غلام علی: سائیکل ساز سے کراٹے چیمپیئن بننے تک کا سفر

کراٹے
Image caption انگریزی کا ایک محاورہ ہے جس کے معنی کچھ یوں ہیں کہ 'بادشاہ نہ بنو، بلکہ بادشاہ گر بنو'

انگریزی کا ایک محاورہ ہے جس کے معنی کچھ یوں ہیں کہ ’بادشاہ نہ بنو، بلکہ بادشاہ گر بنو۔'

کوئٹہ کے علاقے ہزارہ ٹاؤن کے رہائشی غلام علی کو علاقے میں اس کھیل کا ’بادشاہ گر‘ مانا جاتا ہے۔

بادشاہ گر یعنی 'کنگ میکر' کو حقیقی بادشاہ سے زیادہ طاقتور تصور کیا جاتا ہے اور یہ رتبہ حاصل کرنے کا سفر نہایت مشکل اور صبرآزما ہوتا ہے۔

آسان تو بادشاہ بننا بھی نہیں ہے لیکن غلام علی پہلے تو خود کراٹے کے کھیل میں بادشاہ بنے اور پھر انھوں نے اپنے شاگردوں کو بادشاہ بنانے کی ٹھانی۔

یہ بھی پڑھیے

وزیرستان کے بے گھر طالب علم کا عالمی ریکارڈ

ایشین گیمز: کراٹے میں نرگس نے کانسی کا تمغہ جیت لیا

مارشل آرٹ کے ماہر پاکستانی کھلاڑی کا ایک اور عالمی ریکارڈ

اتار چڑھاؤ سے بھرپور 37 سالہ سفر کے دوران انھوں نے سائیکلیں بھی بنائیں، موٹر سائیکلوں کی بھی مرمت کی اور لوگوں کے کپڑے بھی سیے۔

کمسنی میں ہی والد کی وفات کے بعد انھیں پڑھائی چھوڑ کر مزدوری کرنی پڑی مگر وہ یہ عزم کر چکے تھے کہ انھوں نے زندگی میں کچھ بڑا کر کے دکھانا ہے اور اس کے لیے انھوں نے کراٹے کھیلنے کا راستہ چنا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کنگ میکر

غلام علی کا کہنا ہے کہ 'اس زمانے میں کراٹے کے اساتذہ کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا چنانچہ میں نے بچپن ہی سے سوچ لیا تھا کہ میں کراٹے ہی کھیلوں گا اور اس شعبے میں استاد بنوں گا۔'

اس کے بعد اگلا مرحلہ تھا اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کا، جس کے لیے وسائل کی ضرورت تھی اور غلام علی کے پاس ان کی کمی۔

لیکن راستے کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے وہ مسلسل لگن کے ساتھ اپنی تمام تر توجہ اپنی ٹریننگ پر دیتے رہے۔

'سنہ 1997 میں جب میں نے واپڈا کی طرف سے کھیلنا شروع کیا تو اس وقت میری تنخواہ صرف تین ہزار تھی جبکہ کلب کا کرایہ چھ ہزار روپے تھا۔'

سنہ 1997 سے سنہ 2011 تک انھوں نے پاکستانی قومی ٹیم کی بھی نمائندگی کی ہے۔ بی بی سی کو انھوں نے اس بارے میں بتایا کہ وہ جتنے سال قومی ٹیم میں رہے تب تک قومی سطح پر ناقابلِ شکست رہے اور ساؤتھ ایشین گیمز میں بھی تین بار چیمپیئن رہے، وہ بھی ڈبل گولڈ میڈلسٹ۔

Image caption غلام علی کی شاگرد لڑکیوں نے ساؤتھ ایشین گیمز میں گولڈ میڈلز جیتنے کی ہیٹ ٹرک کی

انھوں نے سال ہا سال اپنی تربیت جاری رکھی اور کسی بھی کامیابی کے بعد انھوں نے یہ نہیں سوچا کہ 'بس اب بہت ہوا۔'

'اپنے کھیل میں بہتری لانے کے لیے میں نے ایران میں پانچ سال تک اس کھیل کی تربیت حاصل کی اور دبئی میں بھی تین سال اچھے استادوں کی زیرِ نگرانی رہا۔'

سنہ 2004 میں جب انھوں نے اپنا پہلا گولڈ میڈل جیتا تو اسی جیت کی رقم سے اپنے علاقے میں کراٹے کلب کا آغاز کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'میرے اس فیصلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اب لڑکے اور لڑکیاں بغیر کسی خوف و خطر آزادانہ طور پر اس کلب میں آسکتے ہیں۔'

'میرے لیے سب سے بڑی خوشی کی بات یہ ہوتی ہے کہ بلوچستان کی ویمن کراٹے کی ٹیم ہمیشہ ہمارے ہی کلب سے بنتی ہے کیونکہ باقی جگہوں میں لڑکیوں کی اتنی باقاعدہ تربیت نہیں ہوتی۔'

ان ہی لڑکیوں میں سب سے مشہور نرگس ہزارہ ہیں جنھوں نے پچھلے سال ایشین گیمز میں صرف 20 سال کی عمر میں ہی کانسی کا تمغہ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں۔ اسی طرح کلثوم ہزارہ نے بھی اپنے استاد کے نقش قدم پر چل کر ساؤتھ ایشین گیمز میں گولڈ میڈلز جیتنے کی ہیٹ ٹرک کی۔

Image caption 'شروع میں کچھ لوگ لڑکے اور لڑکیوں کے ایک ساتھ ٹریننگ کے خلاف تھے مگر جب ہمارے ہی کلب سے لڑکیوں نے میڈلز لانا شروع کیا تو لوگوں کی مخالفت آہستہ آہستہ ختم ہو گئی'

آج بھی جب آپ ہزارہ ٹاؤن کے اس چھوٹے سے محلے میں واقع اس کراٹے کلب میں داخل ہوں تو لڑکے اور لڑکیوں کو ایک ساتھ کراٹے کی ٹریننگ کرتے ہوئے دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت کا احساس ہو گا۔ مگر جو لڑکیاں الگ سے ٹریننگ کرنا چاہتی ہیں ان کے لیے ایک الگ ٹائم بھی مخصوص ہے۔

غلام علی کہتے ہیں کہ 'شروع میں کچھ لوگ لڑکے اور لڑکیوں کے ایک ساتھ ٹریننگ کے خلاف تھے مگر جب ہمارے ہی کلب سے لڑکیوں نے میڈلز لانا شروع کیا تو لوگوں کی مخالفت آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔'

پچھلے 15 برسوں میں ان کے کلب سے تقریباً 1800 شاگرد تربیت لے چکے ہیں۔ مگر ان کے مستقل شاگردوں کی تعداد 300 ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ قومی سطح پر اب تک 25 شاگرد سینیئر اور جونیئر چیمپیئنز بن چکے ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر 10 شاگرد ملک کا نام روشن کر چکے ہیں۔

فی الوقت ان کے 24 شاگرد واپڈا، ریلوے، پولیس اور آرمی کی طرف سے کھیل رہے ہیں اور باقاعدہ تنخواہ لیتے ہیں۔

اور صرف محکمہ جاتی ٹیموں میں نہیں، بلکہ پاکستان کی قومی ٹیم میں بھی ان کے کلب کے آٹھ ارکان کھیلتے ہیں۔

غلام علی کہتے ہیں کہ پچھلے 13 برسوں میں جب سے کوئٹہ شدید بدامنی کی لپیٹ میں تھا تو ان کے لیے اپنے علاقے سے باہر نکلنا بھی مشکل ہو گیا تھا، مگر اس کے باوجود وہ ہمیشہ اپنے شاگردوں کو مختلف مقابلوں میں لے کر جاتے تھے تا کہ ان کو مقابلہ جیتنے کی وجہ سے ہمت ملے۔

Image caption ’اس وقت بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے جب کسی ٹورنامنٹ کے دوران لوگ اپنی بیٹیوں کو لا کر ان کے شاگردوں کی مثالیں دیتے ہیں‘

اسی طرح کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کی زندگی کے سب سے یادگار لمحات میں سے ایک وہ تھا جب ان کا ایک شاگرد، جس کے والدین ایک واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے، نیشنل گیمز میں گولڈ میڈل جیت کر آیا۔

وہ کہتے ہیں کہ انھیں اس وقت بہت زیادہ خوشی ہوتی ہے جب کسی ٹورنامنٹ کے دوران لوگ اپنی بیٹیوں کو لا کر ان کے شاگردوں کی مثالیں دیتے ہیں۔

غلام علی اور ان کی طرح کے کئی لوگ کوئٹہ کے سخت حالات کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت آہستہ آہستہ تبدیلی لا رہے ہیں۔ اور جو لوگ شہر کے حالات کی وجہ سے مایوس ہو چکے ہیں، غلام علی کی ہمت اور ان کے شاگردوں کی لگن کو دیکھ کر ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

اسی بارے میں