کرکٹ ورلڈ کپ 2019: بڑی ٹیموں کے خلاف پاکستانی ٹیم کا مایوس کن ریکارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرکٹ کے ہر عالمی کپ کے بعد چار سال کا وقفہ ہوتا ہے جو کسی بھی ٹیم کو تیار کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال انگلینڈ کی ہے جس نے سنہ 2015 کے عالمی کرکٹ کپ کی ہزیمت سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی ٹیم اور انتظامی ڈھانچے میں اتنی مؤثر تبدیلیاں کیں کہ آج چار سال میں انگلینڈ کی ون ڈے کی عالمی نمبر ایک ٹیم بن چکی ہے۔

ایک اور مثال بنگلہ دیش کی ہے جو چار سال پہلے نویں نمبر کی ٹیم تھی لیکن اب وہ کسی بھی بڑی ٹیم کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔

لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے یہ چار سال تجربات اور ہار جیت کی ملی جلی کارکردگی کے ساتھ گذر گئے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے یہ ٹیم وہیں کھڑی ہے جہاں چار سال پہلے تھی۔

ان چار سالوں کے دوران پاکستان نے تین کرکٹ بورڈ بدلے۔ تین کپتان اور دو کوچ تبدیل کیے لیکن یہ تبدیلیاں بھی ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے سے ناکام رہیں اور صرف ایک چیمپیئنز ٹرافی کی جیت کے ُگن گانے کے سوا‘ ہمیں کچھ اور نظر نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان اب بھی سیمی فائنل تک پہنچ سکتا ہے؟

’مارو مجھے، مارو! یہ مذاق ہو رہا ہے!‘

’دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشہ نہ ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنہ 2015 کے عالمی کپ کے بعد اور موجودہ عالمی کپ شروع ہونے تک پاکستانی کرکٹ ٹیم نے مجموعی طور پر 82 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے جن میں سے 35 جیتے، 42 میں اسے شکست ہوئی جبکہ پانچ میچ نامکمل رہے اس طرح پاکستانی ٹیم کی جیت کا تناسب 68.42 فیصد رہا۔

لیکن یہاں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ان چار برسوں میں اپنے سے اوپر کی کسی بھی ٹیم کے خلاف دو طرفہ سیریز جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور اس نے اپنے سے نچلی رینکنگ کی ٹیموں ویسٹ انڈیز، زمبابوے، آئرلینڈ، سری لنکا اور افغانستان کے خلاف ہی بازی جیتی ہے۔

یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ پاکستانی ٹیم کو اپنے سے نیچے کی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف بھی مسلسل ناکامیوں سے دوچار ہونا پڑا۔ پاکستان نے ان چار برسوں میں بنگلہ دیش کا چار بار سامنا کیا ہے اور چاروں بار بنگلہ دیش نے کامیابی حاصل کی ہے۔

سنہ 2015 کے عالمی کپ کے فوراً بعد پاکستانی ٹیم نے بنگلہ دیش کے خلاف تین میچوں کی سیریز کھیلی جس میں اسے تین صفر کی ہزیمت اٹھانی پڑی۔

بنگلہ دیش نے گذشتہ سال بھی ایشیا کپ میں پاکستان کو ہرایا تھا اس طرح ان چار برسوں کے دوران بنگلہ دیش کا پاکستان کے خلاف جیت کا ریکارڈ 100 فیصد رہا۔

ان چار برسوں کے دوران پاکستانی ٹیم کا اگر بڑی ٹیموں کے خلاف ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو وہ خاصا مایوس کن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف چار برسوں کے دوران تین دو طرفہ سیریز کھیلیں اور تمام کی تمام میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ چیمپیئنزٹرافی میں پاکستانی ٹیم انگلینڈ کو شکست دینے میں کامیاب رہی۔

انگلینڈ کے خلاف پاکستانی ٹیم 15 میں سے صرف تین میچ جیتنے میں کامیاب ہو سکی 11 میں اسے شکست ہوئی اور ایک میچ نامکمل رہا۔

آسٹریلیا کے خلاف پاکستان نے دو سیریز کھیلیں اور دونوں میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا جن میں سے ایک سیریز میں اسے وائٹ واش کی ہزیمت بھی اٹھانی پڑی۔

آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے 10 میچوں میں پاکستان کو صرف ایک میں کامیابی ہوئی اور نو میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

نیوزی لینڈ کے خلاف بھی پاکستان نے تین سیریز کھیلیں جن میں سے ایک برابر رہی لیکن دیگر دو کے نتائج نیوزی لینڈ کے حق میں رہے اور ان میں سے ایک سیریز ایسی ہے جس کے تمام میچ نیوزی لینڈ نے جیتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 11 میں سے آٹھ میچ پاکستانی ٹیم ہاری، صرف ایک جیتی اور دو نامکمل رہے۔

انڈیا کے خلاف پاکستان نے چار میچوں میں سے صرف ایک جیتا جو چیمپیئنز ٹرافی کا فائنل تھا جبکہ اسی ٹورنامنٹ کے گروپ میچ کے علاوہ ایشیا کپ کے دو میچوں میں انڈیا نے کامیابی حاصل کی۔

جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی کارکردگی قدرے بہتر رہی اور دونوں کے درمیان کھیلے گئے چھ میچوں میں دونوں نے تین تین میچ جیتے۔

پاکستان نے اپنے سے اوپر کی رینکنگ کی ٹیموں انگلینڈ، انڈیا، آسٹریلیا نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے خلاف ان چار برسوں کے دوران 46 میں سے صرف نو میچ جیتے یوں جیت کا تناسب صرف 56. 19 فیصد بنتا ہے۔

پاکستانی ٹیم نے گذشتہ ورلڈ کپ کے بعد موجودہ ورلڈ کپ تک اپنے سے نچلی رینکنگ کی ٹیموں ویسٹ انڈیز، سری لنکا، زمبابوے، افغانستان، آئرلینڈ اور بنگلہ دیش کے خلاف جو 36 میچ کھیلے ان میں سے اس نے 26 جیتے اور آٹھ میں اسے شکست ہوئی۔

اسی بارے میں