ومبلڈن 2019: راجر فیڈرر نے 11 سال بعد ومبلڈن میں رافیل نڈال کو شکست دے دی، فائنل میں جوکووچ سے سامنا

ٹینس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے مایہ ناز ٹینس کھلاڑی راجر فیڈرر نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد اپنے سب سے بڑے حریف، سپین کے رافیل نڈال کو شکست دے کر ومبلڈن کے فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔

اتوار 14 جولائی کو کھیلے جانے والے فائنل میں ان کا مقابلہ عالمی نمبر ایک، سربیا کے نوواک جوکووچ سے ہو گا۔

دونوں کھلاڑیوں کے مابین اب تک 47 میچ کھیلے جا چکے ہیں جن میں سے 22 میں فیڈرر اور 25 میں جوکووچ کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ البتہ آخری دس مقابلوں میں سے آٹھ مقابلے جوکووچ نے جیتے ہیں۔

سیمی فائنل میں فیڈرر نے نڈال کو ایک کے مقابلے میں تین سیٹس سے شکست دی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ واضح ہے کہ میں نے اپنے کھیل پر بہت محنت کی تھی جس کے نتائج آج نظر آئے ہیں۔ اس نقطہ نظر سے میں فائنل کا آغاز انتہائی پراعتماد انداز میں کروں گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان دونوں کے درمیان یہ 40واں مقابلہ تھا

'عمر کا عمل دخل ہوتا ہے'

فیڈرر ایک ماہ بعد 38 برس کے ہو جائیں گے اور وہ 1974 میں کین روزوال کے بعد فائنل کھیلنے والے سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی بن جائیں گے۔

حالانکہ ان کی عمر نے انھیں ریکارڈ 12ویں مرتبہ ومبلڈن کے فائنل تک رسائی سے نہیں روکا لیکن انھوں نے نڈال کے خلاف جیت کے بعد اپنے جذبات پر قابو رکھا۔

فیڈرر کے پاس گراس کورٹ پر سب سے زیادہ 19 ٹائٹلز کا اعزاز موجود ہے۔

مزید پڑھیں

راجر فیڈرر: تاریخ کے بہترین ٹینس کھلاڑی

سرینا کی شکست، امپائر پر صنفی تعصب کا الزام

فیڈرر سب سے عمر رسیدہ عالمی نمبر 1 کھلاڑی بن گئے

’حالانکہ میں بہت خوش ہوں لیکن آج رات جشن منانے یا جذباتی ہونے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ میرے خیال میں اپنے تجربے سے دونوں چیزوں کو الگ کرسکتا ہوں۔‘

یہ فیڈرر اور نڈال کے درمیان گراس کورٹ گرینڈ سلیم میں سنہ 2008 کے بعد سے پہلا میچ ہے۔ اس میچ میں نڈال فتحیاب ہوئے تھے۔

فیڈرر کا کہنا تھا کہ جمعے کو نڈال کے خلاف فتح ان کی بہترین کارکردگیوں میں سے ایک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'یہ ایک ایسا میچ تھا جس کو دوبارہ دیکھنا میرے لیے مشکل ہو گا لیکن ابھی مقابلہ باقی ہے'

'ابھی مقابلہ باقی ہے'

نڈال نے کہا ہے کہ فیڈرر یہ میچ جیتنے کے مستحق تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے راونڈز کے مقابلے میں اچھا نہیں کھیلے اور جب تک انھوں نے بہتر کھیل پیش کرنا شروع کیا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔

نڈال سے جب ان کی فیڈرر اور نوواک جوکووچ کے درمیان رقابت کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ مسکرائے۔ ان تینوں کھلاڑیوں نے اب تک 53 گرینڈ سلیم ٹائٹل جیت رکھے ہیں اور بہت جلد 54واں بھی جیت لیں گے۔

'یہ ایک ایسا میچ تھا جس کو دوبارہ دیکھنا میرے لیے مشکل ہو گا لیکن ابھی مقابلہ باقی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سیرینا ولیمز کے پاس مارگریٹ کورٹ کے 24 گرینڈ سلیم ٹائٹلز کے ریکارڈ کو برابر کرنے کا یہ سنہری موقع ہے۔

خواتین کے فائنل میں سیرینا بمقابلہ ہیلیپ

دوسری جانب خواتین کے سنگلز کا فائنل سیرینا ولیمز اور سمیونا ہیلیپ کے مابین کھیلا جائے گا۔

سیرینا ولیمز کے پاس مارگریٹ کورٹ کے 24 گرینڈ سلیم ٹائٹلز کے ریکارڈ کو برابر کرنے کا یہ سنہری موقع ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں