کرکٹ ورلڈ کپ 2019: کیا پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی اب بھی ممکن ہے؟

سرفراز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کرکٹ ٹیم کے مداحوں کے دلوں میں ایک اور ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں نہ پہنچنے کا غم ہے وہیں کچھ لوگ پاکستان کی بدقسمتی کا رونا روتے بھی دکھائی دیے

انگلینڈ نے اپنے آخری دونوں میچوں میں پہلے انڈیا اور پھر نیوزی لینڈ پر فتح حاصل کر کے پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔

اس صدی میں اب تک یہ چوتھا ورلڈ کپ ہو گا جس میں پاکستان عالمی کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہوگا جبکہ سنہ 1999 کے ورلڈ کپ اور اس سے پہلے پاکستان نے سات میں سے پانچ ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔

نیوزی لینڈ کی انگلینڈ سے شکست کے بعد پاکستان کرکٹ کے مداحوں کے دلوں میں جہاں ایک اور ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں نہ پہنچنے کا غم ہے وہیں کچھ لوگ پاکستان کی بدقسمتی کو رو رہے ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا سری لنکا کے ساتھ قدرے آسان میچ بارش کے باعث منسوخ کر دیا گیا تھا جبکہ نیوزی لینڈ کا انڈیا کے خلاف مشکل میچ بھی بارش کی نذر ہوا تھا۔

لیکن اگر پاکستان کی ورلڈ کپ کی مہم کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک بات صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ کے اہم لمحات میں لڑکھڑا گئی جو اسے بہت مہنگا پڑا۔

مزید پڑھیں

کرکٹ ورلڈ کپ 2019: خصوصی ضمیمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یعنی پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی مشکل ہی نہیں ۔۔۔

اہم لمحات پر پاکستان کو کیا ہو جاتا ہے؟

پاکستان کو 150 گیندوں پر 171 رنز کی ضرورت تھی۔ اپنا آخری ورلڈ کپ کھیلنے والے محمد حفیظ اور نوجوان کھلاڑی امام الحق کے درمیان 80 رنز کی شراکت قائم ہو چکی تھی اور پاکستان کی آٹھ وکٹیں ابھی باقی تھیں۔

دونوں بلے باز پر اعتماد انداز میں بلے بازی کر رہے تھے اور میچ میں پاکستان کی پوزیشن خاصی مستحکم تھی۔

لیکن پھر وہ ہوا جو پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہر مداح کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہوتا ہے۔ پاکستان نے 24 رنز کے عوض چار وکٹیں گوائیں اور فتح آسٹریلیا کی جھولی میں رکھ دی۔

صحافی اور ویب سائٹ ’کرک بز‘ کے نامہ نگار احسن افتخار ناگی کا کہنا ہے کہ انھیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہر کوئی سری لنکا کے خلاف کھیلے گئے میچ کی منسوخی کو کیوں دوش دیتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے نزدیک پاکستان کے پاس آسٹریلیا کو ہرانے کا سنہری موقع تھا لیکن میچ کے اہم لمحات میں پاکستان کے بلے باز تحمل کا مظاہرہ نہ کر پائے۔

’وہ دو پوائنٹ آج ہمارے لیے کتنے اہم ثابت ہوتے، اور ٹورنامنٹ کے آخر میں اپنی قسمت اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے ہمیں دوسری ٹیموں کے نتیجوں پر بھروسہ کرنا پڑا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو پہلے ہی میچ میں شکست نے حوصلے پست کر دیے تھے۔ اس کے بعد پاکستان کو نیٹ رن ریٹ بہتر کرنے کے کئی مواقع ملے لیکن اس نے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔

کرکٹ سے متعلق خبروں اور تجزیوں کی ویب سائٹ کرک انفو کے نامہ نگار عمر فاروق کے مطابق جب ٹورنامنٹ سے پہلے ہی ٹیم ابہام کا شکار تھی کے کون کھیلے گا اور کون نہیں تو ایسے میں آپ ٹیم سے اسی چیز کی امید کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان سے صحیح الیون تو سلیکٹ نہیں ہوئی جس کی وجہ سے وہ تسلسل نہیں بن سکا جو بالآخر آخری تین میچوں میں دیکھنے میں آیا۔‘

یاد رہے کہ پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ ہارنے کے بعد حارث سہیل کو شعیب ملک کی جگہ ٹیم میں شامل کیا اور انھوں نے آتے ہی لگا تار دو نصف سنچریوں کی مدد سے پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کو سہارا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان نے انڈیا کے خلاف میچ جیتنے کے بعد حارث سہیل کو شعیب ملک کی جگہ ٹیم میں شامل کیا

سیمی فائنل تک رسائی کے لیے پاکستان کو کیا کرنا ہو گا؟

پانچ مارچ کو پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں ورلڈ کپ میں اپنے آخری میچ کے لیے لارڈز کے میدان پر آمنے سامنے ہوں گی۔ بنگلہ دیش اس ورلڈ کپ سے پہلے ہی باہر ہو چکا ہے جبکہ پاکستان کو ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ناممکن کو ممکن بنانا ہو گا۔

سب سے پہلے تو پاکستان کو یہ دعا کرنی ہو گی کے اسے ٹاس ہار کر پہلے بولنگ نہ کرنی پڑے کیونکہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان ٹاس پر ہی ورلڈ کپ سے باہر ہو جائے گا۔

پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو نہ صرف ایک غیر معمولی ٹوٹل کھڑا کرنا ہو گا بلکہ بنگلہ دیش کو ایک چھوٹے ٹوٹل پر آؤٹ بھی کرنا ہو گا۔

  • مثال کے طور پر اگر پاکستان 355 رنز بناتا ہے، تو اسے 311 رنز کے مارجن سے جیتنا ہو گا۔
  • اگر گرین شرٹس 400 رنز بناتی ہے تو اسے بنگلہ دیش کی ٹیم کو 84 یا اس سے کم رنز پر آؤٹ کرنا ہو گا۔
  • جبکہ اگر پاکستان 450 رنز بناتا ہے تو اسے بنگلہ دیش کو 321 رنز سے شکست دینا ہو گی۔

یعنی پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی مشکل ہی نہیں ۔۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صحافی احسن کہتے ہیں کہ نیٹ رن ریٹ ہی ایک بڑے ٹورنامنٹ میں ایک ٹیم کی کارکردگی کا بہترین عکاس ہوتا ہے

نیٹ رن ریٹ ہی کیوں؟

اس ٹورنامنٹ میں ایک مرتبہ پھر سے راؤنڈ روبن مرحلہ متعارف کروایا گیا جس کے مطابق تمام ٹیموں نے ایک دوسرے سے میچ کھیلنا تھا۔ ہر ٹیم کی ہار اور جیت کا اندازہ اس میچ کے بعد اس کے نیٹ رن ریٹ سے لگایا جاتا ہے۔

پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بدترین شکست کے بعد پاکستان کا نیٹ رن ریٹ -0.58 ہو گیا تھا جس کے بعد سے اسے بہتر نہیں بنا سکا۔

صحافی احسن کہتے ہیں کہ نیٹ رن ریٹ ہی ایک بڑے ٹورنامنٹ میں ایک ٹیم کی کارکردگی کا بہترین عکاس ہوتا ہے اور اگر کل پاکستان کو بنگلہ دیش سے شکست اٹھانی پڑتی ہے تو پوائنٹس اور آئی سی سی کی ایک روزہ رینکنگ تقریباً ایک جیسی نظر آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ نیوزی لینڈ کو اس سے کوئی فائدہ ہوا ہے، نیوزی لینڈ نے اپنے میچوں میں پاکستان سے بہتر کھیل پیش کیا اور اسی لیے آج وہ سیمی فائنل کھیلنے کے نزدیک ہیں۔‘

صحافی عمر اس حوالے سے مختلف نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان بنگلہ دیش کو ہراتا ہے تو نیوزی لینڈ اور پاکستان کے ایک جتنے میچ کھیلنے کے بعد 11 ہی پوائنٹس ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’لیکن پاکستان نے اہم موقعوں پر برا کھیل پیش کر کے اپنے آپ کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس ورلڈ کپ میں فخر زمان بھی کوئی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں

ورلڈ کپ کے بعد کیا ہو گا؟

جب بھی پاکستان ورلڈ کپ کے پہلے راؤنڈ سے باہر ہوا ہے تو عموماً اس کے بعد کافی سخت ردِ عمل آتا ہے اور پوری ٹیم کو تبدیل کرنے کی مطالبے کیے جاتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے کو از سرِ نو تبدیل کرنے کے بارے میں منصوبہ بندی کی جا رہی ہے لیکن اس حوالے سے حتمی اعلان ورلڈ کپ کے بعد کیا جائے گا۔

عمر کا کہنا ہے کہ ’اس بار شاید ویسا ردِ عمل نہ آئے جیسا پہلے ورلڈ کپ میں آتا ہے کیونکہ اس دفعہ پاکستان ٹیم میں زیادہ تر نوجوان کھلاڑی ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے ڈھانچے میں تبدیلی ایک مثبت عمل ہے لیکن اس کے ثمرات حاصل کرنے میں کم از کم چار سال لگیں گے اور شاید ایک اور ورلڈ کپ بھی ایسا ہی گزرے۔

اسی بارے میں