کرکٹ ورلڈ کپ 2019: ’دھونی کے دستانوں کے معاملے میں ہر قیمت پر ان کا ساتھ دیں گے‘

دھونی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کے انڈین فوجی یونٹ کے نشان والے گلوز پر آئی سی سی کے اعتراض کے بعد انڈین وزیر کھیل نے دھونی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

انڈین سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹر یا سی او اے کی رکن ڈیانا اڈولجی کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں یہ کمیٹی کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہے اور ہر قیمت پر دھونی کا ساتھ دیں گے۔

صحافیوں نے جب اڈولجی سے پوچھا کہ کیا اس بارے میں دھونی سے کوئی بات ہوئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ دھونی کو اس معاملے میں لانے کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے کہا ’ہم نے آئی سی سی کو اس بارے میں خط لکھا ہے اور امید ہے کہ اگلے میچ سے پہلے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

کوہلی اور دھونی میں فرق

ورلڈ کپ: ’کوہلی کو دھونی کا ساتھ چاہیے‘

کرکٹ ورلڈ کپ 2019: انگلینڈ کو ہرانے کے لیے پاکستان اور انڈیا کے کی ’ڈریم ٹیم‘

کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹر یا سی او اے کے چیئرمین ونود رائے کا کہنا ہے کہ ’آئی سی سی کی ضابطے کے مطابق کھلاڑی کسی مذہبنی، فوجی یا کمرشل اہمیت کی علامت یا نشان کو نہیں پہن سکتے۔‘

انھوں نے کہا ’لیکن دھونی کے کیس میں یہ مخصوص نشان ان میں سے کسی بھی چیز سے وابسطہ نہیں ہے اس لیے ہم آئی سی سی سے کہیں گے کہ اسے ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر پھر بھی انھیں لگتا ہے کہ یہ ضابطے کی خلاف ورزی ہے تو ہم اجازت لے لیں گے جیسا ہم نے (ملٹری سٹائل) کیمو فلاج ٹوپیوں کے معاملے میں لی تھی۔‘

انڈیا کے وزیر کھیل کرن رِجِجو نے کہا کہ یہ معاملہ ملک کے جذبات سے جڑا ہوا ہے اور بی سی سی آئی سے درخواست کی کہ وہ اس بارے میں آئی سی سی سے بات کرے۔

ادھر پاکستان کے وزیر فواد چوہدری نے اس پورے معاملے میں انڈیا کے ردعمل پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے ٹویٹ کی تھی کہ ’دھونی انگلینڈ میں کرکٹ کھیلنے گئے ہیں مہا بھارت کے لیے نہیں گئے۔ انڈین میڈیا میں اس بارے میں کتنی احمقانہ بحث جاری ہے۔ انڈین میڈیا کا ایک طبقہ جنگ کے بارے میں اتنا پرجوش ہے کہ انھیں شام، افغانستان یا روانڈا بھیج دیا جانا چاہیے۔‘

فواد چوہدری کی اس ٹویٹ پر انڈین ٹوئٹر پر شدید غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے مہندر سنگھ دھونی کو کی گئی ہدایت کے بعد کہ وہ اپنے دستانوں سے انڈین فوجی یونٹ کا نشان (لوگو) ہٹا دیں، انڈین عوام اپنے کپتان کی حمایت میں سامنے آ گئے تھے۔

دھونی انڈیا میں ٹیریٹوریل آرمی نامی ایک ریزرو فورس کے ممبر ہیں اور ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں انھوں نے اس یونٹ کے مخصوص نشان (لوگو) سے مزین دستانے پہنے تھے۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ضابطے کی خلاف ورزی ہے مگر ایسا کرنے پر انھیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔

آئی سی سی کے اس فیصلے کے بعد ہزاروں جذباتی انڈین فینز نے اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔

یہ مخصوص نشان کمانڈو کے خنجر کو ظاہر کرتا ہے اور اس کو انڈیا میں 'بلی دان' (قربانی) بیج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب دھونی نے جنوبی افریقہ کے خلاف انڈیا کے ورلڈ کپ 2019 کے پہلے میچ میں اس نشان والے دستانے پہنے تھے تو بڑی تعداد میں عوام نے انھیں سراہا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ آئی سی سی کا اس حوالے سے فیصلہ انڈین عوام کو اتنا پسند نہیں آیا۔

انڈیا میں ٹویٹر پر ٹرینڈ ہیش ٹیگ ’دھونی کیپ دی گلووز‘ کافی مقبول رہا۔

ایک ٹویٹر صارف نے کہا پوری قوم آپ (دھونی) کے ساتھ کھڑی ہے، یہ دستانے ہرگز نہ اتاریں۔

بہت سے لوگوں نے بتایا کہ کیسے انھیں دھونی اور انڈین فوج پر فخر محسوس ہوا۔ کئی افراد نے آئی سی سی کو مشورہ بھی دے ڈالا کہ وہ اپنی توجہ امپائرنگ پر مرکوز کریں۔ امپائرنگ کی بات جمعرات کو آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے میچ کے دوران بلے باز کرس گیل کو تین گیندوں پر دو مرتبہ غلطی سے آؤٹ دینے کے تناظر میں کی گئی۔

ایک اور ٹویٹر صارف کا کہنا تھا ’ڈیئر آئی سی سی۔۔۔ بلی دان کا مطلب قربانی ہے، جو کہ انڈین نیم فوجی فورسز کا نصب العین ہے۔‘

ایک صارف نے آئی سی سی کو مشورہ دیا کہ زیادہ اہم چیزوں پر توجہ دیجیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایسا پہلی بار نہیں کہ دھونی اپنے فوجی پسِ منظر کو کرکٹ میں شامل کرنے پر تنازع کی زد میں آئے ہیں۔

مارچ کے مہینے میں انھوں نے اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں میں ملٹری سٹائل کیمو فلاج ٹوپیاں بھی تقسیم کی تھیں اور بعد ازاں ایک بین الاقوامی میچ میں انڈین کرکٹ ٹیم نے وہ ٹوپیاں پہنی بھی تھیں۔ دھونی نے ایسا انڈین فوج کو پلوامہ حملے کے بعد خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کیا تھا۔ پلوامہ حملہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پیش آیا تھا جس میں انڈین نیم فوجی دستے کے 40 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد قومی جذبات بہت بھڑکے تھے اور انڈیا اور پاکستان باقاعدہ جنگ کے دھانے پر پہنچ گئے تھے۔

پاکستان نے انڈیا کی کرکٹ ٹیم پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ کھیل کو 'سیاست زدہ' کر رہے ہیں۔ پاکستان نے آئی سی سی سے کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

تاہم آئی سی سی کا کہنا تھا کہ انڈیا نے وہ ٹوپیاں ان کی اجازت کے بعد پہنی تھیں۔ مگر پھر بھی اس پر بحث ہوئی اور کافی لوگوں نے یہ نشاندہی کی کہ ماضی میں آئی سی سی نے کھلاڑیوں کی بین الاقوامی میچوں میں سیاسی جذبات کے اظہار پر سرزنش کی تھی۔

مگر اس مرتبہ آئی سی سی کے اعتراض کی نوعیت تکنیکی ہے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ قواعد و ضوابط کے مطابق وکٹ کیپنگ کے دستانوں پر دو نشانوں (لوگوز) کے علاوہ اور کچھ نہیں ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں