لارڈز میں نیوزی لینڈ انگلینڈ کو کس طرح ہرائے؟

مورگن اور ولیمسن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انگلینڈ کی ٹیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گھریلو ماحول میں اچھے کھیل کا مظاہرہ کرتی ہیں اور لارڈز کے میدان پر وہ ورلڈ کپ جیتنے کے لیے فیورٹ ہو گی لیکن نیوزی لینڈ کس طرح اپ سیٹ کرے گی یہ بڑا سوال ہے۔

کرکٹ اور پیش گوئیاں ایک دوسرے کی بہترین ساتھی نہیں رہی ہیں۔

ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں 15 پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست آنے والی انڈیا کی ٹیم سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف '45 منٹ کے خراب کھیل' کی وجہ سے ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔

پاکستانی ٹیم کی ٹورنامنٹ میں دیر سے اچھی کارکردگی انھیں سیمی فائنل میں جگہ نہ دلا سکی اس کے باوجود کہ پوائنٹس ٹیبل پر ان کے نیوزی لینڈ کے برابر پوائنٹس تھے لیکن ان کے رنز کا اوسط قدرے کم نکلا۔

تقریباً دس دن قبل میزبان انگلینڈ کی ٹیم ورلڈ کپ کے سیمی فائنل سے باہر ہونے کے دہانے پر تھی لیکن آج وہ ورلڈ کپ کی فیورٹ کے طور پر لارڈز میں اترے گی۔

یہ بھی پڑھیے

کیا روی شاستری انڈیا کی شکست کے ذمہ دار ہیں؟

کیا دھونی کے جانے کا وقت آ گیا ہے؟

کوہلی کو دوبارہ ناچنے کا موقع نہ مل سکا

کرکٹ ورلڈ کپ پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

یہی بات نیوزی لینڈ کے ساتھ بھی ہے کہ وہ کسی طرح سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی لیکن اب وہ کرکٹ کی تاریخ رقم کرنے سے ایک قدم دور ہے۔

لیکن نیوزی لینڈ کو معلوم ہے کہ یہ ایک قدم ان کے لیے میزبان ٹیم کے خلاف بہت آسان نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تو پھر کیا کیا جائے؟

رواں کرکٹ ورلڈ کپ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس ٹیم نے اچھی شروعات کی اس نے عام طور پر میچ میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اچھی شروعات کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بہت لڑنے مرنے والا یا طوفان خیز ہو اور مخالف ٹیم کی بولنگ کو بکھیر کر رکھ دے۔

اس کا مطلب ہے نئی گیند کو احتیاط سے کھیلنا کیونکہ انگلینڈ کی کنڈیشنز میں اور خاص طور پر لارڈز کے میدان پر یہ انتہائی اہم ہے کیونکہ ان کنڈیشنز سے کرس ووکس، جوفرا آرچر اور بین سٹوکس واقف ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کے لیے 14 جولائی کا دن اپنے کام کو اچھی طرح انجام دینے کا دن ہے۔

نیوزی لینڈ کے لیے یہ پہلا بڑا چیلنج ہے کیونکہ ان کے ایک اوپنر مارٹن گپٹل پورے ٹورنا منٹ میں جدوجہد کرتے نظر آئے ہیں اور وہ نو اننگز میں اب تک صرف 167 رنز ہی بنا سکے ہیں۔

پورے ٹورنامنٹ میں ان کے نام بس ایک نصف سنچری ہے لیکن ان کے لیے فخر کا وقت اس وقت آیا جب انھوں نے براہ راست ایک تھرو سے دھونی کو رن آؤٹ کر دیا اور شاید اسی کی وجہ سے انڈیا فائنل میں جانے سے محروم رہ گئی۔ (خیال رہے کہ دھونی 297 ایک روزہ میچوں میں صرف 16 بار رن آؤٹ ہوئے ہیں۔)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گپٹل نے اپنے خراب فارم کو تسلیم کرتے ہوئے کہا: 'میں بس جو کر رہا ہوں اس کو جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں، نیٹس میں محنت کر رہا ہوں اور امید ہے کہ آنے والے گیم میں سب ایک ساتھ کام کریں گے۔'

انڈیا کے خلاف میچ میں گپٹل کے اوپننگ ساتھی نیکولس بھی نیوزی لینڈ کے لیے پریشانی کا سبب ہیں کیونکہ انھوں نے جو تین میچ کھیلے ہیں ان میں ان کا اوسط محض 12 رنز ہے۔

اس لیے نیوزی لینڈ ٹیم کے تھنک ٹینک کے پاس بہت کم چوائسز ہیں کہ وہ بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کریں اور ورلڈ کپ کے فائنل میں بہت زیادہ تبدیلی بھی اچھی نہیں ہے۔

کپتان کین ولیمسن صرف یہ دعا کر رہے ہوں گے کہ بس ایک بار ان کے اوپنرز چل جائیں چاہے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے یا پھر ہدف کا پیچھا کرتے ہوئے۔

ولیمسن بذات خود پورے ٹورنامنٹ میں انتہائی شاندار فارم میں ہیں اور بولروں پر حاوی رہے ہیں۔

ٹورنامنٹ میں دو سنچریوں اور دو نصف سنچریوں کی مدد سے ان کا اوسط 90 رنز سے زیادہ کا رہا ہے اور وہ ایک ایسی وکٹ ہے جس کے لیے انگلینڈ کے بولرز جان لگا دیں گے۔

نیوزی لینڈ کو ابتدا میں جھٹکا لگنے کی صورت میں ولیمسن کو ذہنی طور جلدی وکٹ پر آنے اور اننگز کو مستحکم کرنے کے لیے تیار رہنا ہو گا اور یہ کام وہ انڈیا اور دوسری ٹیموں کے خلاف کرتے رہے ہیں (جو کہ سیمی فائنل میں انڈیا کے بلے بازوں روہت شرما اور وراٹ کوہلی کرنے سے قاصر رہے۔)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ولیمسن، سٹوکس اور پلنکیٹ جیسے چند انگلش بولروں کو نشانہ بنانے کے بارے میں منصوبہ بنا رہے ہوں گے جبکہ عادل رشید کی گوگلی کے خلاف اضافی احتیاط برتیں گے۔

راس ٹیلر نے مڈل آرڈر میں انڈیا کے خلاف 74 رنز بنائے۔ ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے اپنی فارم حاصل کر لی ہے۔ وہ بڑی ہٹ مارنے کے لیے جانے جاتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ عادل رشید کو نشانہ بنائیں۔

نیشم اور گرینڈ ہوم نے ٹورنامنