’ایک دوسرے کو اپنی اچھی پرفارمنسز یاد دلائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میں سوچ رہا تھا کہ اگر ہم نے اس میچ میں تین سو چالیس تک کا اسکور کرنا ہے تو اس کے لیے ایک خاص رفتار سے بیٹنگ کرنی ہوگی: محمد حفیظ

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے میچ کی شکست پر ہر کھلاڑی کو احساس تھا کہ ہم اچھا نہیں کھیلے ہیں اور اسی احساس نے ٹیم میں نیا جذبہ پیدا کردیا جو انگلینڈ کے خلاف جیت کا سبب بنا۔

محمد حفیظ کہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم پچھلے کئی میچز میں اچھی کرکٹ کھیلی تھی لیکن اہم مواقعوں پر آکر جیت نہیں پارہی تھی۔

’ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست پر ہر کسی کو یہ پتہ تھا کہ اس طرح کی کارکردگی ورلڈ کپ کے شایان شان نہیں ہے لہذا تمام کھلاڑیوں نے مل بیٹھ کر بات کی اور ایک دوسرے کو اعتماد دیا اور ایک دوسرے کو اپنی اچھی پرفارمنسز یاد دلائیں اور جب ہم انگلینڈ کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے میدان میں آئے تو کھلاڑیوں میں ایک جذبہ موجود تھا کہ جیت حاصل کرکے آگے بڑھا جائے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان نے ناٹنگھم میں انگلینڈ کو ایک لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال والے میچ میں ایک سخت مقابلے کے بعد 14 رنز سے شکست دے دی۔

349 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کو آخری اوور میں 25 رنز درکار تھے لیکن انگلش ٹیم 334 رنز ہی بنا سکی۔

مزید پڑھیے

’آ گیا وہ سرفراز جس کا انتظار تھا‘

#CWC19: انگلینڈ کے میدانوں سے جڑی اچھی بری یادیں

’اب ڈریسنگ روم میں تقریر کون کرے گا؟‘

محمد حفیظ جو انگلینڈ کے خلاف 84 کی عمدہ اننگز اور اوئن مورگن کی اہم وکٹ حاصل کرکے ون ڈے انٹرنیشنل میں 19 ویں مرتبہ مین آف دی میچ بنے ہیں کہتے ہیں کہ جب وہ بیٹنگ کے لیے گئے تو یہی سوچ رہے تھے کہ اگر ہم نے اس میچ میں تین سو چالیس تک کا اسکور کرنا ہے تو اس کے لیے ایک خاص رفتار سے بیٹنگ کرنی ہوگی ا س لیے انہوں نے شروع سے ہی جارحانہ کرکٹ کھیلنے کی کوشش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انگلینڈ کے جو روٹ ورلڈ کپ 2019 کی پہلی سنچری بنانے والے کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا

محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ ان کی بابراعظم کے ساتھ شراکت بہت اہم تھی جس نے ٹیم کی پوزیشن مستحکم کی اس صورتحال کو ٹیم نے برقرار رکھا اور کپتان سرفراز احمدنے بھی عمدہ بیٹنگ کی۔

محمدحفیظ کا کہنا ہے کہ اس پچ کے بارے میں بہت باتیں ہورہی تھیں کہ یہ چار سو رنز کی پچ ہے لیکن پاکستانی ٹیم کو یہ لگ رہا تھا کہ اگر وہ تین سو چالیس رنز بنا لیتی ہے تو اس کی بولنگ اس قابل ہے کہ وہ اس اسکور کا دفاع کرسکتی ہے۔ اس پچ میں بولرز خاص کر اسپنرز کے لیے مدد موجود تھی۔

محمد حفیظ کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو اپنے بولنگ یونٹ پر کام کرنا ہے جبکہ فیلڈنگ میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں