ورلڈ کپ 2019 کا بڑا میچ: کیا پاکستان انڈیا کو مانچیسٹر میں ہرا پائے گا؟

پاکستان انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایسا ممکن نہیں کہ کرکٹ ورلڈ کپ کا مقابلہ ہو اور انڈیا پاکستان میچ سے قبل دونوں ممالک کے شائقین اور میڈیا کو اس میں دلچسپی نہ ہو۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے مداح جہاں انڈیا کو ہرا کر ورلڈ کپ کی تاریخ تبدیل کرنے لیے پر عزم ہیں وہیں انڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو یہ یقین ہے کہ ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف ان کی فتوحات کا سلسلہ برقرار رہے گا۔

پاکستان اور انڈیا دو ایسے حریف ہیں جن کے مابین قومی سطح پر سیاسی کشیدگی گذشتہ چند ماہ میں پلوامہ حملے کے بعد اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اس کی جھلک ہمیں 16 جون کو مانچیسٹر میں ہونے والے کرکٹ میچ سے قبل سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہی ہے اور تو اور میڈیا بھی جیت کے عزم پر مبنی اشتہارات تواتر سے چلا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’پاکستان کا کوہلی‘ اور ’انڈیا کا عامر‘ کون

پاکستانی اشتہار میں ابھینندن کے مذاق پر انڈین شائقین ناراض

کرکٹ ورلڈ کپ 2019: انگلینڈ کو ہرانے کے لیے پاکستان اور انڈیا کے کی ’ڈریم ٹیم‘

’یہ غلطیاں انڈیا کی خلاف دہرائیں تو ہار جائیں گے‘

ماضی میں تجزیہ کار اس بات پر کاربند رہے ہیں کہ میچ سے قبل بے شک انڈیا اور پاکستان کی ٹیموں کے معیار میں ایک واضح فرق ہو مگر دونوں ٹیموں پر دباؤ ہونے کے پیش نظر میچ کے آغاز پر ان کے بیچ موازنہ کرنا خاصا مشکل ہوجاتا ہے۔ میچ میں وہی ٹیم فتح یاب ہوتی ہے جو اس دباؤ سے بہتر انداز میں نبرد آزما ہو۔

البتہ اس مرتبہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کی ٹیموں کے درمیان ایک واضح خلیج پائی جاتی ہے اور پوائنٹس ٹیبل پر اگر نظر ڈالی جائے تو پاکستان تین پوائنٹس کے ساتھ آٹھویں نمبر پر ہے جبکہ انڈیا تیسرے نمبر پر۔

پاکستان کا نیٹ رن ریٹ بھی قدر کم ہے جس کی وجہ سے یہ میچ بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پاکستان کو اگر ورلڈ کپ کے سیمی فائنل مراحل کے لیے کوالیفائی کرنا ہے تو انھیں انڈیا کو ہرانا ہوگا۔

انڈیا سے تعلق رکھنے والے کرکٹ تجزیہ کار ناگراج گولاپوڑی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان پر یقیناً زیادہ دباؤ ہوگا کیونکہ پاکستان نے کبھی بھی انڈیا کو ورلڈ کپ میں شکست نہیں دی اور یہ بات ان کے ذہنوں میں نقش ہوچکی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرکٹ ورلڈ کپ میں ماضی کے میچوں میں انڈیا اور پاکستان چھ بار مد مقابل آچکے ہیں اور تمام میچوں میں انڈیا کو ہی کامیابی حاصل ہوئی۔

کرکٹ ورلڈ کپ فاتح ٹیم فتح کا مارجن
1992 سڈنی، آسٹریلیا انڈیا 43 رنز
1996 بینگالورو، انڈیا انڈیا 39 رنز
1999 مانچیسٹر، انگلینڈ انڈیا 47 رنز
2003 سینچورین، جنوبی افریقہ انڈیا 6 وکٹس
2011 موہالی، انڈیا انڈیا 29 رنز
2015 ایڈیلیڈ، آسٹریلیا انڈیا 76 رنز

کرکٹ تجزیہ کار حسن چیما کا کہنا تھا کہ سنہ 2003 کے بعد سے اگر دیکھا جائے تو پاکستانی ٹیم کے کھیل کے معیار میں بتدریج کمی دیکھی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجربے کی بنیاد پر البتہ چیمپیینز ٹرافی کی نسبت پاکستانی ٹیم اب بہتر ہے۔

