سمیع چوہدری کا کالم: ’بھلا ہوا کہ سرفراز ٹاس نہیں جیتے‘

سرفراز احمد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قسمت سرفراز سے زیادہ بہتر نکلی کہ ٹاس ہار گئے اور پہلے بولنگ کی ذمہ داری مل گئی۔

حالیہ ورلڈ کپ میں انگلش وکٹیں اس اعتبار سے ایک الجھن سی رہی ہیں کہ اگر کسی نے بارش یا ابر آلود مطلع دیکھ کر بولنگ کا فیصلہ کر بھی لیا تو کچھ ہی دیر بعد وکٹ بیٹنگ کے لئے سازگار دکھائی دینے لگی۔

نیوزی لینڈ کے خلاف سرفراز بھی اسی مخمصے کا شکار تھے۔

وہ بھی ٹاس جیتنا چاہتے تھے کہ پہلے بیٹنگ کریں مگر قسمت سرفراز سے زیادہ بہتر نکلی کہ ٹاس ہار گئے اور پہلے بولنگ کی ذمہ داری مل گئی۔

سمیع چوہدری کے مزید کالم پڑھیے

’گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا‘

’لیکن سرفراز احمد برا مان گئے‘

’اس میں امام الحق کا تو کوئی قصور نہیں‘

’ایک ارب لوگ کیا دیکھتے ہیں اس میچ میں؟‘

محمد عامر اس ورلڈ کپ کے چنندہ بولرز میں سے ہیں۔ آخری لمحے ان کی شمولیت اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ کچھ خاص ہی پلان چل رہا ہے۔ اور واقعی وہ پلان اب نظر بھی آ رہا ہے۔

اس قدر کامیابی کے باوجود یہ تو واضح ہے کہ اب یہ وہ عامر نہیں رہے جو ڈیبو کے اوائل برس میں تھے۔

اب وہ تیزی اور پُھرتی ختم ہو چکی ہے۔ اب کوئی ’بنانا سوئنگ‘ نہیں ہوتی، اب کوئی بھی گیند اچانک وکٹ سے سیم ہو کر بلے باز پہ جھپٹ نہیں پڑتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اب عامر وہ عامر نہیں رہے جو ڈیبیو کے اوائل برس میں تھے

اب محمد عامر اپنے تجربے کے بل پہ کھیل رہے ہیں۔ اس وقت ان کی وہ کیفیت ہے جو ریٹائرمنٹ سے دو سال پہلے کے شون پولک کی تھی، نپے تلے رن اپ کے ساتھ، پیس مکس کر کے، اچھی لینتھ پہ سٹمپس کے اندر گیند کرنا۔

یہ سٹریٹیجی جس طرح سنہ 2006 میں پولک کے لیے کارگر ثابت ہوئی تھی، بعینہٖ عامر کے لئے بھی سُود مند ثابت ہو رہی ہے۔

لیکن عامر سے بھی زیادہ جس بولر سے شائقین کی توقعات وابستہ تھیں، وہ تھے شاہین شاہ آفریدی۔ اس ٹورنامنٹ کے کم عمر ترین کھلاڑیوں میں سے ایک، طویل قامت فاسٹ بولر اور اس پر لیفٹ آرم بھی۔

مگر کل کے میچ تک شاہین شاہ آفریدی خاموش تھے۔

اور عین ممکن ہے کہ اگر پاکستان پہلے بیٹنگ کر لیتا اور اسی وکٹ پہ دوسری اننگز میں یہی شاہین آفریدی بولنگ کر رہے ہوتے تو شاید اعداد و شمار ایسے حیران کن نہ ہوتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہین آفریدی کی کراس سیم گیندوں نے یہ کرشمہ کیا کہ بانوے کے ورلڈ کپ سے مماثلتیں ڈھونڈنے کو ایک اور دن بھی مل گیا

کیونکہ ولیمسن وہ بلے باز ہیں کہ جب کریز پر موجود ہوں تو بِلادقت سکور بورڈ چلتا رہتا ہے لیکن شاہین شاہ آفریدی نے یہ ممکن کر دکھایا کہ ولیمسن کی موجودگی میں بھی سکور بورڈ کو روکا جا سکتا ہے۔

اس میچ سے پہلے بھی شاہین شاہ آفریدی بری بولنگ نہیں کر رہے تھے لیکن جس چیز کی کمی تھی، وہ تھی ’کاٹ‘۔ ان کا گیند اچانک بلے باز پہ لپک نہیں رہا تھا۔

ایجبیسٹن کی اس وکٹ اور ٹاس کی ہار نے شاہین آفریدی کو وہ کاٹ واپس دلا دی۔ ولیمسن محض اسی لیے ڈرے ہوئے تھے کہ استعمال شدہ وکٹ پر دوسری اننگز میں پاکستانی سپنرز کا سامنا کرنا مشکل ہو گا۔

لیکن ولیمسن یہ نظر انداز کر گئے کہ اس بارش زدہ آؤٹ فیلڈ اور استعمال شدہ وکٹ پر کوئی بھی طویل قامت فاسٹ بولر دوسری اننگز کے سپنر سے کہیں زیادہ بھاری پڑ سکتا ہے اور پھر واقعی شاہین شاہ آفریدی بھاری پڑ گئے۔

شاہین آفریدی نے اس وکٹ کی نبض کو بھی بھانپ لیا اور میچ کے مومینٹم کو بھی توڑ ڈالا۔ اور ان کی کراس سیم گیندوں نے یہ کرشمہ کیا کہ بانوے کے ورلڈ کپ سے مماثلتیں ڈھونڈنے کو ایک اور دن بھی مل گیا۔

اسی بارے میں