کرکٹ ورلڈ کپ 2019: سرفراز احمد بنگلہ دیش کے خلاف جیت کے لیے پُراعتماد

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’اللہ نے یہاں تک پہنچایا ہے، آگے بھی وہ آسانی کریں گے‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے مطابق وہ ورلڈ کپ 2019 میں اپنی ٹیم کی کارکردگی اور پوزیشن سے مطمئن ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں آسٹریلیا کے خلاف میچ جیتنا چاہیے تھا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ میں ایک اہم میچ جمعے کو بنگلہ دیش کے خلاف لندن میں لارڈز کے میدان پر کھیلنے جا رہی ہے جو اس صورت میں پاکستان کے لیے کوارٹر فائنل کی شکل اختیار کر لے گا کہ اگر نیوزی لینڈ بدھ کو کھیلے جانے والے میچ میں انگلینڈ کو شکست دے۔

سرفراز احمد نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ٹیم اچھی پوزیشن پر کھڑی ہے اور وہ ’بھرپور تیاری کے ساتھ بنگلہ دیش کے خلاف میدان میں اُتریں گے‘۔

جب سرفراز سے پوچھا گیا کہ اس وقت ان کی کیا کیفیت ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’کیفیت تو بہت اچھی ہے۔ اللہ کا بہت شکر ہے کہ ہم ابھی اچھی پوزیشن پر کھڑے ہیں۔ ہمارے پاس تین دن ہیں، ہم پوری کوشش کریں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’سرفراز احمد نئے دور کے کپتان ہیں‘

بیٹسمین سرفراز، کپتان سرفراز سے ہار گئے

’کپتان کو یقین دلایا تھا کہ ہم میچ جیت جائیں گے‘

گذشتہ سینچر کو افغانستان کے خلاف سنسنی خیز مقابلے کے بعد جیتنے پر سرفراز نے بتایا کہ انھیں معلوم تھا کہ لیڈز میں 240 یا 230 رنز کا تعاقب کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔

’بدقسمتی سے بیچ میں ہماری صرف ایک پارٹنرشپ لگی۔ دھڑکنیں تو بہت زیادہ تیز تھیں۔ اُن کے سپنرز بہت اچھے ہیں، انھوں نے پِچ اور کنڈیشنز کو بہت اچھا استعمال کیا۔‘

سرفراز نے بتایا ’ان کے سپنرز نے بڑی اچھی بولنگ کی لیکن آخر میں جس ٹیم نے پریشر ہینڈل کیا وہ پاکستان کی ٹیم تھی۔ عماد نے بہت زبردست اننگز کھیلی اور جس طرح ان کا ساتھ شاداب اور وہاب ریاض نے دیا وہ بہت زبردست تھا۔‘

انگلینڈ کی انڈیا کے خلاف جیت کے بعد اب پاکستان کے لیے عالمی کپ میں سیمی فائنل تک رسائی انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے میچ پر منحصر ہے اور پاکستانی شائقین یہ امید کر رہے ہیں کہ نیوزی لینڈ یہ میچ جیت جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جب پاکستان نے افغانستان کو تین وکٹوں سے شکست دی تو جیت کا سہرا عماد وسیم کے سر بندھا

سرفراز نے اس معاملے پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ’جو چیز ہمارے ہاتھ میں ہے ہمیں اس پر کنٹرول رکھنا چاہیے اور جو چیز ہمارے ہاتھ میں نہیں اس پر ہمارا کنٹرول نہیں۔

’میں نہیں سمجھتا انڈیا کے میچ کے بعد لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ پاکستانی ٹیم تین میچ ایک ساتھ جیتے گی اور اس پوزیشن پر آ جائے گی۔ جو بہترین ٹیم ہو گی وہی جیتے گی، ہمارا دھیان صرف ہمارے میچ پر ہے اور جو بھی نتیجہ ہمارے سامنے آئے گا ہم اس کے مطابق کھیلنے کی کوشش کریں گے۔‘

سری لنکا کے خلاف میچ بارش کے باعث منسوخ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو صرف ایک پوائنٹ مل سکا جبکہ آسٹریلیا کا میچ بہت قریب آ کر ہارنے پر سرفراز نے کہا ’سری لنکا والے میچ میں تو یہ چیز ہمارے ہاتھ میں نہیں تھی کیونکہ بارش ہو گئی اور صرف ایک پوائنٹ ملا۔‘

’آسٹریلیا کے خلاف میچ ایک ایسا مقابلہ تھا کہ ہماری اچھی پوزیشن تھی اور وہاں ہم جیت سکتے تھے لیکن یہ کھیل کا حصہ ہے اور اتنے بڑے ٹورنامنٹ میں اُتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔‘

سرفراز نے مزید کہا کہ وہ موجودہ پوزیشن سے مطمئن ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان کے لیے آگے اور آسانیاں پیدا ہوں گی۔

اسی بارے میں