کرکٹ ورلڈ کپ 2019: پاکستانی کرکٹر آصف علی کو یقین تھا کہ انھیں ورلڈ کپ میں کھیلنے کا موقع ضرور ملے گا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
میرا کام جارحانہ بیٹنگ سے ٹیم کو فائدہ پہنچانا ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین آصف علی کے لیے پچھلے چند ماہ بہت تکلیف دہ تھے کیونکہ ان کی ڈیڑھ سالہ بیٹی کینسر کے مرض میں مبتلا تھیں جو بعد میں انتقال کرگئیں۔

آصف علی آج بھی اپنی بچی کا غم نہیں بھلا سکے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اپنی اس ذمہ داری سے بھی غافل نہیں ہوئے جو انھیں پاکستانی بیٹنگ کو مستحکم کرنے کی صورت میں ملی ہے۔

آصف علی نے بدھ کے روز برسٹل گراؤنڈ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی پریکٹس کے دوران بی بی سی اردو کے سوال سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان سوپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوران بیٹی کی بیماری کا پتا چلا تھا۔

اس مشکل صورتحال میں ان کی فیملی اور ان کے مینیجر طلحہ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ بچی کو لے کر علاج کے لیے امریکہ بھی گئیں تاہم وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے جو بھی کیا وہ ان کی بیٹی کی بہتری کے لیے کیا۔

مزید پڑھیں

’دوست پوچھتے ہیں کہ یہ کوئی سپورٹ کرنے والی ٹیم ہے؟‘

#CWC19: ’جلدی آؤٹ ہو جاؤں تو خود کو کوستا ہوں‘

#CWC19: انگلینڈ کے میدانوں سے جڑی اچھی بری یادیں

آصف علی ٹیم میں اپنے رول کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہیں ٹیم میں اسی لیے رکھا گیا ہے کہ وہ جارحانہ بیٹنگ کریں اپنا نیچرل گیم کھیلیں اور ان کے رنز ٹیم کے کام آئیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ملک کی نمائندگی نصیب والوں کو ملتی ہے۔‘

آصف علی کا کہنا ہے کہ انھیں انگلینڈ کے خلاف حالیہ سیریز میں ایسی صورتحال میں بھی بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا جب کافی اوورز باقی تھے۔ انھوں نے اس سیریز میں دو نصف سنچریاں بنائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آصف علی آج بھی اپنی بچی کا غم نہیں بھلاسکے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اپنی اس ذمہ داری سے بھی غافل نہیں ہوئے جو انھیں پاکستانی بیٹنگ کو مستحکم کرنے کی صورت میں ملی ہے

وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے کریئر کی ابتدا اوپنر کی حیثیت سے کی تھی لیکن اب وہ کسی بھی پوزیشن پر کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آصف علی کے خیال میں اننگز کے آخری حصے میں جا کر جارحانہ بیٹنگ کرنا مشکل نہیں ہے البتہ اگر بیٹنگ کے لیے انھیں زیادہ اوورز میسر ہوں تو وہ ان کے لیے نسبتاً آسان ہے۔

آصف علی ورلڈ کپ کے پہلے اعلان کردہ سکواڈ میں شامل نہیں تھے لیکن انگلینڈ کے خلاف ایک روزہ میچوں کی سیریز میں دو اچھی اننگز نے ان کی ورلڈ کپ کی ٹیم میں شمولیت یقینی بنا دی۔

کرکٹ ورلڈ کپ پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

آصف علی کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں زیادہ نہیں سوچ رہے تھے۔ انہیں یہ پتا تھا کہ اگر ورلڈ کپ ان کے نصیب میں لکھا ہوا ہے تو وہ اس میں ضرور کھیلیں گے۔

آصف علی کو اس بات سے قطعاً پریشانی نہیں ہے کہ ان پر ہارڈ ہٹر کی چھاپ لگا دی جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا کام ہر صورتحال میں کوچ اور کپتان کے پلان کے مطابق کھیلنا اور ٹیم کے کام آنا ہے۔

اسی بارے میں