کرکٹ ورلڈ کپ 2019: پاکستان اور انگلینڈ کے میچ کی یادیں اور ’10 وکٹوں‘ کا سوال

اسد حسنین (درمیان میں) اپنے دوستوں کے ہمراہ تصویر کے کاپی رائٹ Assad Hasnain
Image caption پاکستانی شائقین 'عامر، عامر' کے نعرے لگاتے تو پیچھے انگلش سپورٹر 'نو بال، نو بال' کہہ کر مذاق اڑاتے: اسد حسنین (درمیان میں) اپنے دوستوں کے ہمراہ

پاکستان کی ٹیم کی ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں بری طرح شکست کے بعد مداحوں میں بہت مایوسی چھا گئی تھی اور خاص کر ان میں جو ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے خاص کر پاکستان یا دوسرے ممالک سے آئے ہیں۔ انھیں مداحوں میں اسد حسنین بھی شامل ہیں جو ورلڈ کپ کی میچز کے لیے امریکہ سے انگلینڈ آئے ہیں۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ اب تک صرف دو میچوں کے دوران ان پر کیا گزری ہے۔ ان کی کہانی انھی کی زبانی۔۔۔

اکثر میرے دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم اس تکلیف دہ کھیل پہ آج تک اتنا وقت کیوں ضائع کر رہے ہو؟ یعنی یہ کوئی سپورٹ کرنے والی ٹیم ہے؟

دراصل پاکستان کرکٹ ایک طویل کہانی کی مانند ہے۔ اس کہانی میں تکلیفیں زیادہ ہیں مگر صبر کرنے والوں کو کبھی کبھی ایک ایسی یادگار جیت مل جاتی ہے جو مداحوں کو اپنی طرف کھینچتی جاتی ہے۔

پیر کی رات ایک عجیب سی بے بسی تھی۔

بنگلہ دیش کو جیتتے دیکھ کر خوشی بھی ہوئی تھی، لیکن ایک تکلیف بھی کہ ہماری اپنی ٹیم اس قابل کیوں نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھیے

’آ گیا وہ سرفراز جس کا ہمیں انتظار تھا‘

پاکستانی ٹیم پر تنقید میں ذاتیات کا عمل دخل کتنا ہے؟

’ایک دوسرے کو اپنی اچھی پرفارمنسز یاد دلائیں‘

ویسے پچھلی گیم جیسی خواری کبھی کسی کو نصیب نہ ہو۔ تین گھنٹے سفر کر کے ٹرینٹ برج پہنچے تو ایک گھنٹے میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے معاملہ ہی ختم کر دیا۔ اُس دن تو پاکستان کی شرٹس پہن کر لندن میں گھومتے ہوئے شرم آ رہی تھی، کہ کہیں کوئی دیکھ کر مذاق نہ اڑانے لگے۔

مگر اتنا برا کھیل پیش کرنے کے بعد شاید ہمارے کھلاڑیوں کا بےشرمی کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا تھا۔ شاید ہم فینز کو اس سے زیادہ نہیں تڑپایا جا سکتا تھا۔

ورلڈ کپ 2019 کے حوالے سے بی بی سی کا خصوصی ضمیمہ

اگلے دن تین گھنٹے سفر کر کے لندن سے ناٹنگھم جانا تھا۔ زبردستی خود کو تسلیاں دیں کہ اب بھی چانس ہے۔ تین گھنٹے سونے کے بعد ناٹنگھم کا سفر شروع کیا۔ راستے میں کچھ پاکستانی فینز کی گاڑیاں نظر آئیں مگر شکلوں پر پہلے ہی مایوسی نظر آرہی تھی۔

جب سٹیڈیم کے قریب پہنچے تو پتا چلا کہ پہلے بیٹنگ آ گئی ہے۔ اچھی بات یہ تھی کہ گیم کے پہلے حصے میں دھوپ تھی اور انگلینڈ کی بیٹنگ کے دوران بادلوں کا امکان تھا۔ قومی ترانہ شروع ہوا تو پاکستانی شائقین کی آوازیں کچھ دھیمی لگ رہی تھیں۔

شروع کے اوورز میں بیٹنگ تگڑی رہی۔ صاف ظاہر تھا کہ ویسٹ انڈیز کی گیم کے بعد انگلینڈ بھی شارٹ بولنگ کی ترکیب استعمال کر رہا تھا۔

ویسے تو فخر زمان کی بیٹنگ دیکھنے میں کبھی بھی زیادہ حسین نہیں لگتی۔ آج بھی کچھ یہی قصہ تھا۔ ہر دوسری گیند پر ٹانگ پیچھے کر کے ایک عجیب بےڈھنگی سی شاٹ کھیلنے کی کوشش کرتے تھے۔

کسی نہ کسی طرح رنز بننے شروع ہو گئے۔ بیچ میں لگا امام الحق گھبرا گئے ہیں لیکن آگے نکل کر ایک زور دار چھکا لگایا اور ہماری جان میں جان آئی۔ سچ کہا جائے تو مجھے محمد حفیظ کی بیٹنگ سے کوئی خاص لگاؤ نہیں ہے، لیکن اس روز وہ گراؤنڈ میں داخل ہوتے ہی دلیری سے کھیلے۔ ایک چھکا خصوصاً لیگ سائیڈ کی طرف اتنے پرسکون طریقے سے لگایا تھا کہ سعید انور کی یاد آ گئی۔

اننگز بریک میں عثمان سمیع الدین (کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے سینئر ایڈیٹر) سے ملاقات ہوئی اور زندگی کی ایک اور دیرینہ خواہش پوری ہوگئی۔ عثمان کا خیال تھا کہ پِچ میں تھوڑا سپن ہے۔ دل ہی دل میں میں بھی تھوڑی امید لگائے بیٹھا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سرفراز احمد اگر عمران خان بن گئے تو۔۔۔

گیارہ ناکامیوں کو پہلی جیت میں بدلنے کی امید

اعتماد دینے والی تین وکٹیں

لیکن اگلے تین گھنٹے میں جو ہوا وہ کسی خواب سے کم نہیں تھا۔ عامر کی بولنگ پر پاکستانی شائقین ’عامر، عامر‘ کے نعرے لگاتے تو پیچھے انگلش سپورٹر 'نو بال، نو بال' کہہ کر مذاق اڑاتے۔

Image caption اننگز بریک میں عثمان سمیع الدین سے ملاقات ہوئی اور زندگی کی ایک اور دیرینہ خواہش پوری ہوگئی

وہاب ریاض سے تو ہمیشہ یہ ڈر لگتا ہے کہ انھیں کبھی بھی 10 اوورز میں 100 رنز پڑ سکتے ہیں۔ وہاب نے رنز تو کافی دیے لیکن بیرسٹو کو آؤٹ کر کے ہماری اگلی سات نسلوں پر احسان کر دیا۔

بٹلر اور روٹ نے آخر تک ہمیں ترسایا۔ ہم یہ جانتے تھے کہ اگر یہ دونوں آخر تک کھیل گئے تو گیم تو ہم ہاریں گے ہی، ہمارا پورا انگلینڈ کا سفر بھی ایک دکھ بھری داستان بن جائے گا۔

لیکن شکر ہے ایسا نہیں ہوا۔ آخری لمحات کے مناظر ایسے تھے جو شاید بڑھاپے تک ساتھ رہیں گے۔

میچ کے اگلے دن بھی سٹیڈیم کے باہر سڑکوں پر پاکستانی شائقین بھنگڑے ڈال رہے ہیں اور ہم اب لندن واپسی کا سفر شروع کر رہے ہیں۔

شاید اظہر محمود سچ ہی کہتے تھے، بس صرف 10 وکٹیں لینے کی بات تھی۔

انگلینڈ میں کرکٹ دیکھنا ایک الگ ہی تجربہ ہے۔ مزیدار سی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے اور سامنے ہرے بھرے گراؤنڈ پر کرکٹر دوڑتے نظر آتے ہیں تو سمجھ آ جاتی ہے کہ کرکٹ متحدہ عرب امارات کے ریگستانوں میں کھیلنے کے لیے نہیں بنائی گئی تھی۔

اسی بارے میں