ وکٹ سے محروم رہے تھے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر وقاریونس بھی محمد عامر کی پہلے میچ کی کارکردگی کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔

وقاریونس کا کہنا ہے کہ یہ کارکردگی محمد عامرکے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے بہت ضروری تھی۔ وہ ورلڈ کپ ٹیم میں شامل نہیں تھے بعد میں ٹیم میں شامل کیے گئے اور ان کا اچھی کارکردگی دکھانا ان کے اور ٹیم کے لیے اہم ہے کیونکہ وہ وکٹ لینے والے بولر ہیں۔

خود محمد عامر اپنی اس کارکردگی سے بہت خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی میچوں سے انہیں وکٹیں نہیں مل رہی تھیں دوسرے لفظوں میں وکٹوں کا بریک لگاہوا تھا اور وہ چاہیں گے کہ اگلے میچوں میں بھی وہ وکٹیں حاصل کرتے رہیں۔

محمد عامر کا کہنا ہے کہ اگر وہ ٹیم کے مین اسٹرائیک بولر کے طور پر کھیل رہے ہیں اور وہ نئی گیند سے وکٹیں لیتے ہیں تواس کا ٹیم کو فائدہ ہوگا اور آپ کا اعتماد بھی بڑھتا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں