کرکٹ ورلڈ کپ 2019: اظہر محمود کو گیارہ ناکامیوں کو پہلی جیت میں بدلنے کی امید

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اظہر محمود: ’پاکستانی ہار نہیں مانتے، گر کر اٹھتے ہیں‘

ورلڈ کپ کی میزبان ٹیم، میزبان بھی وہ جو ون ڈے کی عالمی نمبر ایک ٹیم ہو۔ میچ بھی اسی گراؤنڈ میں جہاں اس عالمی نمبر ایک ٹیم نے ون ڈے کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکور بنایا ہو۔

اور پھر سب سے اہم بات یہ کہ اس شکار گاہ میں ُاسی پچ کا انتخاب کیا گیا ہو جہاں اس عالمی نمبر ایک ٹیم نے یہ اسکور بنایا تھا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے اس سے کڑا امتحان اور کیا ہوسکتا ہے۔

تین سال قبل جب اس نے انگلینڈ کے خلاف ٹرینٹ برج میں ون ڈے کھیلا تھا تو میزبانوں نے444 رنز بناڈالے تھے جو ُاسوقت ون ڈے انٹرنیشنل کا سب سے بڑا اسکور تھا لیکن انگلینڈ نے اپنے اس ریکارڈ کو گزشتہ سال آسٹریلیا کے خلاف481 رنز بناکر بہتر بنادیا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ اظہرمحمود کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف میچ سے قبل ون ڈے کے عالمی اسکور کی باتیں ہورہی ہیں۔ پانچ سو رنز کی باتیں بھی ہورہی ہیں لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ انگلینڈ کو پانچ سو رنز کرنے کےلیے تین سو گیندیں کھیلنی ہیں جبکہ ہمیں وکٹیں لینے والی دس گیندیں چاہئیں۔

اظہرمحمود کو یاد دلایا گیا کہ پاکستانی ٹیم لگاتار گیارہ میچز ہارچکی ہے آخر وہ دوبارہ کب جیتے گی؟ تو ان کا کہنا ہے کہ یقیناً شکست کا سلسلہ کافی لمبا ہوگیا ہے اور ٹیم کو جیت کی تلاش ہے لیکن یہ وہی ٹیم ہے جو پہلے بھی جیتی ہے اور انہیں اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ جیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرسکتے ہیں اسی ٹیم نے پہلا میچ ہارنے کے بعد چیمپینز ٹرافی جیتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اظہرمحمود فاسٹ بولر محمد عامر کی پہلی میچ میں عمدہ بولنگ پر خاصے مطمئن ہیں

اظہرمحمود فاسٹ بولر محمد عامر کی پہلی میچ میں عمدہ بولنگ پر خاصے مطمئن ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ ٹیم نئی گیند کے ساتھ بولنگ میں تگ ودو کررہی تھی اور محمد عامر نے وکٹیں لی ہیں۔

اظہر محمود ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ان پچھلے میچوں کا تو ذکر کرتے رہے ہیں جن میں محمد عامر کو وکٹیں نہیں ملیں لیکن اب وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ کا بھی ذکر کریں جس میں محمد عامر نے تین وکٹیں لی ہیں۔

حسن علی کی حالیہ مایوس کن فارم پاکستانی ٹیم کے لیے یقیناً تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے جو اس سال 9 ون ڈے میں بولنگ کرتے ہوئے 81 کی بھاری اوسط سے صرف 5 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔

اظہرمحمود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حسن علی کا گراف پچھلے سال سے نیچے آیا ہے۔ان کے کرئیر کا اکنامی ریٹ پانچ اعشاریہ چار چھ ہے لیکن آخری کے چند میچوں میں بڑھ کر چھ سے اوپر ہوگیا ہے تاہم وہ وکٹیں بھی لے رہے ہیں۔وہ جیسے ہی وکٹیں لینا شروع کریں گے ان کا اکنامی ریٹ اور بولنگ اوسط بھی نیچے آئے گی۔ ان میں یہ اہلیت ہے کہ وہ جس طرح بھاگ کر بولنگ کررہے ہیں وہ کم بیک کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں