سمیع چوہدری کا کالم: ’ایک ارب لوگ کیا دیکھتے ہیں اس میچ میں؟‘

پاکستان بمقابلہ انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ وہ میچ ہے جس کا شیڈول آتے ہی پیش گوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ وہ میچ ہے جس کے گرد سیاسی مسائل کی گرد جمتی ہے۔ یہ وہ میچ ہے جو اکثر عسکری میدان سے بھی بڑی جنگ بن جاتا ہے۔

اس میچ سے پہلے کے دو چار دن ایک بے نام سے تجسس سے بھرے ہوتے ہیں۔ کون کھیلے گا، کون باہر بیٹھے گا۔ نیوز چینلز پر دونوں جانب کے پنڈت بحث مباحثے کا بازار گرم کرتے ہیں اور ہاہاکار مچا کر ہی اپنی اپنی ٹیم کو جتوا دیتے ہیں۔

اس میچ کی شہرت ہی کچھ ایسی ہے کہ اس کے نام پر سب کچھ بِک جاتا ہے۔ اگر کرکٹ کی مارکیٹنگ کا معاملہ ہو تو اس سے بہتر کوئی میچ نہیں ہو سکتا۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایک ارب سے زائد لوگ یہ میچ دیکھتے ہیں اور براڈ کاسٹ سپورٹس کی تاریخ میں یہ ایک ریکارڈ نمبر ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔

سمیع چوہدری کے مزید کالم پڑھیے

’لیکن سرفراز احمد برا مان گئے‘

’بھئی کیسے بنا لیتے ہو ایسی وکٹیں؟‘

’یہ سورج انگلینڈ میں ہی ڈوب تو نہ جائے گا‘

المیہ مگر یہ ہے کہ یہ اسی نوعیت کا ساتواں میچ تھا جو عین اسی ڈگر پر چل کر منتج ہوا جس پر پہلے چھ میچز ہوئے تھے۔ وہی پرانا قصہ، بولنگ میں کسی ایک پاکستانی سٹار کی بدحواسی، بھارتی مڈل آرڈر کی مثبت جارحیت، پاکستانی اوپنرز کی احتیاطی تدابیر، بھارتی پارٹ ٹائم بولرز کی تباہ کن بولنگ، پاکستانی مڈل آرڈر کی بدترین ناکامی اور فاتح ٹھہرا بھارت۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آئی سی سی ورلڈ کپ میں آج تک جتنی بار بھی بھارت اور پاکستان سامنے آئے، کہانی کچھ ایسے ہی کھلی۔ قطع نظر اس کے کہ ٹاس کون جیتا اور پہلے بولنگ کی یا بیٹنگ، ورلڈ سٹیج پر اس معرکے میں بہتر ٹیم ہمیشہ بھارت ہی کی نکلی۔

مکی آرتھر نے بجا کہا تھا کہ یہ میچ ہیرو بننے کا موقع ہو گا اور غالباً آرتھر کی ٹیم میں سے کئی لوگوں نے یہ خواہش بھی دبا رکھی ہو گی کہ اس بار جب ایک ارب لوگ ٹی وی سکرینوں کے سامنے جمے بیٹھے ہوں تو گراؤنڈ ان کے نعروں سے گونج اٹھے۔

دوسری جانب وراٹ کوہلی اسے ’محض ایک اور میچ‘ قرار دیتے رہے۔ فرق صرف اتنا رہا کہ کوہلی کی ٹیم نے اسے واقعی ’محض ایک اور میچ‘ سمجھ کر کھیلا جب کہ مکی آرتھر کے جوان ہیروازم کے ارمان دل میں لیے سر جھٹکتے رہ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرکٹ کی تاریخ کی قدیم ترین رقابت آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ہے۔ ایشز ہیمیشہ ایک کامیاب ایونٹ قرار پایا ہے۔ مگر پاک بھارت مقابلہ جب سامنے آتا ہے تو کئی احباب اسے ایشز سے دس گنا بڑا قرار دیتے ہیں۔

اگر ایشز کے مقابلے میں برصغیر کی کرکٹ مارکیٹ کو جانچا جائے تو واقعی یہ ایشز سے کہیں بڑا ایونٹ ہے۔

سوال اب صرف یہ ہے کہ جس طرح کی یکسانیت پاکستان بھارت ورلڈ کپ میچز کا خاصہ بن چکی ہے، کیا ان میچز کا طلسم اگلے چار پانچ سال تک برقرار رہ پائے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کیونکہ رقابت یا مقابلہ بازی کا بھی مزہ تب ہے جب دونوں پلڑے برابر رہیں۔ ایشز کی خوبی یہی ہے کہ اگر انگلینڈ آسٹریلیا جا کر ہارتا ہے تو جوابی سیریز میں مقابلہ کانٹے کا ہوتا ہے اور عموماً حساب چُکا دیا جاتا ہے۔ اس پر بھی بعض شائقین بے دل سے ہو جاتے ہیں کہ انگلینڈ آسٹریلیا جا کر کیوں نہیں جیتتا اور آسٹریلیا انگلینڈ میں کیوں نہیں؟

جبکہ پاکستان بھارت ورلڈ کپ مقابلوں میں تو عجیب سی الجھن ہے کہ صدی کوئی بھی ہو، براعظم کوئی سا ہو، پلئیرز بھلے جو بھی ہوں، اگر ورلڈ کپ ہے تو مقابلہ یکطرفہ ہی ہو گا اور جیتے گا بھی بھارت ہی۔

فی الحال اس ورلڈ کپ کے اس میچ کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاں ہیرو بننے کے خواب تھے، وہاں کئی کرئیرز اپنے ممکنہ انجام کو پہنچتے دکھائی دیے اور جو ٹیم ’محض ایک اور میچ‘ کھیل رہی تھی، وہاں خود بخود کئی ہیرو ابھر آئے۔

اسی بارے میں