پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ: ’ہو سکتا ہے کہ بدھ کو نیوزی لینڈ کا برا دن ہو‘

اظہر محمود تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اظہر محمود کہتے ہیں کہ وہ فی الحال ایک وقت میں ایک میچ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے 33 ویں میچ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں بدھ کو ایجبسٹن میں مدِ مقابل ہوں گی اور سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں برقرار رکھنے کے لیے پاکستانی ٹیم کے لیے یہ میچ جیتنا بہت ضروری ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ اظہر محمود کو امید ہے کہ آج کا دن نیوزی لینڈ کا برا دن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی ٹیم کا ایک دن برا ضرور ہوتا ہے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم کا برا دن بدھ (آج) کو ہو سکتا ہے۔‘۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ٹیم ابھی تک چھ میں سے پانچ میچ جیت کر 11 پوائنٹس کے ساتھ پوائنٹس ٹیبل پر سرِفہرست ہے۔

ٹورنامنٹ کی دوسری ناقابل شکست ٹیم انڈیا کے خلاف ان کا میچ بارش کی وجہ سے منسوخ ہو گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا‘

'کوئی پوچھے تو کہنا قمر باجوہ آیا تھا'

کرکٹ ورلڈ کپ پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستانی کرکٹ ٹیم بارش کی وجہ سے برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں آؤٹ ڈور پریکٹس نہ کرسکی

اظہر محمود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم بہت ہی مضبوط ہے اور اس کے پاس میچ ونر کھلاڑی موجود ہیں لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم اگر کھیل کے تمام شعبوں میں نظم و ضبط کا مظاہرہ کرے تو وہ کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

انھوں نے امید ظاہر کی کہ کسی بھی ٹورنامنٹ میں لگاتار اچھی کارکردگی دکھانے والی ہر ٹیم کا ایک برا دن ضرور آتا ہے اور ہو سکتا ہے نیوزی لینڈ کی ٹیم کا برا دن بدھ (آج) ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کی تاریخ ہے کہ وہ لگاتار میچ جیتنے کے بعد کوارٹر فائنل یا سیمی فائنل میں پہنچ کر ہار جاتی ہے۔

یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک فائنل اور چھ سیمی فائنلز کھیل چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہین شاہ آفریدی نے گذشتہ میچ میں اچھی بولنگ کی ہے تاہم میچ میں چار فاسٹ بولرز کھلانے کا فیصلہ میچ کی صبح وکٹ دیکھ کر کیا جائے گا: اظہر محمود

اظہر محمود نے مزید کہا کہ وہ فی الحال ایک وقت میں ایک میچ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور انھیں معلوم ہے کہ پاکستانی ٹیم کے لیے اب تینوں میچ جیتنا ضروری ہیں جس کے بعد ہی پتا چلے گا کہ پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچ سکتی ہے یا نہیں؟

ان کے خیال میں پاکستانی بولرز کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ نئی گیند کے ساتھ ابتدا میں ہی وکٹیں حاصل کریں جبکہ بیٹنگ میں ٹاپ آرڈر بلے بازوں کو ذمہ داری دکھانی ہو گی۔

اظہرمحمود نے شاہین شاہ آفریدی کی جگہ محمد حسنین کو کھلائے جانے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی نے گذشتہ میچ میں اچھی بولنگ کی ہے تاہم میچ میں چار فاسٹ بولرز کھلانے کا فیصلہ میچ کی صبح وکٹ دیکھ کر کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی ٹیم کی فیلڈنگ کے بارے میں اظہر محمود کا کہنا ہے کہ گراؤنڈ فیلڈنگ اچھی ہے لیکن 13 کیچ ڈراپ ہوئے ہیں تاہم اگر انگلینڈ کی ٹیم کو بھی دیکھیں تو اس نے بھی اس ٹورنامنٹ میں اب تک دس کیچز گرائے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ کسی بھی ٹیم کے ساتھ ہو سکتا ہے، یہ کھیل کا حصہ ہے اور اس میں اہم بات یہ ہے کہ کھلاڑی کیچ ڈراپ کرنے کے بعد اگلے کیچ کے لیے خود کو کتنا تیار رکھتا ہے اور وہ کتنا پراعتماد رہتا ہے۔

اسی بارے میں