شعیب ملک نے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع کہہ دیا

شعیب ملک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

شعیب ملک نے چار سال قبل ٹیسٹ کرکٹ کو اس لیے خیرباد کہا تھا کیونکہ وہ اپنی تمام تر توجہ محدود اوورز کی کرکٹ پر مرکوز رکھنا چاہتے تھے۔ آج جب انھوں نے اپنے ون ڈے انٹرنیشنل کریئر کو الوداع کہنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے تو اس امید کے ساتھ کہ وہ آئندہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیل کر مکمل طور پر اپنے بین الاقوامی کریئر کا اختتام کردیں گے۔

شعیب ملک پہلے ہی یہ کہہ کر انگلینڈ آئے تھے کہ پچاس اوورز کی کرکٹ میں یہ ان کا الوداعی ایونٹ ہے لیکن ان کی اس ایونٹ کو اپنے لیے یادگار بنانے کی خواہش پوری نہ ہوسکی۔

انگلینڈ کے خلاف میچ میں وہ آٹھ گیندوں پر اتنے ہی رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ آسٹریلیا کے خلاف دوسری ہی گیند پر پیٹ کمنز نے انھیں پویلین کا راستہ دکھایا اور انڈیا کے خلاف میچ میں انھوں نے ہاردک پانڈیا کی پہلی ہی گیند کو بڑی بے بسی سے اسٹمپس سے ٹکراتے دیکھا۔

اس کے بعد وہ ٹیم میں جگہ برقرار نہ رکھ سکے گویا ان کے لیے یہ ورلڈ کپ صرف گیارہ گیندوں کا ہی ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

’کسی بھی نوجوان کرکٹر سے زیادہ فٹ ہوں‘

سرفراز کو آرام، شعیب ملک کپتانی کرینگے

’اگلے ورلڈ کپ تک کھیلنے کی خواہش ہے‘

شعیب ملک اس ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کے کرس گیل کے بعد دوسرے سب سے پرانے کھلاڑی تھے۔ ان دونوں کرکٹرز کا کریئر سنہ 1999 میں شروع ہوا تھا۔ کرس گیل کی طرح شعیب ملک کا بین الاقوامی کریئر بھی بڑا ہنگامہ خیز رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شعیب ملک انگلینڈ کے خلاف میچ میں آٹھ گیندوں پر آٹھ ہی رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے

انھوں نے تینوں فارمیٹس میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔ آج سے بارہ سال قبل جب انھیں پہلی بار کپتانی ملی تو اس وقت یہ کہا گیا کہ انھیں وقت سے پہلے یہ ذمہ داری دے دی گئی ہے۔

اس دوران ان کا سخت رویہ خصوصاً پریس کانفرنسوں میں میڈیا کے ساتھ سخت لہجے میں بات کرنا موضوع بحث بنا رہا اورکپتانی ان کے پاس زیادہ دیر رہ نہ سکی۔

شعیب ملک کے کریئر میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب سنہ 2010 میں آسٹریلوی دورے سے واپسی پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹیم میں ٹوٹ پھوٹ اور مایوس کن کارکردگی کی تحقیقات کرتے ہوئے کچھ کرکٹرز کو اپنے نشانے پر لیا، ان میں شعیب ملک بھی شامل تھے۔ ان پر ایک سال کی پابندی عائد کی گئی جو بعد میں ختم کردی گئی۔

وقت کے ساتھ ساتھ شعیب ملک کے مزاج میں ٹھہراؤ اور کارکردگی میں بہتری آتی گئی۔ وہ دنیا بھر کی بڑی بڑی ٹی ٹوئنٹی لیگس میں بھی کھیلتےاور اچھی کارکردگی دکھاتے ہوئے نظر آئے ۔اس دوران دیکھنے والوں کو ان کی غیرمعمولی فٹنس دیکھ کر بڑی حیرانی ہوتی کہ انھوں نے کسی بھی نوجوان کرکٹر سے کہیں زیادہ خود کو فٹ رکھا ہوا ہے۔

شعیب ملک پر ناقدین اپنے کپتانوں کے خلاف گروپنگ میں پیش پیش ہونے کا الزام بھی عائد کرتے رہے۔

وہ اس وقت شہ سرخیوں میں آئے جب ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں جان بوجھ کر میچ ہارنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نےان پر ایک ٹیسٹ میچ کی پابندی اور جرمانہ عائد کردیا۔

شعیب ملک نے اس سال سرفراز احمد پر عائد پابندی کی وجہ سے جنوبی افریقہ کے دورے میں کپتانی بھی کی لیکن بحیثیت بیٹسمین ان کی کارکردگی اس سال ون ڈے میچوں میں بہت مایوس کن رہی اور وہ بارہ اننگز میں صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوسکے۔

جہاں تک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کا تعلق ہے تو اس سال وہ اٹھارہ اننگز میں صرف ایک نصف سنچری اسکور کر پائے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں