'جب فنچ نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا'

فنچ نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کر کے خود ہی اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مار لی اور جب بیٹنگ کے لیے بھی آئے تو اپنے قدم کریز میں جمانے کی بجائے اٹکھیلیاں کرنے کی کوشش کی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فنچ نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کر کے خود ہی اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مار لی اور جب بیٹنگ کے لیے بھی آئے تو اپنے قدم کریز میں جمانے کی بجائے اٹکھیلیاں کرنے کی کوشش کی

جب یہ ورلڈ کپ شروع ہوا تھا تو انگلینڈ اس کا مضبوط ترین امیدوار تھا۔ آئی سی سی کی ایک روزہ درجہ بندی میں پہلے نمبر کی ٹیم کو سب سے بڑا فائدہ ہوم کنڈیشنز کا تھا۔

اوئن مورگن کی اس ٹیم نے دہائیوں پرانا انگلش کرکٹ کلچر بدلنے میں بھرپور کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ انگلش ٹیم جس نے پچھلے چار ورلڈ کپس میں ٹاپ فائیو ٹیموں کے خلاف محض چار پانچ میچ جیتے تھے، گذشتہ ورلڈ کپ کے پہلے راونڈ سے ہی باہر ہوئی تو شدید تنقید کی زد میں آئی۔

ہدف متعین کرنا ہو یا تعاقب کرنا ہو، عالمی مقابلوں میں یہ ٹیم ہمیشہ رینگتی نظر آتی تھی۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ یہ ’جینٹلمین گیم‘ کی اپروچ سے نکل کر چھکوں چوکوں والی ماڈرن کرکٹ میں داخل ہوتی۔

یہ بھی پڑھیے

انگلینڈ کی ٹیم 27 سال بعد فائنل میں پہنچ گئی

نیوزی لینڈ نے کس طرح انڈیا کے خواب توڑ دیے

کیا دھونی کے جانے کا وقت آ گیا ہے؟

انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر اینڈریو سٹراس نے یہ کلچر بدلنے کے لیے کئی کڑے فیصلے کیے۔ کئی ایک سینئرز کو نکال باہر کرنا پڑا اور خس و خاشاک سے تنکا تنکا چن کر ایک نئی ٹیم بنائی گئی۔

اس کے بعد جو نئی ٹیم سامنے آئی، اس نے محیر العقول نتائج پیدا کر دکھائے۔ تین سو سے زائد کے ٹوٹلز نہ صرف طے کرنا بلکہ ایسے ضخیم اہداف کا تعاقب بھی معمول بنتا گیا۔

اب انگلینڈ کی حالیہ ٹیم اپنی شکل میں اس قدر نئی ہے کہ موجودہ سکواڈ میں صرف پانچ ایسے پلئیرز ہیں جنھوں نے گذشتہ ورلڈ کپ میں حصہ لیا تھا۔

یہاں کنڈیشنز ویسے ہی انگلینڈ کے حق میں تھیں۔ خدشہ صرف یہ تھا کہ اس بار انگلش موسمِ گرما اگر خشک گزرا تو کہیں معاملہ ویسا نہ ہو جائے جو چیمپئینز ٹرافی کے سیمی فائنل میں پاکستان سے شکست کے بعد مورگن نے کہا تھا کہ گھر میں کھیل کر بھی انہیں ہوم کنڈیشنز میسر نہ آ پائیں۔

سابق پاکستانی لیگ سپنر مشتاق احمد نے بھی ورلڈ کپ کے آغاز سے پہلے کہا تھا کہ اگر بارشیں نہ ہوئیں تو کنڈیشنز ایشائی ٹیموں کے لیے سازگار ہو جائیں گی۔ لیکن اگر بارشیں ہو گئیں تو وکٹیں سیمنگ ہو جائیں گی اور انگلینڈ ہی فیورٹ ٹیم ٹھہرے گی۔

اور ایسا ہی ہوا۔ انگلینڈ میں اس بار بادل جی بھر کر برسے۔ اتنا برسے کہ یہ ورلڈ کپ سب سے زیادہ بارش زدہ ٹورنامنٹ بن گیا۔ اور ہر ٹیم کے لیے کافی 'اگر مگر' پیدا ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ضروری تھا کہ انگلینڈ یہ 'جینٹلمین گیم' کی اپروچ سے نکل کر چھکوں چوکوں والی ماڈرن کرکٹ میں داخل ہوتی۔

دوسری بڑی الجھن اس ٹورنامنٹ میں یہ رہی کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی جائے یا بولنگ۔ مروجہ ذہانت کا تقاضا تھا کہ اگر مطلع ابر آلود ہو تو سیمنگ کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کے لیے پہلے بولنگ سودمند رہے گی۔

لیکن کئی بار ایسا ہوا کہ اگر کسی ٹیم نے ابر آلود مطلع دیکھ کر پہلے بولنگ کا ارادہ کر بھی لیا تو ذرا سی دیر بعد دھوپ نکلی اور بیٹنگ سائیڈ پہاڑ سے مجموعے ترتیب دینے میں کامیاب ہو گئی۔

کل صبح برمنگھم میں مطلع ابر آلود تو تھا ہی لیکن فنچ نے پرانی الجھن کی بنیاد پہ ہی پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کر ڈالا۔ حالانکہ یہ یاد رکھنا ضروری تھا کہ کثرتِ استعمال سے اب وکٹیں پرانی ہو چکی ہیں اور ابرآلود کنڈیشنز میں پہلے بولنگ ہی فائدہ مند رہے گی۔

بجا کہ عثمان خواجہ کی انجری سے آسٹریلوی بیٹنگ کمزور ہوئی لیکن فنچ کو اپنی ٹیم پہ یہ اعتماد رکھنا چاہیے تھا کہ یہ ایک معقول ہدف حاصل کرنے کے قابل ہے بشرطیکہ مچل سٹارک کو صبح کے وقت گیند سیم کرنے کا موقع مل جائے۔

لیکن فنچ نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کر کے خود ہی اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مار لی۔ اور جب بیٹنگ کے لیے بھی آئے تو اپنے قدم کریز میں جمانے کی بجائے اٹکھیلیاں کرنے کی کوشش کی، یہی نہیں اکلوتا ریویو بھی اپنی وکٹ بچانے کے لیے ضائع کر ڈالا۔

گو بظاہر میچ کے 80 اوورز مکمل ہونے پہ اوئن مورگن کا چوکا آسٹریلیا کی شکست کا اعلان ثابت ہوا مگر دراصل آسٹریلیا میچ شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی ہار چکا تھا جب فنچ نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

اسی بارے میں