ورلڈ کپ 2019: ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ویراٹ کوہلی پر 25 فیصد میچ فیس کا جرمانہ عائد

ویراٹ کوہلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی سی سی کے مطابق ویراٹ کوہلی نے افغانستان کے خلاف کھیلے جانے والے میچ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی

انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان اور مایہ ناز بلے باز ویراٹ کوہلی پر آئی سی سی نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ویراٹ کوہلی نے سنیچر کو ساوتھ ہیمپٹن میں افغانستان کے خلاف کھیلے جانے والے میچ میں آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.1 کی پہلی سطح کی خلاف ورزی کی جو ’کسی بھی بین الاقوامی میچ میں ضرورت سے زیادہ اپیل کرنے‘ سے متعلق ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’بولر کوئی بھی ہو مجھے صرف گیند ہی نظر آتی ہے‘

کوہلی کے لیے انڈیا کو تیسرا ورلڈ کپ جتوانا کتنا مشکل ہے؟

وراٹ کوہلی کے نئے ریکارڈز کا سلسلہ جاری

’جب وراٹ کوہلی کو کوئی مسئلہ نہیں تو---‘

سنیچر کو کھیلے جانے والے میچ میں یہ واقعہ افغانستان کی اننگز کے 29ویں اوور میں پیش آیا جب انڈین بولر جسپریت کی گیند افغانستان کے بلے باز رحمت شاہ کے پیڈ پر لگی تھی اور انڈین ٹیم کی جانب سے ایل بی ڈبلیو کی اپیل مسترد کر دی گئی تھی جس پر ویراٹ کوہلی انتہائی جارحانہ اور جذباتی انداز میں ایمپائر علیم ڈار کی جانب اپیل کرتے ہوئے بڑھے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کوہلی نے اپنی غلطی تسلیم کی اور میچ ریفری کرس براڈ کی جانب سے مجوزہ جرمانے کو قبول کیا ہے۔ کرس براڈ آئی سی سی کے اماراتی میچ ریفری پینل کے معزز رکن ہیں۔

آئی سی سی کے مطابق ویراٹ کوہلی کی جانب سے غلطی کے اعتراف اور جرمانہ قبول کرنے کے بعد اس معاملے کی باقاعدہ سماعت کی ضرورت نہیں ہے۔

تاہم اس کے علاوہ آئی سی سی کی جانب سے ویراٹ کوہلی کے نظم و ضبط کے ریکارڈ میں ایک منفی پوائنٹ بھی شامل کیا گیا ہے، جو کہ سنہ 2016 میں ضابطہ اخلاق میں ترمیم کے بعد سے کوہلی کا دوسرا منفی پوائنٹ ہے۔

کوہلی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پہلا منفی پوائنٹ 15 جنوری 2018 میں جنوبی افریقہ کے خلاف پریٹوریا ٹیسٹ کے دوران ملا تھا۔

کوہلی پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزامات آن فیلڈ ایمپائر علیم ڈار، رچرڈ النگورتھ، تھرڈ ایمپائر رچرڈ کیٹل براح اور چوتھے اہلکار مائیکل گوف نے عائد کیے تھے۔

آئی سی سی کے قوانین کے مطابق ضابطہ اخلاق کی پہلی سطح کی خلاف ورزی پر کم از کم سرکاری طور پر سرزنش کرنا اور زیادہ سے زیادہ کھلاڑی پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کرنا اور ایک یا دو منفی پوائنٹ دینا شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایل بی ڈبلیو کی اپیل مسترد ہونے پر ویراٹ کوہلی انتہائی جارحانہ اور جذباتی انداز میں ایمپائر علیم ڈار کی جانب بڑھے تھے

واضح رہے کہ ان قوانین کے مطابق جب کسی بھی کھلاڑی کے دو سال کے عرصے میں دو منفی پوائنٹس ہوتے ہیں تو اس پر ایک ٹیسٹ یا دو بین الاقوامی ایک روزہ میچ یا ٹی ٹوئنٹی میچ جو بھی پہلے آ جائیں، کھیلنے پر پابندی لگ جاتی ہے۔

جبکہ اگر کسی کھلاڑی کے دو سال کے عرصے میں چار منفی پوائنٹس ہو جائیں تو کھلاڑی کو معطل کر کے اس کے کھیلنے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

منفی پوائنٹس کسی بھی کھلاڑی یا سپورٹ سٹاف کے نظم و ضبط کے ریکارڈ میں دو سال تک رہتے ہیں جس کے بعد انھیں ریکارڈ سے نکال دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں