کرکٹ ورلڈ کپ 2019: کیا روی شاستری انڈیا کی شکست کے ذمہ دار ہیں؟

روی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روی شاستری کے 2019 کے ورلڈ کپ کے دوران کچھ فیصلے ایسے تھے جو انھیں مستقبل میں بھی پریشان کرتے رہیں گے۔

انڈیا کے بہترین بلے باز اور سابق کپتان سچن تندولکر کا سنہ 2011 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد کہنا تھا کہ ’گیری اور دیگر کوچنگ ٹیم کو اس بات کا کریڈٹ دینا چاہیے کے انھوں نے ہمیں ایک سال پہلے ہی تیار کرنا شروع کر دیا تھا جس کی وجہ سے ٹیم میں ایک واضح فرق پیدا ہوا۔‘

نرم گفتار کے مالک اور میڈیا سے کترانے والے جنوبی افریقی اوپنر گیری کرسٹن کے لیے انڈیا کو سنہ 2008 کے ایشیا کپ کے فائنل میں سری لنکا سے شکست کے بعد دوبارہ کھڑا کرنا ایک مشکل کام تھا۔

یہاں سے کرسٹن نے انڈیا کے بھڑکیلے اور لکھ پتی کرکٹرز کو یک جان کر کے ایک ٹیم بنایا جو ٹیم مینیجمنٹ کے منصوبے کے مطابق کھیلے اور انڈیا کے لیے فتوحات سمیٹ کر لائے۔

اب ذرا 26 مارچ 2015 کے دن پر آتے ہیں جہاں سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پر میزبان آسٹریلیا نے انڈیا کو ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں پچھاڑا تھا۔

میچ کے بعد جہاں وراٹ کوہلی پویلین میں دکھی بیٹھے تھے اور ایم ایس دھونی گراؤنڈ میں جا کر آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کو مبارک دے رہے تھے وہیں روی شاستری بھی انڈیا کے کھلاڑیوں کو دلاسا دیتے دکھائی دے رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کپتان اور چند سینیئر کھلاڑیوں کی حمایت کی بدولت روی شاستری کی انڈیا کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے واپسی ہوئی۔

اس وقت 53 برس کے روی شاستری انڈیا کے ٹیم ڈائریکٹر کی حیثیت سے سنہ 2014 سے ٹیم کے ساتھ تھے۔ وہ اس عہدے پر سنہ 2016 تک رہے جس کے بعد انڈیا کے سابق کپتان انیل کمبلے کو ہیڈ کوچ تعینات کیا گیا۔

انیل کمبلے نے انڈیا کے کوچ کی حیثیت سے جون 2017 تک کام کیا جس کے بعد ان کے اور کپتان وراٹ کوہلی کے درمیان تنازع کی خبریں میڈیا پر آ گئیں۔

جون 2017 میں پاکستان سے چیمپیئنز ٹرافی کے فائنل میں شکست کے بعد انیل کمبلے عہدے سے علیحدہ ہو گئے اور وہ انڈیا کی ویسٹ انڈیز کی سیریز میں ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔

لیکن اپنے ایک سالہ دور کے دوران کمبلے نے کافی کامیابیاں اپنے نام کیں۔ انڈیا کی ٹیم نے 17 ٹیسٹ میچوں میں سے 12 میں فتح حاصل کی اور آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں سرِ فہرست رہے۔

کپتان اور چند سینیئر کھلاڑیوں کی حمایت کی بدولت روی شاستری کی انڈیا کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے فوراً واپسی ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کپتان اور چند سینیئر کھلاڑیوں کی حمایت کی بدولت روی شاستری کی انڈیا کے ہیڈ کوچ کی حیثیت سے واپسی ہوئی۔

ان سے یہ امیدیں وابستہ تھیں کہ وہ انڈیا کو 2015 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک لے جانے میں کامیاب ہوئے تھے اس لیے شاستری 2019 کے ورلڈ کپ کے لیے ایک اچھی ٹیم بنا پائیں گے۔

اور شاستری نے تقریباً ایسا ہی کیا۔

انھوں نے نہ صرف بیٹنگ کوچ سنجے بنگر کو برقرار رکھا بلکہ انھیں ترقی دے کر اسسٹنٹ کوچ کے عہدے پر بھی فائز کیا۔

انھوں نے بھارت ارن کو بطور بولنگ کوچ تعینات کیا۔ مگر اس فیصلے پر گرما گرم بحث ہوئی کیونکہ انیل کمبلے انڈیا کے سابق فاسٹ بولر ظہیر خان کو یہ عہدہ دینے کے حق میں تھے۔

روی شاستری نے اس بات پر بھی زور دیا کے انڈیا کو مزید بیرونِ ملک دورے کرنے چاہیں تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو مختلف کنڈیشنز میں کھیلنے کا موقع مل سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'رشبھ پنت کو ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی سکواڈ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟‘

انھیں اس بات پر بھی سراہا جاتا ہے کے انھوں نے انڈین کھلاڑیوں کو اپنے روایتی انداز میں کھیلنے اور بیٹنگ اور بولنگ بہتر بنانے کے لیے مواقع فراہم کیے۔

لیکن ان کے 2019 کے ورلڈ کپ کے دوران کچھ فیصلے ایسے تھے جو انھیں مستقبل میں بھی پریشان کرتے رہیں گے۔

بی بی سی ہندی سے انٹرویو کے دوارن سابق انڈین کھلاڑی فاروق انجینیئر نے روی شاستری اور وراٹ کوہلی سے متعلق ایک اہم سوال اٹھایا۔

انھوں نے پوچھا کہ ’رشبھ پنت کو ٹورنامنٹ کے آغاز سے ہی سکواڈ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ ورلڈ کپ سکواڈ کے اعلان کے وقت اتنی بری سیلکشن کیوں کی گئی؟

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں لگتا ہے کہ انڈیا کی شکست میں کوچ کا ہاتھ بھی اتنا ہی تھا تو وہ کہتے ہیں کہ ’ہم روی کو اس شکست کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چتیشور پجارا اور اجنکیا رہانے جیسے کھلاڑیوں کو سکواڈ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟

ٹیم کا ایک بہت برا دن تھا جس کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ہاں، ٹیم سیلکشن ایک مسئلہ ہے اور اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت بھی ہے۔‘

پچھلے دو سالوں میں روی شاستری اور کپتان کوہلی کی سیلکشن کے معاملات میں کا عمل دخل رہا ہے۔ یہ بات ہمیں ہمارے دوسرے سوال کی جانب لاتی ہے۔

وہ یہ کہ جب پوری دنیا کو اس بات کا علم تھا کہ ٹورنامنٹ میں انگلینڈ کا موسم ایک اہم کردار ادا کرے گا اور بلے بازوں کو سوئنگ ہوتی ہوئی گیند کے سامنے مشکلات پیش آئیں گی تو پھر چتیشور پجارا اور اجنکیا رہانے جیسے کھلاڑیوں کو سکواڈ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔

کوہلی کے علاوہ بطور ہیڈ کوچ روی شاستری کو اس بات کا بخوبی علم ہو گا کہ پجارا کاؤنٹی کرکٹ کھیل کر انگلینڈ کی مشکل کنڈیشنز میں اپنی بیٹنگ بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی طرح ماضی میں رہانے نے بھی اپنی مضبوط تکنیک کے ذریعے مشکل بولنگ سپیلز کا صبر اور سیدھے بلے سے مقابلہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روہت، راہل اور کوہلی کے ایک رن پر آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم کے تھنک ٹینک نے ایم ایس دھونی جیسے تجربہ کار بلے باز کو بھیجنے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا؟

انھں نے آئی پی ایل کے پچھلے ایڈیشن می جارحانہ بلے بازی کر کے اپنے ناقدین کو غلط ثابت کر رکھا ہے۔

ایسی کنڈیشنز میں تو امبتی رایودو کا تجربہ بھی کارآمد ثابت ہو سکتا تھا جنھوں نے شاید ٹیم میں سیلکٹ نہ ہونے کی بنا پر دلبرداشتہ ہو کر انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا۔

لیکن اگر انڈین ٹیم نے وجے شنکر، رشبھ پنت اور ماینک اگروال جیسے نوجوان کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنا ہی تھا تو ان کی ناکامی کی ذمہ داری کس نے اٹھانی تھی؟

سیلیکٹرز نے، کپتان نے یا کوچ نے جو بہرحال تجربے اور عمر میں پوری ٹیم سے بڑے ہیں۔

ایک اور سوال ہے تو دو دن پرانا لیکن متعلقہ ضرور ہے۔

روہت، راہل اور کوہلی کے ایک رن پر آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم کے تھنک ٹینک نے ایم ایس دھونی جیسے تجربہ کار بلے باز کو بھیجنے کا فیصلہ کیوں نہیں کیا؟ تاکہ وہ ٹیم کو مشکلات کے بھنور سے نکال سکیں۔

مزید پڑھیں

کوہلی کو دوبارہ ناچنے کا موقع نہ مل سکا

کیا دھونی کے جانے کا وقت آ گیا ہے؟

نیوزی لینڈ نے کس طرح انڈیا کے خواب توڑ دیے

کیا روی شاستری کی کرسی کے نیچے شراب کی بوتل تھی؟

دھونی کو پنت، پانڈیا اور کارتھک کے بعد بھیجنا اس دن کا سب سے برا فیصلہ تھا۔ ایک ایسے وقت میں جب انڈیا کی بیٹنگ کو ایک تجربہ کار بلے باز کی ضرورت تھی انڈیا کی ٹیم مینیجمنٹ نے دھونی کو ساتویں نمبر پر بھیجا اور ہاردک پانڈیا اور دنیش کارتھک جیسے جارحانہ بلے بازوں کو پہلے بھیج دیا۔

انڈیا کے سابق کھلاڑی سارو گنگولی اور وی وی ایس لکشمن نے اس فیصلہ کے حوالے سے ہیان دیا ہے۔

لکشمن نے کمنٹری کے دوارن کہا کہ ’دھونی کو اتنا نیچے بھیجنا ایک برا فیصلہ تھا۔ یہ دنیش کارتھک اور ہاردک پانڈیا کی وکٹ بچا سکتے تھے اور دھونی اور رشبھ پنت کو اچھی شراکت بنانے کا موقع دے سکتے تھے۔‘

سابق کپتان گنگولی بھی ان کی بات کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’دھونی اگر جلدی کھیلنے آتے تو پوری اننگز کھیل سکتے تھے۔ آخر میں ان کے پاس جدیجا، پانڈیا اور کارتھک جیسے کھلاڑی موجود ہوتے جو آخری چار پانچ اوورز میں عمدہ کھیل پیش کر سکتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دھونی نے اتنے اہم موقع پر دوسرا رن بناتے ہوئے ڈائیو کیوں نہیں لگائی جب انھیں معلوم تھا کہ تھرو ان کے اینڈ پر آئے گی؟

آخری اہم سوال یہ ہے کہ کیا ٹیم مینیجمنٹ نے پچ کو صحیح سے جانچا بھی یا نہیں۔

کوچ اور دیگر سینیئر کھلاڑی میچ سے ایک دن پہلے ہی پریکٹس سیشن کے دوران اولڈ ٹریفرڈ کی پچ دیکھ چکے تھے۔

اگر وکٹ واقعی بولنگ کے لیے سازگار تھی تو یوزویندرا چہل کی جگہ محمد شامی کو کھلا کر فاسٹ بولنگ کے شعبے کو کیوں مضبوط نہیں کیا گیا؟

جدیجا نے تو سہی معنوں میں ایک سپنر کا کردار ادا کرتے ہو ئے اپنے 10 اوورز میں صرف 34 رنز دے کر نیوزی لینڈ کے جارحانہ بلے باز ہینری نکولز کی اہم وکٹ حاصل کی۔

جبکہ یوزویندرا چہل مہنگے رہے اور اپنے اوورز میں 63 رنز دے کر کین ولیمسن کی اہم ترین وکٹ حاصل کی۔

حیرت کی بات یہ ہے کے محمد شامی جنھوں نے ٹورنامنٹ میں چار میچ کھیلے اور 14 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اولڈ ٹریفرڈ میں سیمی فائنل میں کھیلنے والی ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کے کرکٹ میں کسی ایک فرد کو شکست کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ یہ ایک مشترکہ کھیل ہے۔

لیکن اگر کپتان اور دیگر کھلاڑیوں کو ان کی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ پر پرکھا جاتا ہے تو کوچ کو بھی اسی طرح مشکل سوالات کے جواب دینے چاہیں کیونکہ وہ تو پوری کشتی کے کپتان ہوتے ہیں۔

فاروق انجینیئر اس بحث کا خلاصہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایک شکست کے محرکات تلاش کرنا مشکل ہیں لیکن شکست پینڈورا باکس ضرور کھول دیتی ہے۔ جیسے دھونی نے اتنے اہم موقع پر دوسرا رن بناتے ہوئے ڈائیو کیوں نہیں لگائی جب انھیں معلوم تھا کہ تھرو ان کے اینڈ پر آئے گی؟ اور یہ کہ رویندرا جدیجا کو اتنے میچوں میں کیوں نہیں کھلایا گیا جب وہ اپنی زندگی کی بہترین فارم میں تھے؟ یہ سب سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

اسی بارے میں