90 اور 2000 کی دہائی والی پاکستانی کرکٹ ٹیم بہت شاندار تھی مگر پاکستان اس کے باوجود بھی انڈیا کو ورلڈ کپ میں شکست نہ دے پایا۔ ہم نے جب تواتر سے ہونے والے اس سوال کو حسن چیما کے سامنے دہرایا کہ اُن میچوں میں لگاتار شکست کی کیا وجہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان میچوں میں دباؤ میں اچھا کھیل نہیں پیش کر سکا جس کی وجہ سے وہ آج تک ورلڈ کپ میں انڈیا کو نہیں ہرا پایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

سرفراز یا کوہلی، بہتر کپتان کون؟

کپتان سرفراز احمد نے پاکستان کو چیمپینز ٹرافی ایک ایسے وقت میں جتوائی جب کوئی بھی تجزیہ کار یا پنڈت ان کے جیتنے کی پیشن گوئی نہیں کر رہا تھا۔ پاکستان اس وقت آئی سی سی کی ایک روزہ درجہ بندی میں آٹھویں نمبر پر تھا۔ اس غیر متوقع جیت کے بعد سے اگر بیٹنگ کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو سرفراز کی کارکردگی خاصی مایوس کُن رہی ہے۔

کھلاڑی بیٹنگ اوسط بیٹنگ سٹرائیک ریٹ
سرفراز احمد 30.89 89.48
ویرات کوہلی 81.38 98.65

سرفراز اور کوہلی اپنی اپنی ٹیموں کے لیے ایک مخصوص درجے پر بیٹنگ کرنے آتے ہیں۔ ویرات کوہلی ایک عرصہ دراز سے نمبر تین پر اپنی جگہ مستحکم کر چکے ہیں مگر سرفراز نے گذشتہ دو سالوں میں ایک درجے پر بیٹنگ نہیں کی حتی کہ اپنی بیٹنگ پوزیشن بدلتے رہے۔ بیٹنگ اوسط میں اس خلیج کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ سرفراز چھٹے یا ساتویں نمبر پر باری لینے آتے تھے۔

کرکٹ جس ارتقائی عمل سے گزری ہے اس لحاظ سے سرفراز کی بیٹنگ اوسط جدید کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ سرفراز احمد جس درجے پر بیٹنگ کرنے آتے ہیں اس اعتبار سے ان کا سٹرائک ریٹ بھی کم ہے۔

البتہ گذشتہ دو برسوں میں جو بات زیادہ پریشان کُن رہی وہ سرفراز کا کم اننگز کھیلنا اور دوسروں کو اپنے سے اوپر بلے بازی کے لیے بھیجنا ہے۔ سرفراز نے گذشتہ دو برسوں میں 34 میچ کھیلے جبکہ صرف 26 اننگز میں ان کو بیٹنگ کا موقع ملا۔

تجزیہ کار حسن چیما کی رائے میں اس حوالے سے فکر مند ہونے کا وقت اب چلا گیا ہے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ’سرفراز نے اب تک ورلڈ کپ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی بیٹنگ اوسط سے زیادہ سکور بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔‘

انڈیا سے تعلق رکھنے والے کرکٹ تجزیہ کار ناگراج گولاپوڑی کے مطابق سرفراز اور کوہلی کا بیٹنگ میں موازنہ کرنا جائز بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ویرات دنیا کے بہترین بلے باز ہیں اسلیے یہ جائز نہیں کہ ان کا موازنہ سرفراز سے کیا جائے۔ پر میری رائے میں تکنیکی اعتبار سے سرفراز کوہلی سے بہتر کپتان ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سٹیو رکسن

پاکستانی فیلڈنگ کو آخر ہو کیا گیا ہے؟

پاکستان کی فیلڈنگ اس ورلڈ کپ میں خاصی مایوس کُن رہی ہے۔ اب تک کھیلے گئے میچوں میں پاکستان نے اوسطاً ہر میچ میں دو کیچ ڈراپ کیے ہیں۔ حسن چیما کے مطابق پاکستانی فیلڈنگ میں 2016 سے 2018 کے درمیان خاصی بہتری دیکھنے میں آئی تھی جس کی بنیادی وجہ سٹیو رکسن کی بطور فیلڈنگ کوچ تعیناتی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2018 کے بعد سٹیو رکسن کے ساتھ کام جاری نہیں رکھا جو حسن چیما کے بقول بورڈ کی ایک بہت بڑی غلطی تھی۔

ناگراج گولاپوڑی نے بھی پاکستانی فیلڈنگ کے معیار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میں بہت حیران ہوں کہ پاکستان کی فیلڈنگ اتنی مایوس کُن رہی ہے اس کے باوجود کے وہاں فٹنس کا معیار انڈیا کی نسبت کافی زیادہ ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال قبل جب انھوں نےدونوں ممالک کا ’یو یو ٹیسٹ‘ کا موازنہ کیا تب پاکستان انڈیا سے قدرے بہتر تھا۔ ’میرا خیال ہے کہ پی ایس ایل میں فیلڈنگ کا ابھی وہ معیار نہیں متعین ہوا جو کہ آئی پی ایل میں ہے جو اس خراب فیلڈنگ کا باعث بن سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیا مقابلہ اب بھی پاکستان کی بولنگ اور انڈیا کی بیٹنگ کا ہوگا؟

گذشتہ دو دہائیوں سے پاکستان اور انڈیا کے مابین کھیلے جانے والے تمام میچوں سے قبل سابق کرکٹرز اس کو پاکستان کی بولنگ اور انڈیا کی بیٹنگ کے درمیان ایک ٹاکرا تصور کیا کرتے تھے۔

البتہ اعداد و شمار یہ ضرور بتاتے ہیں کہ انڈیا کی بولنگ اب دنیا میں موثر ترین بولنگ لائن اپس میں سے ایک ہے۔

ہم نے پاکستان اور انڈیا کے ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل پانچ بہترین بولرز کا گذشتہ دو برس کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا۔

انڈیا بولنگ اوسط پاکستان بولنگ اوسط
جسپریت بمرا 20.18 شاداب خان 26.15
کلدیپ یادو 22.64 شاہین شاہ آفریدی 26.26
یوزویندرا چاہل 25.11 حسن علی 34.48
محمد شامی 30.19 محمد عامر 39.06
بھونیشور کمار 30.70 وہاب ریاض 41.50

اس ٹیبل سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کے ابتدائی بولرز پر وکٹس کے لیے زیادہ انحصار نہیں کیا جاسکتا۔ شاہین آفریدی کے علاوہ بولنگ کا آغاز کرنے والے کسی بھی بولر کی اوسط 30 سے کم نہیں۔

انڈیا کی بیٹنگ لائن اپ تو کافی عرصے سے مضبوط ترین تصور کی جاتی رہی ہے مگر اوپر دیے گئے اعداد و شمار ہمیں اب یہ بھی باور کراتے ہیں کہ انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کی بولنگ اب اُتنی موثر نہیں رہی جتنا ماضی میں تھی۔

ناگراج گولاپوڑی نے کہا کہ انڈیا کو جسپریت بمرا جیسے دنیا کے بہترین بولر کی خدمات حاصل ہیں مگر انھوں نے سپنرز کے حوالے سے کہا ’پاکستان کے پاس شاداب کے علاوہ کوئی بھی ورلڈ کلاس سپنر نہیں جس کی کمی انہیں اس لائن اپ میں یقیناً ہوگی۔‘

کیا پاکستان اس بار انڈیا کو ورلڈ کپ میں ہرا پائے گا؟

تجزیہ کار حسن چیما کے مطابق آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے گذشتہ میچ میں شاداب خان کو ٹیم سے باہر رکھنا ایک بہت بڑی غلطی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے اگر اتوار کے روز کھیلے جانے والے میچ کے لیے ٹیم کا انتخاب کرنا ہو تو میں شعیب ملک کی جگہ شاداب کو ٹیم میں لے کر آؤں اور شاہین آفریدی کی جگہ عماد وسیم کو ٹیم میں شامل کروں۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان اس بار تاریخ بدل پائے گا اور انڈیا کو ہرا دے گا؟ حسن چیما کا کہنا تھا کہ ’امید پر دنیا قائم ہے۔‘

ناگراج گولا پوڑی کے مطابق پاکستانی بلے باز بابر اعظم انڈیا کے لیے بہت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فتح یاب وہی ٹیم ہوگی جو میچ والے دن دباؤ کو بہتر انداز میں جھیل پائے گی۔

اسی بارے میں