شعیب ملک: مداحوں اور ساتھی کھلاڑیوں کا سابق کپتان کو خراج تحسین

شعیب ملک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شعیب ملک: ’سب سے زیادہ میں اپنے مداحوں کا شکر گزار ہوں‘

گذشتہ رات جب پاکستانی آل راؤنڈر شعیب ملک نے ون ڈے کرکٹ میں اپنے بیس سالہ طویل کیریئر کو الوداع کہا تو انھیں خاص الوداعی میچ تو نہ ملا تاہم مداحوں اور ساتھی کھلاڑیوں نے انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مہارت اور قابلیت کی تعریف کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ان کے نام سے مختلف ٹرینڈ چل رہے ہیں جن میں #ThankYouMalik یا ’شکریہ شعیب ملک‘ شامل ہیں۔

ورلڈ کپ 2019 کی ابتدا سے ہی شعیب ملک پر ان کی خراب کارکردگی کی وجہ سے تنقید ہوتی رہی ہے۔ پاکستان کی انڈیا سے شکست کے بعد انھیں ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا تھا جس کے بعد انھیں اس ورلڈ کپ کے کسی اور میچ میں شامل نہیں کیا گیا۔

تاہم بنگلا دیش کے خلاف پاکستان کے آخری میچ میں جیت کے بعد انھیں مداحوں، ساتھی کھلاڑیوں اور ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے سراہا گیا۔

ریٹائرمنٹ پر شعیب ملک نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ’آج میں ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہو رہا ہوں۔ میں تمام کھلاڑیوں، کوچز، خاندان کے افراد، دوست احباب، میڈیا نمائندوں اور سپانسرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان سب سے زیادہ میں اپنے مداحوں کا شکر گزار ہوں جن سے میں بے پناہ محبت کرتا ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

’کسی بھی نوجوان کرکٹر سے زیادہ فٹ ہوں‘

شعیب ملک نے ون ڈے انٹرنیشنل کو الوداع کہہ دیا

’جب شعیب ملک پہلا اوور پھینک رہے تھے‘

شعیب ملک کی اہلیہ اور انڈین ٹینس سٹار ثانیہ مرزا نے اپنے ٹویٹ میں کہا ’ہر کہانی کا ایک اختتام ہوتا ہے لیکن زندگی میں ہر اختتام ایک نئی شروعات ہوتی ہے۔ شعیب ملک نے 20 سال اپنے ملک کے لیے فخر سے کھیلا ہے اور اب بھی وہ پرعزم ہیں۔ مجھے اور اذہان کو ان کی تمام خدمات پر فخر ہے۔‘

ساتھی کھلاڑیوں، بشمول سابق کرکٹرز نے بھی نے پاکستانی ٹیم کے لیے ان کی خدمات کو سراہا ہے۔

پاکستانی فاسٹ بولر وہاب ریاض نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ’شعیب ملک کے ساتھ میں نے دس عمدہ سال گزارے ہیں۔ شعیب ملک وہ کھلاڑی ہیں جنھوں نے اپنا کیریئر بنایا اور پھر دوبارہ از سرِ نو تعمیر کیا۔‘

’ہم ڈریسنگ روم اور فیلڈ پر ان کی موجودگی یاد کیا کریں گے۔ وہ سیالکوٹ کی شان ہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیشہ خوش رہیں۔‘

جب احمد شہزاد نے شعیب ملک کو سراہا تو بعض ٹویٹر صارفین نے ان پر طنز کرتے ہوئے پوچھا ’آپ کب ریٹائر ہورہے ہیں؟‘

’سپنر کے طور پر آئے لیکن بیٹسمین بن کر چھا گئے‘

ٹویٹر پر پرادھم نامی ایک صارف نے سابق پاکستانی کپتان کو سراہتے ہوئے کہا ’لوگ صرف شعیب ملک کی گذشتہ تین، چار میچز کی کارکردگی پر تنقید کررہے ہیں۔ دراصل وہ اس کھلاڑی کی قابلیت سے ناواقف ہیں۔ وہ بطور سپنر ٹیم کا حصہ بنے اور بعد میں بیٹسمین بن کر چھا گئے۔ انھوں نے ٹیم کی قیادت بھی کی۔‘

صرف 17 سالہ کی عمر میں شعیب ملک نے ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنا پہلا ون ڈے میچ کھیلتے ہوئے دو وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن انڈیا کے خلاف اپنے آخری میچ میں وہ کوئی وکٹ حاصل نہیں کر پائے تھے۔

انھوں نے بطور بولر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک سپیشلسٹ آل راؤنڈر کی حیثیت حاصل کرلی۔

لیکن کیریئر کے اختتام پر بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں متاثرکن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے اور اسی وجہ سے عالمی کپ کے آخری میچز میں پاکستان ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

فین نامی ایک دوسرے صارف نے لکھا ’شعیب ملک کے بغیر کرکٹ، کرکٹ نہیں رہے گی۔‘

نور خان کے مطابق ’اس سے فرق نہیں پڑتا کہ شعیب ملک کا کیریئر کیسے اختتام پذیر ہوا کیونکہ انھوں نے پاکستان کو کئی میچ جتوائے ہیں۔‘

عبداللہ نے لکھا کہ ’شعیب ملک ہمارے ہیرو ہیں اور اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہے۔ ہم کرکٹ میں آپ کی خدمات کو سراہتے ہیں۔‘

شعیب ملک نے ریٹائرمنٹ کیوں لے لی؟

شعیب ملک نے چار سال قبل ٹیسٹ کرکٹ کو اس لیے خیرباد کہا تھا کیونکہ وہ اپنی تمام تر توجہ محدود اوورز کی کرکٹ پر مرکوز رکھنا چاہتے تھے۔

انھوں نے اپنے ون ڈے انٹرنیشنل کریئر کو الوداع کہنے کا باضابطہ اعلان اس امید کے ساتھ کیا ہے کہ وہ آئندہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیل کر مکمل طور پر اپنے بین الاقوامی کریئر کا اختتام کردیں گے۔

شعیب ملک پہلے ہی یہ کہہ کر انگلینڈ آئے تھے کہ پچاس اوورز کی کرکٹ میں یہ ان کا الوداعی ایونٹ ہے لیکن ان کی اس ایونٹ کو اپنے لیے یادگار بنانے کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔

ورلڈکپ میں شعیب ملک کی کارکردگی

شعیب ملک اس ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کے کرس گیل کے بعد دوسرے سب سے پرانے کھلاڑی تھے۔ ان دونوں کرکٹرز کا کریئر سنہ 1999 میں شروع ہوا تھا۔

انگلینڈ کے خلاف میچ میں شعیب ملک آٹھ گیندوں پر آٹھ رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

آسٹریلیا کے خلاف دوسری ہی گیند پر پیٹ کمنز نے انھیں پویلین کا راستہ دکھایا اور انڈیا کے خلاف میچ میں انھوں نے ہاردک پانڈیا کی پہلی ہی گیند کو بڑی بے بسی سے اسٹمپس سے ٹکراتے دیکھا۔

اس کے بعد وہ ٹیم میں جگہ برقرار نہ رکھ سکے گویا ان کے لیے یہ ورلڈ کپ صرف گیارہ گیندوں کا ہی ثابت ہوا۔

جہاں تک بولنگ کی بات ہے تو انھوں نے اس ٹورنامنٹ میں صرف ایک وکٹ حاصل کی۔ لیکن وہ وکٹ انگلینڈ کے جارحانہ بیٹسمین بین سٹوکس کی تھی اور میچ جیتنے میں موثر ثابت ہوئی۔

شعیب ملک کا ون ڈے کیریئر

اپنے ون ڈے کیریئر میں شعیب ملک نے 287 میچ کھیلے اور 7534 رنز بنائے جس میں ان کی 9 سنچریاں، 44 نصف سنچریاں اور 158 وکٹیں شامل ہیں۔

انھوں نے تینوں فارمیٹس میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔ اس سال شعیب ملک نے سرفراز احمد پر عائد پابندی کی وجہ سے جنوبی افریقہ کے دورے میں کپتانی بھی کی۔

لیکن بحیثیت بیٹسمین ان کی کارکردگی اس سال ون ڈے میچوں میں بہت مایوس کن رہی اور وہ بارہ اننگز میں صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہو سکے۔

اسی بارے میں