کرکٹ: افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی نئی وجہ؟

افغان کرکٹ شائقین تصویر کے کاپی رائٹ Stu Forster-IDI
Image caption پاکستان اور افغانستان دونوں کے شائقین کو یہ سمجھنا ہو گا کہ کرکٹ تو ہارنے والے کو بھی فاتح سے ہاتھ ملانے کا سبق دیتی ہے۔

کرکٹ کے میدان میں دیرینہ ترین رقابت آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ہے۔ جب بھی یہ دونوں ٹیمیں آمنے سامنے ہوتی ہیں تو جذبات کا طوفان امڈ آتا ہے۔ ایشز کے موقع پر کافی کچھ ایسا سننے اور دیکھنے کو ملتا ہے جس کا شرفاء کے اس کھیل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اس کے بعد دوسری بڑی رقابت پاکستان اور انڈیا کے مابین ہے۔ ان کا میچ تو کرکٹ سے کہیں بڑھ کر ایک جنگ کا سماں اختیار کر جاتا ہے۔ میڈیا بھی اس جنگ کو خوب تڑکے لگاتا ہے اور خاطر خواہ ریٹنگز بٹورتا ہے۔

مگر اب جو نئی ’رقابت’ اس میدان میں پنپنے کو ہے اور سنیچر کے میچ میں کسی جانی نقصان تک پہنچتے پہنچتے رہ گئی، وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہے جو اپنی نوعیت میں ایسی پیچیدہ ہے کہ منطق کبھی اسے سمجھ نہیں سکتی۔

کیونکہ ابھی وہ وقت گزرے زیادہ دیر نہیں ہوئی جب افغان کرکٹ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا ’بے بی` ہوا کرتی تھی۔ اس حد تک کہ اگر کہا جائے کہ افغانستان میں کرکٹ کے جراثیم پاکستان نے بوئے، تو یہ بے جا نہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان بمقابلہ افغانستان: شائقین میں تصادم پر آئی سی سی کا نوٹس

افغانستان، بنگلہ دیش سے تلخ رشتہ کھیل پر بھی حاوی

’سوچ لیا تھا کہ راشد خان کو وکٹ نہیں دینی‘

کئی موجودہ اور سابقہ افغان کھلاڑی ایسے ہیں جو پاکستان میں افغان پناہ گزین کیمپس میں پیدا ہوئے، پشاور کی گلیوں میں پلے بڑھے، اور تو اور پی سی بی کی مہربانیوں کے طفیل بعض تو پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ محمد شہزاد کا تو سسرال بھی پشاور میں ہے۔

پاکستانی کرکٹرز، پی سی بی اور شائقین کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ اس امر پر افغان قوم کو پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ بہرحال اگر پاکستان کی اس قدر اخلاقی و تکنیکی معاونت میسر نہ ہوتی تو افغان کرکٹ اتنی جلدی ٹاپ ٹین تک رسائی حاصل نہ کر پاتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ LINDSEY PARNABY

اس کے بالکل برعکس افغان شائقین، بعض کھلاڑی اور افغان کرکٹ بورڈ کا تازہ ترین خیال یہ ہے کہ پاکستان ایک دشمن ملک ہے جو افغانستان میں دہشت گردی کی معاونت کرتا ہے۔

مگر نو مولود ’پاک افغان رقابت’ کی بنیاد صرف یہی نہیں ہے، کچھ اور ’مجبوریاں’ بھی ہیں۔ افغانستان کو اپنے بین الاقوامی میچز کے لیے افغانستان سے باہر کوئی ’ہوم گراؤنڈ’ بھی درکار تھا اور موزوں ترین ہوم گراؤنڈ انہیں انڈیا کی جانب سے ہی میسر آ سکتا تھا۔

افغانستان کو انڈیا سے نہ صرف ہوم گراؤنڈ ملا بلکہ انفراسٹرکچر کے معاملے میں ایسی تکنیکی معاونت بھی ملی جو غالباً پی سی بی اپنے محدود وسائل میں کبھی فراہم نہیں کر سکتا تھا۔ جبھی افغان کرکٹ بورڈ آج یہ کہتا ہے کہ پی سی بی ہم سے معاونت لینا چاہے تو لے سکتا ہے۔

