کیا مہندر سنگھ دھونی کے جانے کا وقت آ گیا ہے؟

دھونی اور کوہلی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مہندر سنگھ دھونی کے بغیر انڈیا کی ون ڈے ٹیم کے بارے سوچنا ناقابل یقین لگتا ہے کیونکہ ایک زمانے سے وہ وکٹوں کے پیچھے چیزوں کو درست کرتے یا پھر رنز کا پیچھا کرنا ہو تو اس میں اپنے انداز میں منہمک نظر آتے رہے ہیں۔

یہ اس شخص کے بارے میں ہے جس نے سنہ 2004 میں آئی فون آنے سے تین سال قبل بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا۔

لیکن کیا اب بالاخر انڈیا کے جدید دور کے اس بڑے کھلاڑی کے جانے کا وقت آ گیا ہے؟

جسمانی علامات ایک عرصے سے ظاہر ہو رہی ہیں۔ لمبے لہراتے ہوئے بالوں کو گئے زمانہ ہو گيا اور اب اس کی جگہ چھوٹے اور سفیدی مائل بالوں کے سٹائل نے لے لی ہے۔

اور اب انڈین مداحوں کو خدشہ ہونے لگا ہے کہ دوسری علامات بھی ان کی کرکٹ پر حاوی ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا کی شکست کا ذمہ دار کون، دھونی یا نئی جرسی؟

’دھونی انڈیا کو ہر میچ نہیں جتوا سکتے‘

کسی بھی ون ڈے اننگز کو بہترین ڈھنگ سے ختم کرنے کے لیے معروف دھونی پر رواں ورلڈ کپ کے دوران ان کی سست رفتار بیٹنگ کے لیے تنقید ہو رہی ہے۔

اس میں اس وقت شدت آئی جب وہ انڈین ٹیم کو اپنے روایتی انداز میں انگلینڈ کے خلاف فتح سے ہمکنار نہیں کرا سکے اور گروپ میچ میں انڈیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انگلینڈ کے سابق اسسٹنٹ کوچ پال فاربریس نے کہا 'ہر عظیم کھلاڑی کے ساتھ کسی نہ کسی وقت ایسا ہوتا ہے اور بعض کھلاڑیوں کے لیے اکثر ورلڈ کپ جیسے بڑے مواقع اس کی ابتدا ہوتے ہیں۔

'مجھے اس بات میں حیرت نہیں ہو گی کہ وہ رواں ورلڈ کپ کے بعد یہ فیصلہ کریں کہ انھوں نے کافی بین الاقوامی کرکٹ کھیل لی ہے۔'

تو کیا 348 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے دھونی کے جانے کا وقت آ گیا ہے؟ اور ان کی رخصتی سے دنیا کی نمبر ون ٹیم پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

'ان کی کمی محسوس ہو گی'

دھونی کو انڈیا میں عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جنھوں نے سنہ 2011 کے ورلڈ کپ میں انڈیا کو فتح سے ہمکنار کیا تھا۔

انڈیا کو سنہ 2011 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں جب ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک ہیرو کی ضرورت تھی تو وہ نہ تو سچن تندولکر تھے، نہ وراٹ کوہلی یا وریندر سہواگ بلکہ وہ دھونی تھے جو میدان میں اترے اور 79 گیندوں پر 91 رنز بنائے۔

اب اس طرح کی اننگز ان کے یہاں نظر نہیں آتی حالانکہ رواں سال اب تک ان کی بیٹنگ اوسط 61.11 کی رہی ہے۔

ان میں جو کمی آئی ہے وہ سٹرائیک ریٹ (رن فی گیند) ہے جو سنہ 2005 میں 103.11 ہوا کرتا تھا لیکن اب محض 83.71 رہ گیا ہے۔

انڈین مبصر پرکاش وکانکر نے کہا 'حالیہ دنوں دھونی کا پہلا ردعمل یہ ہے کہ وہ ڈاٹ بال بہت کھیلتے ہیں اور وہ اس تیزی کے ساتھ رنز نہیں بناتے جس طرح بنایا کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

'میں نے اعداد و شمار دیکھے جس میں دھونی سنہ 2015 کے آخری 20 اوورز میں ہر 100 گیندوں پر 106 رنز بنایا کرتے تھے لیکن اب وہ صرف 93 رنز بنا پاتے ہیں۔

'رواں ورلڈ کپ میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ آپ انڈیا کے آخری چار بیٹسمینوں پر بھروسہ نہیں کر سکتے کہ وہ بیٹ سے کچھ کر سکتے ہیں۔

'اس لیے جب انڈیا بیٹنگ کر رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے ذرائع کا جائزہ لیتے ہیں مجموعی رنز پر نظر رکھتے ہیں اور اس کے حساب سے کھیلتے ہیں۔ وہ شاید کرکٹ کے کھیل کا بہترین مطالعہ کرنے والے ہیں۔'

دھونی نے سنہ 2007 سے 2017 تک انڈین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی۔ ان کی قیادت میں انڈیا نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ، ورلڈ کپ اور چیمپیئنز ٹرافی جیتی۔

اور ان کی یہی قائدانہ صلاحیت ہے جس کی کمی ان کی بیٹنگ سے زیادہ انڈیا اور موجودہ کپتان وراٹ کوہلی کو محسوس ہو گی۔

وکانکر نے مزید کہا 'وہ انڈین کرکٹ ٹیم کے سینٹرل پراسیسنگ یونٹ (سی پی یو) ہیں۔ میدان میں تقریباً تمام چیزیں ان کے گرد گھومتی ہیں۔ وہ فیلڈروں کو کہاں کھڑا ہونا ہے بتاتے ہیں اور بولروں کو یہ بتاتے ہیں کہ کون سی گیند کروانی ہے۔

'وراٹ کوہلی انتہائی مطمئن ہیں اور چاہتے ہیں کہ دھونی ان کی ٹیم میں وہ کردار نبھاتے رہیں اور جو لوگ یہ سوچتے ہیں کہ دھونی حد سے زیادہ (اپنا کیریئر) کھینچ رہے ہیں وہ ٹیم میں ان کے وجود کو نہیں سمجھتے۔

'انھیں بہت زیادہ عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ مثبت اثرات مرتب کرنے میں بے پناہ قدرت رکھتے ہیں۔

'انڈیا کو ان کی اصل قدر اس وقت معلوم ہو گی جب وہ اپنے گلوز اتار کر انڈین ٹیم کو خیرباد کہہ دیں گے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں