پاکستان اور افغانستان کے میچ میں جھگڑا: ہیڈنگلے میں ہیش آنے والے واقعات کی برطانوی پولیس تحقیقات کر رہی ہے

میچ کے فوراً بعد شائقین گراؤنڈ میں آ گئے اور سکیورٹی عملے کو انھیں قابو کرنا پڑا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میچ کے فوراً بعد شائقین گراؤنڈ میں آ گئے اور سکیورٹی عملے کو انھیں قابو کرنا پڑا

برطانیہ کے علاقے مغربی یارکشائر کی پولیس نے ہیڈنگلے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ میچ کے دوران ہونے والے تشدد کے واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ابھی تک تین گرفتاریاں عمل میں لائی جا چکی ہیں جن میں سے دو کو کسی الزام کے بغیر چھوڑ دیا گیا جبکہ ایک کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے میچ کے شروع ہونے سے پہلے، میچ کے دوران اور بعد میں بد نظمی کے واقعات دیکھنے میں آئے تھے۔ یہ میچ پاکستان تین وکٹ سے جیت گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

کرکٹ: کیا افغانستان کو پاکستان کا شکر گزار ہونا چاہیے؟

پاکستان بمقابلہ افغانستان: شائقین میں تصادم پر آئی سی سی کا نوٹس

’دشمن کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیلیں گے‘

افغانستان، بنگلہ دیش سے تلخ رشتہ کھیل پر بھی حاوی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کرکٹ ورلڈکپ 2019: ’ہارٹ اٹیک ہو سکتا تھا‘

پولیس کا کہنا ہے کہ اب ہیڈنگلے میں ہونے والے باقی دو میچوں کے دوران وہاں پولیس کی زیادہ نفری تعینات کی جائے گی۔

جمعرات کو لیڈز کے اس سٹیڈیم میں افغانستان کا میچ ویسٹ انڈیز سے ہو گا جبکہ ہفتے کو انڈیا اور سری لنکا آمنے سامنے آئیں گے۔

گذشتہ ہفتے منظر عام پر آنے والی کئی ویڈیوز میں گراؤنڈ کے باہر پاکستانی اور افغان شائقین کو آپس میں الجھتے ہوئے اور ایک گروہ کو سٹیڈیم اور مرکزی سڑک کے درمیان موجود گیٹس کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ویڈیو فٹیج میں پاکستان اور افغانستان کے شائقینِ کرکٹ کو آپس میں الجھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

کچھ لوگ گراؤنڈ کے اردگرد لگی باڑ کو پھیلانگ کر گراؤنڈ سے ہوتے ہوئے ویسٹرن ٹیرس کے پیچھے جانے کی بھی کوشش کر رہے تھے۔

افغانستان کے خلاف پاکستان کی سنسنی خیز فتح کے بعد بھی دونوں ٹیموں کے مداحوں کے درمیان لاتوں اور گھونسوں کا تبادلہ سٹینڈز میں بھی جاری رہا اور لوگ دوڑ کر پچ پر بھی چلے گئے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’وہ شائقین کی ایک اقلیت کے درمیان جھگڑے کے بارے میں آگاہ ہیں۔‘

سپرنٹینڈینٹ پولیس کرس براؤن کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس اب پورے واقعے کی ایک بہتر تصویر موجود ہے کہ میچ سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں گراؤنڈ کے اندر اور باہر کیا کچھ ہوا اور ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ ان جرائم کی مکمل مجرمانہ تحقیقات کی جانے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگرچہ ہمارے پاس ایسی کوئی براہ راست اطلاع نہیں کہ لوگ اس میں زخمی ہوئے ہیں لیکن اس فٹیج سے یہ پتہ چلتا ہے کہ لوگوں پر حملہ کیا گیا ہے۔

’کرکٹ میں ہجوم کی طرف سے جھگڑے کے واقعات تقریباً نہیں ہوتے اور اس لیے ہم نے سنیچر کے میچ کو کم رسک والا جانا اور سکیورٹی آپریشن کے لیے گراؤنڈ میں پولیس کے بجائے منتظمین کو ہی ذمہ داری نبھانے دی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سٹیڈیم کے باہر اور اندر سٹینڈز میں لوگ مشتعل ہو گئے اور ایک دوسرے چیزیں پھینکنے لگے

اسی بارے میں