اور اسی لیے وہ راشد خان جو بڑے ہو کر شاہد آفریدی بننے کے خواب دیکھا کرتے تھے، اب دھڑلے سے کہتے ہیں کہ افغان کرکٹ کی سب سے زیادہ مدد بی سی سی آئی نے کی۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ دو طرفہ ریاستی تعلقات میں جذبات، احساسات، مروت اور وضع داری جیسی چیزوں کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان تعلقات کا میرٹ صرف مفاد ہوتا ہے۔ بایں ہمہ پی سی بی اور پاکستانی شائقین کو وسیع النظری کا مظاہرہ کرنا ہو گا کہ بھلے ہی انہوں نے افغان کرکٹ کو اپنی گود میں پالا لیکن اس وقت افغان کرکٹ کے مفادات صرف بی سی سی آئی سے جڑے ہیں۔

کیونکہ جس طرح کا رویہ سنیچر کے پاک افغان میچ کے دوران سٹیڈیم اور اس کے اطراف میں دیکھنے کو ملا، وہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک نایاب چیز ہے۔ پاکستان انڈیا اور آسٹریلیا انگلینڈ جیسے ’ہائی وولٹیج’ مقابلوں میں بھی وہ طوفانِ بدتمیزی دیکھنے کو نہیں ملتا جو لِیڈز میں دیکھنے کو ملا۔

بات یہیں تک موقوف رہتی تو بھی بہتر تھا۔ لیکن یہ لڑائی گراؤنڈ سے کہیں زیادہ سوشل میڈیا پر بے ہودہ جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں پاکستانی افعانوں کو ’نمک حرامی’ کے طعنے دے رہے ہیں اور افغان پاکستان کو ’دشمن ملک’ قرار دے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جس طرح کا رویہ سنیچر کے پاک افغان میچ کے دوران سٹیڈیم اور اس کے اطراف میں دیکھنے کو ملا، وہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک نایاب چیز ہے

لیکن ان جذباتی غلغلوں سے کہیں زیادہ بڑی صداقت یہ ہے کہ پی سی بی ایشیائی بلاک میں اپنا وزن یکسر کھو بیٹھا ہے۔ ہوم کرکٹ کی عدم دستیابی، انڈیا سے خراب تعلقات، بنگلہ دیش کا دورے سے بارہا انکار اور اب افغانستان جیسی ٹیم سے بھی روایتی حریفوں کا سا معاملہ، یہ سب کہیں نہ کہیں اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ آئی سی سی ہی کیا، اپنے ایشیائی بلاک میں بھی تنہائی کا شکار ہے۔

پاکستان کرکٹ اور شائقین کے لیے سوال صرف یہ ہے کہ یہ تنہائی کیسے ختم ہو گی؟

یہ محض جذباتیت سے لبریز نعروں اور ’نمک حرامی’ کے طعنوں سے تو دور نہیں ہوگی۔ پی سی بی کو اپنا کرکٹ سٹرکچر بہتر کرنا ہو گا اور یہ امید رکھنی ہو گی کہ مستقبل قریب میں پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہو جائیں، کیونکہ افغانستان ہی نہیں، بنگلہ دیش سے بھی کرکٹنگ روابط انڈیا کی رضامندی سے مشروط ہیں۔

علاوہ ازیں، پاکستان اور افغانستان دونوں کے شائقین کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ کرکٹ تو ہارنے والے کو بھی فاتح سے ہاتھ ملانے کا سبق دیتی ہے۔ یہاں لڑائی صرف میدان میں لڑی جاتی ہے، وہ بھی زبان سے نہیں، دماغ سے۔

’نمک حرامی’ اور ’احسان فراموشی’ کے طعنے میں بہت زیادہ کشش ہے۔ مگر یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ نمک حرامی کا طعنہ پھیلانے والے بھی وہی لوگ ہیں جنہوں نے ’جہاد’ کا بول بالا کرتے دو نسلیں جنگ میں جھونک دیں، پھر خود ہی بانہیں کھول کر افغان مہاجرین کو پناہ دی اور آج ایسے احسان فراموشی کے طعنے دے رہے ہیں گویا راشد خان اپنی مرضی سے کسی مہاجر کیمپ میں پیدا ہوئے تھے اور برضا و رغبت پاکستان کی میزبانی میں پلنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں