پاکستان بمقابلہ انڈیا: کیریئر کے آغاز میں مشکلات کے بعد روہت شرما نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا

روہت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روہت شرما کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں تین ڈبل سنچریاں بنانے والے دنیا کے واحد بیٹسمین ہیں

کرکٹ میں ہر دور میں سُپر سٹارز کے ہی چرچے رہتے ہیں اور ایسے میں دوسرے کھلاڑی بہت کچھ کر کے بھی سُپر سٹارز کی طرح شہ سرخیوں میں دکھائی نہیں دیتے۔

سنیل گواسکر جس دور میں کھیلے اس میں گنڈاپا وشواناتھ اور دلیپ وینگسارکر بھی بہت بڑے کھلاڑی تھے۔ سچن تندولکر نے جس دور میں کرکٹ کھیلی اس میں سارو گنگولی اور راہل ڈراوڈ بھی کچھ کم نہ تھے۔

آج کا دور وراٹ کوہلی کا ہے لیکن کوئی مانے یا نہ مانے، انڈین بیٹنگ لائن میں ایک اور بڑا نام روہت شرما کا بھی ہے۔

مزید پڑھیں

کرکٹ ورلڈ کپ: بارشوں کا کیا کریں؟

’بولر کوئی بھی ہو مجھے صرف گیند ہی نظر آتی ہے‘

ایسے پرستار جن کے دم سے کرکٹ کے میدانوں میں رونقیں ہیں

یوں تو روہت شرما نے تینوں فارمیٹس میں انڈیا کی نمائندگی کر رکھی ہے اور وہ اپنے ٹیسٹ کریئر کی پہلی تین اننگز میں تین سنچریاں بھی بنا چکے ہیں لیکن محدود اوورز کی کرکٹ میں انھوں نے جس طرح انڈین ٹیم کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رکھی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔

روہت اپنے بعد آنے والے بیٹسمین کا کام بڑی حد تک آسان کر دیتے ہیں کیونکہ وہ بڑی آسانی اور بڑے اعتماد سے حریف بولرز کے ابتدائی وار کو جھیل لیتے ہیں۔

روہت شرما کا کھیل بہت سادہ لیکن شائقین کے دلوں کو بھانے والا ہے۔ ان کے پاس سٹروکس کی خوبصورت رینج موجود ہے۔ ان کی بیٹنگ کے بارے میں اگر وراٹ کوہلی جیسا کرکٹر یہ کہہ دے کہ وہ صرف سوچ ہی سکتے ہیں کہ روہت شرما جیسے شاٹس کھیل سکیں تو اس سے بڑھ کر کیا بات ہوسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان کی بیٹنگ کے بارے میں اگر ویراٹ کوہلی جیسا کرکٹر یہ کہہ دے کہ وہ صرف سوچ ہی سکتے ہیں کہ روہت شرما جیسے شاٹس کھیل سکیں تو اس سے بڑھ کر تعریف کیا ہو سکتی ہے؟

ایک روزہ میچوں میں روہت کے ابتدائی چند سال تگ و دو میں گزرے تھے لیکن جب کمزوریوں پر قابو پالیا تو پھر انھیں روکنے والا کوئی نہ تھا اور یہ اس وقت ہوا جب انھیں اوپنر کی حیثیت سے کِھلانے کا فیصلہ ہوا۔

روہت شرما کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل میں تین ڈبل سنچریاں بنانے والے دنیا کے واحد بیٹسمین ہیں۔

انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل کی تاریخ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلنے والے بیٹسمین ہیں۔ انھوں نے 2014 میں سری لنکا کے خلاف کولکتہ میں 173 بولز میں 264 رنز بنائے تھے۔

روہت شرما کو اب تک زندگی میں سب سے بڑا افسوس 2011 کے عالمی کپ میں نہ کھیلنے کا ہے جو انڈیا نے جیتا تھا۔

اس ورلڈ کپ میں روہت شرما نے جس طرح آغاز کیا ہے اس نے کپتان وراٹ کوہلی کے حوصلے بڑھا دیے ہیں کیونکہ انھیں پتا ہے کہ بھارتی ٹیم کو سیمی فائنل تک لے جانے میں روہت شرما کی بیٹنگ کتنا اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

روہت شرما نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے میچ میں ناقابل شکست سنچری بنائی جس کے بعد آسٹریلیا کے خلاف وہ نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان کے خلاف ہائی وولٹیج گیم میں روہت نے جس اعتماد سے پاکستانی بولنگ کو بے بس کر دیا اس نے بھارتی ٹیم کے لیے ایک بڑے سکور تک پہنچنے کا پلیٹ فارم بھی مہیا کیا۔ وہ پاکستان کے خلاف اس میچ میں 140 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے خلاف ہائی وولٹیج گیم میں روہت نے جس اعتماد سے پاکستانی بولنگ کو بے بس کردیا اس نے بھارتی ٹیم کے لیے ایک بڑے اسکور تک پہنچنے کا پلیٹ فارم بھی مہیا کردیا

روہت شرما نے اس سے قبل گذشتہ ستمبر میں پاکستانی بولرز کے خلاف ایشیا کپ میں بھی سنچری بنائی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں پاکستانی بولرز سے نمٹنے کا فن آتا ہے۔

انھوں نے دو سال قبل چیمپینز ٹرافی کے گروپ میچ میں بھی 91 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی تھی لیکن فائنل میں وہ محمد عامر کی گیند پر صفر پر آؤٹ ہوئے تھے جس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ روہت شرما کا اچھا دن نہیں تھا لیکن ان کا ہر دن برا بھی نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں