کرکٹ ورلڈ کپ 2019: ’توقعات پر پورا نہ اترنے کا افسوس ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP / Getty

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین امام الحق کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ یہ ان کا پہلا ورلڈ کپ ہے لیکن وہ اس میں بڑا سکور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

یاد رہے کہ اس ورلڈ کپ میں امام الحق نے سات اننگز میں 29.28 کی اوسط سے 205 رنز بنائے ہیں جس میں صرف ایک نصف سنچری شامل ہے جو انھوں نے آسٹریلیا کے خلاف بنائی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سرفراز احمد: ’ہمارا دھیان صرف اپنے میچ پر ہے‘

’کپتان کو یقین دلایا تھا کہ ہم میچ جیت جائیں گے‘

’سوچ لیا تھا کہ راشد خان کو وکٹ نہیں دینی‘

’امام الحق ایسے کیوں کھیلتے ہیں؟‘

#CWC19: ’فائنل کھیلنا ہے تو ہمیں بڑی ٹیموں کو ہرانا ہوگا‘

توقعات پر پورا نہیں اتر سکا

امام الحق کا کہنا ہے کہ اپنی کارکردگی کے حوالے سے جس طرح کی توقعات وہ خود سے وابستہ کیے ہوئے تھے وہ دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

انھوں نے اننگز کا آغاز اچھا کیا لیکن بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے۔ وہ جب سے پاکستانی ٹیم میں آئے ہیں اور سیٹ ہو کر کھیلے انھوں نے بڑا سکور کیا تاہم انگلینڈ اور ویلز میں کھیلے جا رہے موجودہ کرکٹ ورلڈ کپ میں بڑی اننگز نہ کھیلنے کا انھیں بہت افسوس ہے۔

غلط شاٹس کھیل کر آؤٹ ہونا

امام الحق کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی متعدد اننگز کے دوران ایسے شاٹس کھیلے ہیں جو نہیں کھیلنے چاہئیں تھے۔ یہ بات درست نہیں ہے کہ وہ جذباتی ہوجاتے ہیں۔ کبھی آپ کو رنز بہت آسانی سے مل جاتے ہیں اور کبھی آپ کو اپنے رنز کے لیے تگ ودو کرنی پڑتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP / Getty

وہ جب نصف سنچری کے قریب آتے ہیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جتنا جلد ہو سکے اسے مکمل کر کے خود کو پرسکون کر لیں لیکن اس کوشش میں ان کی توجہ ہٹ جاتی ہے اور وہ آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ 40، 44 کے سکور پر آنے کے بعد اپنی توجہ کو مزید پختہ کریں۔ اس وقت ون ڈے کرکٹ ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں کی ہے جو بڑی اننگز کھیلتے ہیں اور وہ اس ورلڈکپ میں بڑی اننگز نہیں کھیل پائے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

آسٹریلیا کے خلاف جیتنا چاہیے تھا

امام الحق کو آسٹریلیا کے خلاف میچ نہ جیتنے کا بے حد افسوس ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ اس میچ میں سیٹ ہو چکے تھے اور محمد حفیظ کے ساتھ بہت اچھا کھیل رہے تھے۔ انھیں لگ رہا تھا کہ وہ یہ میچ جتوا سکتے ہیں لیکن دو وکٹیں گرنے سے صورت حال تبدیل ہو گئی۔ اگر پاکستانی ٹیم میچ جیت جاتی تو آج اگر مگر کی صورت حال سے دوچار نہ ہوتی۔

میرٹ پر ٹیم میں ہوں

امام الحق کے بقول انضمام الحق سے رشتے داری ان کی زندگی میں پوچھا جانے والا سب سے عام سوال بن چکا ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آپ کسی بھی انسان کو گرا دیں اور اسے دباؤ میں لے آئیں لیکن ایک ذات اوپر بھی ہے جو سب دیکھ رہی ہے اس سے آپ جھوٹ نہیں بول سکتے اور وہ بھی آپ کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دیتی۔

وہ دو سال سے ٹیم میں ہیں اور اس دوران بہت کچھ سننے کو ملتا رہا ہے ان کی ایک خراب اننگز پر لوگ تنقید شروع کر دیتے ہیں۔

میڈیا اور سابق کرکٹرز کی باتیں انھیں تکلیف نہیں دیتی ہیں لیکن اگر عام لوگ کچھ کہتے ہیں تو بہت دکھ ہوتا ہے کیونکہ وہ عام لوگوں کو اپنی کارکردگی سے خوش کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں