کرکٹ ورلڈ کپ 2019: ’سوچ لیا تھا کہ راشد خان کو وکٹ نہیں دینی‘

کرکٹ ورلڈ کپ 2019 تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دلوں کی دھڑکنیں اور سانسیں بے ترتیب کرنے کے بعد جب پاکستانی کرکٹ ٹیم نے افغانستان کو تین وکٹوں سے شکست دی تو جیت کا سہرا عماد وسیم کے سر بندھا جنھوں نے 49 رنز کی ناقابل شکست اننگز کو میچ وننگ چوکے کے ذریعے مکمل کیا اورمین آف دی میچ قرار پائے۔

عماد وسیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے سوچ رکھا تھا کہ راشد خان کو وکٹ نہیں دینی۔

’راشد خان ورلڈ کلاس سپنر ہیں۔ ان کی بولنگ پر چانس لینے کا مطلب ہے کہ آپ انھیں وکٹ دے سکتے ہیں لہذا میں نے یہی سوچا تھا کہ وہ بے شک میڈن اوور کرالیں انھیں وکٹ نہیں دینی ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم تھا کہ افغانستان کا ایک بولر کم ہے۔‘

عماد وسیم میچ کے اتارچڑھاؤ کے باوجود ُپر ُ امید تھے کہ نتیجہ پاکستان کے حق میں ہی آئے گا۔

’پاکستانی ٹیم پہلے بھی اس طرح کی صورت حال سے دوچار ہوتے ہوئے میچز جیت چکی ہے اور مجھے یقین تھا کہ اس بار بھی یہی ہو گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کا سیمی فائنل تک رسائی کا خواب برقرار

گلبدین نائب ’صنم کو لے ڈوب‘ نہ سکے

پاکستان بمقابلہ افغانستان: شائقین میں تصادم پر آئی سی سی کا نوٹس

’پچ دیکھ کر یہ طے کیا تھا کہ اطمینان سے کھیلنا ہے‘

عماد وسیم اپنی میچ وننگ کارکردگی پر بجا طور پر نازاں لیکن وہاب ریاض کی بیٹنگ کو کسی سے کم نہیں سمجھتے۔

’افسوس ہے کہ وہاب ریاض پر بہت زیادہ تنقید ہوئی تھی لیکن آج انھوں نے ٹوٹی ہوئی انگلی کے ساتھ جس طرح بیٹنگ کی اور اہم موقع پر جس طرح انھوں نے چھکا اور چوکا لگایا اس پر انھیں سیلوٹ پیش کیا جانا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عماد وسیم کو اس بات کا اطمینان ہے کہ وہ شدید دباؤ میں میچ وننگ اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

’ماضی میں ایسے متعدد میچ تھے جو مجھے جتوانے چاہئیں تھے لیکن میں نہیں جتوا سکا جس کا مجھے دکھ تھا شاید یہ موقع اللہ نے آج کے لیے رکھا ہوا تھا۔ میرے ذہن میں صرف یہی بات تھی کہ میرے ساتھ جو بھی کھیلے ہم نے میچ کو آخر تک لے جانا ہے۔ بدقسمتی سے سیفی بھائی (سرفراز احمد) رن آؤٹ ہو گئے۔ وہ سپنرز کو بہت اچھا کھیلتے ہیں اگر وہ کریز پر ٹھہر جاتے تو ہم پہلے ہی میچ جیت چکے ہوتے۔‘

عماد وسیم کا کہنا ہے کہ وہ کبھی ٹیم سے ڈراپ ہونے کے خوف میں مبتلا نہیں رہے ہیں۔

’کرکٹ میرے لیے زندگی یا موت نہیں ہے بلکہ صرف ایک کھیل ہے اور میں اسے کھیل سمجھ کر کھیلتا ہوں میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ میں ٹیم سے ڈراپ ہو جاؤں گا۔ مجھے اپنے ملک سے بہت محبت ہے اور میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ میں 100 فیصد کارکردگی دکھاؤں۔‘

اسی بارے میں