ورلڈ کپ 2019: آسٹریلیا سے شکست کے اسباب، تینوں شعبوں میں غلطیاں

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرفراز احمد کہتے ہیں کہ بیٹسمین اپنی اننگز کو بڑے سکور میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اگر محمد حفیظ اور امام الحق کی بڑی پارٹنر شپ قائم ہوجاتی تو صورتحال مختلف ہوتی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے آسٹریلیا کے خلاف میچ میں شکست کے جن اسباب کی نشاندہی کی ہے ان میں کھیل کے تینوں شعبوں یعنی فیلڈنگ، بیٹنگ اور بولنگ میں سرزد ہونے والی غلطیاں شامل ہیں۔

سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ فیلڈنگ مطلوبہ معیار کی نہیں تھی، بلے باز سیٹ ہو کر آؤٹ ہوئے جبکہ بولرز نے پہلے پندرہ اوورز میں اچھی بولنگ نہیں کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اہم ٹاس جیتے کیونکہ صبح کے وقت وکٹ فاسٹ بولرز کے لیے مدد گار تھی تاہم محمد عامر کے سوا دیگر بولرز نے صحیح جگہ بولنگ نہیں کی اور کافی رنز دیے۔

مزید پڑھیے

بڑے میچ کا بڑا بولر

’امام الحق ایسے کیوں کھیلتے ہیں؟‘

ورلڈ کپ پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

سرفراز کے مطابق یہ وکٹ 270، 280 کی تھی لیکن پاکستانی ٹیم نے زیادہ رنز دے ڈالے۔

انھوں نے کہا کہ بیٹسمین اپنی اننگز کو بڑے سکور میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اگر محمد حفیظ اور امام الحق کی بڑی پارٹنر شپ قائم ہو جاتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔ اگر بیٹسمین سیٹ ہو کر اپنی اننگز کو طول نہیں دیں گے تو بہت مشکل ہو جائے گی۔ پندرہ گیندوں پر تین وکٹوں کا گرنا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

سرفراز احمد کہتے ہیں کہ دونوں ٹیموں میں پاکستانی ٹیم نے زیادہ غلطیاں کیں جس کی وجہ سے اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرفراز احمد نے شعیب ملک کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ سینئر کرکٹر ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان کا تجربہ آئندہ میچوں میں کام آئے گا

انھوں نے تسلیم کیا کہ فیلڈنگ اچھی نہیں تھی اور فیلڈرز نے کافی رنز دیے۔ اگر بڑی ٹیموں سے میچز جیتنے ہیں تو ان غلطیوں سے دور رہنا ہو گا۔ ایسی غلطیوں میں انڈیا کی ٹیم کبھی بھی آپ کو میچ نہیں جیتنے دے گی۔

پاکستانی کپتان نے شعیب ملک کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ سینئر کرکٹر ہیں اور انھیں امید ہے کہ ان کا تجربہ آئندہ میچوں میں کام آئے گا۔

سرفراز احمد نے لیگ اسپنر شاداب خان کو نہ کھلانے کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ کنڈیشنز دیکھ کر چار فاسٹ بولرز کے ساتھ کھیلنے اور بیٹنگ پر کوئی بھی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ آسٹریلیا نے بھی چار فاسٹ بولرز کے ساتھ یہ میچ کھیلا۔

محمد عامر کیا کہتے ہیں؟

فاسٹ بولر محمد عامر کا کہنا ہے کہ انہیں خوشی ہے کہ انہوں نے اپنا پہلا ون ڈے انٹرنیشنل سنہ 2009 میں کھیلا تھا اور آج پہلی بار وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور وہ بھی ورلڈ کپ کے میچ میں، لیکن زیادہ خوشی اس وقت ہوتی جب پاکستانی ٹیم یہ میچ جیت جاتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمد عامر کا کہنا ہے کہ ہمارے بولرز نئی گیند کے ساتھ پہلے 15 اوورز میں صحیح ایریاز میں بولنگ نہ کر سکے اگر وہ کر لیتے تو آسٹریلیا کو 250، 260 رنز تک روک سکتے تھے

محمد عامر کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے پہلا اوور کیا تو انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اس وکٹ پر گیند سوئنگ نہیں بلکہ سیم ہو رہی تھی لہذا انہوں نے گیند آگے کی جہاں سے گیند اندر بھی آ رہی تھی اور باہر بھی نکل رہی تھی۔

محمد عامر کا کہنا ہے کہ ہمارے بولرز نئی گیند کے ساتھ پہلے 15 اوورز میں صحیح ایریاز میں بولنگ نہ کر سکے اگر وہ کر لیتے تو آسٹریلیا کو 250، 260 تک روک سکتے تھے۔

اسی بارے میں