بابر اعظم: ’پچ دیکھ کر یہ طے کیا تھا کہ اطمینان سے کھیلنا ہے‘

بابر اعظم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بابراعظم نے نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلی گئی اپنی اننگز کے دوران ایک روزہ میچوں میں تین ہزار رنز بھی مکمل کر لیے ہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ گذشتہ چند برسوں سے بابر اعظم کے گرد گھوم رہی ہے اور وہ اس ذمہ داری کو اس خوبی سے نبھا رہے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی بیٹنگ میں پختگی آتی جا رہی ہے جس کی پاکستانی ٹیم کو ضرورت بھی ہے۔

بابر اعظم اگرچہ اس وقت تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن ان کا ٹیلنٹ خاص طور پر محدود اوورز کی کرکٹ میں لامحدود دکھائی دے رہا ہے۔

ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف سنچری اس بات کا بھرپور ثبوت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اظہر محمود: ’ہو سکتا ہے آج نیوزی لینڈ کا برا دن ہو‘

’شائقین محبت تو کرتے ہیں لیکن کرکٹ کو نہیں سمجھتے‘

کرکٹ ورلڈ کپ پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

اس اننگز کی پاکستانی ٹیم کے ساتھ ساتھ خود بابر اعظم کو بھی ضرورت تھی کیونکہ اس سے قبل وہ اپنی دو نصف سنچریوں کو تین ہندسوں میں تبدیل نہیں کر سکے تھے اور وہ بڑی اننگز کھیلنے کے لیے پرتول رہے تھے۔

اس بارے میں بابر اعظم کہتے ہیں کہ یہ بات ان کے ذہن میں بھی تھی کہ وہ میچ کو فنش نہیں کر پا رہے تھے لیکن انھوں نے اپنے گیم پلان کو تبدیل نہیں کیا اور اسی انداز سے کھیلے جیسے وہ پہلے کھیلتے آئے ہیں۔

اس اننگز میں دو اچھی پارٹنرشپس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم منزل تک پہنچی۔

بابر اعظم اپنی اس اننگز کو اپنے ون ڈے کریئر کی بہترین اننگز قرار دیتے ہیں۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ جب پاکستانی ٹیم نے بیٹنگ شروع کی تو وکٹ جو پہلے سے سلو تھی وہ ٹرن ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اور اس وجہ سے انھوں نے محمد حفیظ کےساتھ یہ طے کیا تھا کہ کوئی چانس نہیں دینا اور اطمینان سے کھیلنا ہے۔

بابر اعظم نے اپنی اس اننگز کے دوران ون ڈے انٹرنیشنل میں تین ہزار رنز بھی مکمل کیے ہیں۔

انھوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میں دس سنچریاں بنائی ہیں جن میں سے آٹھ میں پاکستانی ٹیم جیتی ہے۔

اس بارے میں وہ کہتے ہیں کہ جب آپ کی اننگز ٹیم کے کام آئے اور آپ میچ جتوا کر آتے ہیں تو بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے اور اپنے اندر ایک نیا حوصلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نیوزی لینڈ سے شاندار فتح کے بعد ٹیم ممبر بابر اعظم کو شاباش دیتے ہوئے

بابر اعظم پر ناقدین یہ اعتراض کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے لیے کھیلتے ہیں جس کی بابراعظم سخت الفاظ میں نفی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اپنے انفرادی ریکارڈ یا سنگ میل کے لیے کھیلیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ ٹیم کے لیے سوچتے ہیں اور کھیلتے ہیں۔

بابر اعظم نے اپنے مختصر سے کریئر میں متعدد اہم سنگ میل عبور کیے ہیں۔

لوگ انہیں انڈین کرکٹر وراٹ کوہلی سے بھی ملاتے ہیں لیکن خود بابر اعظم کو اس موازنے کی پرواہ نہیں ہے البتہ وہ اپنی خود اعتمادی کے بل پر یہ ضرور سوچ رہے ہیں کہ دنیا کے بہترین بیٹسمینوں میں مقام حاصل کریں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر بابر اعظم کی صلاحیتوں کے زبردست معترف رہے ہیں اور وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ بابراعظم دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔

پاکستان مبارک ہو!

پاکستان کی شاندار کامیابی کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر صارفین کی خوشی دیدنی تھی۔ جیت کے بعد پاکستان میں دس میں سے نو ٹاپ ٹرینڈ اس میچ اور پاکستانی کھلاڑیوں سے متعلق تھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے نہ صرف پاکستان ٹیم کی کارکردگی کو سراہا بلکہ بابر اعظم، حارث سہیل اور شاہین شاہ آفریدی کی بالخصوص تعریف بھی کی۔

اس میچ کے ہیرو بابر اعظم نے پاکستان ٹیم کی فتح کو پوری قوم کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اننگز سوہنی دھرتی اور پاکستان کے لیے تھی۔

سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے بابر اعظم، حارث سہیل اور شاہین آفریدی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے خواب کو پانے سے ایک درجہ مزید قریب ہو گیا ہے۔

شہباز تاثیر نے لکھا ’شکر الحمداللہ۔ میں نے 92 کے ورلڈ کپ میں بھی اسی طرح دعا کی تھی۔ بابر اعظم زندہ باد۔‘

صحافی معید پیرزادہ نے قوم کی ’امیدوں کو زندہ رکھنے‘ پر پاکستان ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔

ای ایس پی این سے وابستہ صحافی میلنڈا فیرل نے ایجبسٹن گراؤنڈ سے باہر پاکستانی شائقین کی ایک ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ گراؤنڈ کے باہر اس وقت کیا سماں ہے تو یہ ویڈیو دیکھیں۔

اسی بارے میں