پاکستان بمقابلہ انڈیا: وراٹ کوہلی کہتے ہیں ’بولر کوئی بھی ہو مجھے صرف سرخ اور سفید گیند ہی نظر آتی ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
وراٹ کوہلی

ذہین کرکٹرز کو یہ اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ان سے کیے گئے سوال کا پس منظر اور مقصد کیا ہے اور وہ اسی مناسبت سے جواب بھی دیتے ہیں۔

وراٹ کوہلی سے زیادہ ذہین کرکٹر اور کون ہوسکتا ہے؟ جو ایک ایسے ملک کی ٹیم کے کپتان ہیں جہاں کرکٹ کا جنون کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ ہے اور جس کا میڈیا اپنے کرکٹرز کے اعصاب کا امتحان لینے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔

وراٹ کوہلی سنیچر کے روز جب اولڈ ٹریفرڈ میں پریس کانفرنس کے لیے آئے تو ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے اور فاسٹ بولر محمد عامر کے درمیان مقابلے پر بھی سب کی نظریں رہتی تھیں جیسا کہ چیمپینز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر ونر تھے۔

وراٹ کوہلی نے اس کا جواب یوں دیا ’میں یہاں آکر نہ تو ٹی آر پی کے لیے بولنا چاہتا ہوں اور نہ ہی کوئی چونکا دینے والی خبر دینا چاہتا ہوں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں میرے سامنے کوئی بھی بولر ہو مجھے صرف سرخ اور سفید گیند ہی نظر آتی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’پاکستان کا کوہلی‘ اور ’انڈیا کا عامر‘ کون

ایک سال میں تین وکٹیں، پرانا عامر کہاں گیا

’محمد عامر دنیا کے مشکل ترین بولر ہیں‘

’میرے دماغ میں کسی بولر کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ جس بولر میں بھی مہارت ہوتی ہے اس کی عزت کرنی پڑتی ہے جیسا کہ میں نے جنوبی افریقہ کے دورے میں ربادا کی تعریف کی تھی۔ دنیا میں جو اچھے بولرز ہیں ان کی صلاحیتوں کے بارے میں آپ کو پتہ ہونا چاہیے لیکن ساتھ ہی آپ کو خود اپنی صلاحیتوں پر اتنا بھروسہ ہونا چاہیے کہ آپ اس کے خلاف رنز بنا سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2017 کی چیمپینز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر اور ویراٹ کوہلی کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا تھا

وراٹ کوہلی کا مزید کہنا تھا ’ایسا نہیں ہے کہ اگر صرف میں رنز بناؤں گا اور وہ ( عامر) وکٹیں لیں گے تو میچ کا فیصلہ ہوجائے گا۔ دونوں ٹیموں کے دیگر دس کھلاڑیوں کو بھی اچھا کھیلنا ہوگا۔‘

دوسری جانب محمد عامر کا کہنا ہے کہ انہیں وہ لمحہ ہمیشہ یاد رہے گا جب 2016 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے موقع پر ویراٹ کوہلی نے انہیں اپنا بیٹ پیش کیا تھا۔ محمد عامر کی اسوقت سپاٹ فکسنگ کی سزا مکمل ہونے کے بعد واپسی ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2016 کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے موقع پر ویراٹ کوہلی نے عامر کو اپنا بیٹ پیش کیا تھا

سنہ 2017 کی چیمپینز ٹرافی کے فائنل میں محمد عامر اور وراٹ کوہلی کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا تھا۔ محمد عامر کی گیند پر سلپ میں اظہرعلی نے ویراٹ کوہلی کا کیچ ڈراپ کردیا تھا لیکن اگلی ہی گیند پر محمد عامر کوہلی کو شاداب خان کے ہاتھوں کیچ کرانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

کرکٹ ورلڈ کپ پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

محمد عامر بھارت کے خلاف چھ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

ویراٹ کوہلی کا پاکستان کے خلاف ریکارڈ متاثر کن ہے۔ انہوں نے بارہ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں دو سنچریوں اور ایک نصف سنچری کی مدد سے 459 رنز بنائے ہیں۔

وراٹ کوہلی یہ بات بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کھلاڑیوں کے دوست احباب ان سے میچ ٹکٹ اور پاسز کے لیے کتنی زیادہ توقعات رکھتے ہیں اس بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان کے دوستوں نے بھی ان سے پوچھا تھا کہ وہ ورلڈ کپ میں آنا چاہتے ہیں جس پر ان کا جواب سیدھا سادہ تھا کہ آنا ہے تو آجاؤ ورنہ تم سب کے گھر میں اچھے اچھے ٹی وی ہیں ان پر میچ دیکھ لو۔

وراٹ کوہلی کا کہنا ہے کہ اگر آپ ایک بار پاسز اور ٹکٹ کا بندوبست کرنا شروع کر دیں تو پھر اس کا کوئی اختتام نہیں ہوتا۔ کھلاڑیوں کو ایک خاص تعداد میں ٹکٹ ملتے ہیں جس میں پہلی ترجیح فیملی ممبرز کی ہوتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں