سمیع چوہدری کا کالم: ’پانچ سو رنز بن تو سکتے تھے لیکن۔۔۔‘

سرفراز احمد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پژمُردہ چہرے، افسردہ آنکھیں اور بُجھی امیدیں۔۔۔ یہ میچ ایسے ہوا کہ جیسے اب نہیں، بہت پہلے ہی یہ ہو چکا تھا کہیں نم ناک تاریخ کے باسی اوراق پر۔

میچ سے پہلے سرفراز احمد کہہ رہے تھے کہ معجزے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ہم پانچ سو رنز بنا لیں۔ ہو سکتا ہے بنگلہ دیش جلدی آوٹ ہو جائے اور ہم اب بھی سیمی فائنل میں پہنچ جائیں۔

اس نوعیت کا عالمی ایونٹ اور پہلے دن سے ہی پاکستان کی ساری کیمپین ’اگر مگر‘ اور ’ہو سکتا ہے‘ پر منحصر ہو کر رہ گئی۔ ویسٹ انڈیز سے ایسی شکست کہ جس کے لئے ’شرمناک‘ بھی ایک محدود لفظ قرار پایا۔

سری لنکا سے میچ بارش کی نذر ہو گیا اور نہ صرف قومی ٹیم بلکہ پوری قوم کے لئے ایک لامتناہی بہانہ سا بن گیا کہ اگر وہ میچ ہو جاتا تو ہم یقیناً سیمی فائنل میں پہنچ جاتے۔

سمیع چوہدری کے دیگر کالم پڑھیے

’ایک ارب لوگ کیا دیکھتے ہیں اس میچ میں؟‘

’بھئی کیسے بنا لیتے ہو ایسی وکٹیں؟‘

’لیکن سرفراز احمد برا مان گئے‘

انگلینڈ نمبر ون ٹیم تھی، انگلینڈ سے جیت ایک ایسا ’اپ سیٹ‘ تھا کہ جس نے کہیں نہ کہیں چیمپیئنز ٹرافی کی یادیں تازہ کر دیں۔ قوم بھی پُرامید ہو گئی اور قومی ٹیم بھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن بھارت سے شکست وہ مرحلہ ثابت ہوا کہ جہاں پاکستان کے تمام چانسز معدوم ہونے لگے۔ ایک بار پھر ایک عالمی ایونٹ میں ’اگر مگر‘ پاکستان کا مقدر ٹھہرا۔

اس اگر مگر کا ذہنی دباؤ کچھ ایسا تھا کہ پاکستانیوں نے پورے ورلڈ کپ کی شفافیت پہ ہی سوالات اٹھانا شروع کر دئیے۔ وہی لوگ جنھوں نے ورلڈ کپ 2011 کے سیمی فائنل میں مصباح کی اننگز پر سوالات اٹھائے تھے، اب کی بار دھونی کے کردار کو مشکوک بنانے پہ تُل گئے۔

درحقیقت تو انگلینڈ کی بہترین بولنگ اور بھارت کی بدترین بولنگ اس شکست کی وجہ بنی مگر پاکستانیوں کے ارمان اس قدر شکستہ ہو چلے تھے کہ دھونی کے سٹرائیک ریٹ کو نشانہ بنا لیا۔

ٹوٹی امیدوں کا سلسلہ یہ جان کر بھی نہ تھم سکا کہ اگر گلبدین نائب چھیالیسواں اوور نہ پھینکتے تو پاکستان کو سیمی فائنل کی دوڑ سے نکلنے کے لئے کسی اور ’اگر مگر‘ کا انتظار نہ کرنا پڑتا۔

لیکن جذباتی شائقین جو ایک میچ کے بعد گالیاں دینے لگتے ہیں اور اگلے ہی میچ پر ٹیم کی بلائیں لینے لگتے ہیں، انھوں نے یہ تو طے کر ہی لیا تھا کہ بھارت انگلینڈ سے جان بوجھ کر ہارا۔ یہ فیصلہ بھی سنا ڈالا کہ کیویز بھی انگلینڈ سے جان بوجھ کر ہارے۔

گویا عالمی سیاست ہی کی طرح عالمی کرکٹ میں بھی پاکستان ’مظلوم گھر‘ ٹھہرا جس کو تنہا کرنے کے لئے ساری دنیا ’شریکا‘ بن جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن اس کے باوجود ظرف تھا سرفراز احمد کا کہ پھر بھی پانچ سو رنز بنانے کا خواب دیکھا اور سوچا کہ بنگلہ دیش کو دو سو سے کم سکور پر آؤٹ کر کے فراٹے بھرتے سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گے۔

سرفراز بجا تھے۔ وہ ایسے خواب دیکھ بھی سکتے تھے۔ لیکن فخر زمان بھلا ایسا کوئی خواب کیونکر دیکھتے۔ سرفراز کا تو جانا ٹھہر چکا ہے مگر باقی سبھی کے سامنے تو ایک ’درخشاں مستقبل‘ منتظر ہے۔

امام الحق کا تو پورا کرئیر باقی پڑا ہے۔ فخر زمان کو بھی تو ٹیم میں اپنی جگہ برقرار رکھنا تھی۔ باقی سبھی کے اذہان میں بھی کہیں نہ کہیں ایسی ہی امیدیں کروٹیں لے رہی تھیں۔

ایسے میں کہاں سے بنتے پانچ سو رنز اور کیسے ہوتا وہ معجزہ برپا کہ جس کی حسرت میں سرفراز اور ان کی پوری قوم ہفتوں سے بے خواب تھی۔

سوچنے کی بات صرف یہ ہے کہ دھونی کے سٹرائیک ریٹ پر سوال اٹھانے والے اب اس بیٹنگ پرفارمنس کے بارے میں کیا فرمایئں گے جہاں انھیں واقعی یقین تھا کہ پانچ سو رنز بن بھی سکتے ہیں اور بنگلہ دیش عین اس مطلوبہ رن ریٹ سے ہار بھی سکتا ہے جو پاکستان کو سیمی فائنل میں رسائی کے لئے چاہیے۔

اسی بارے میں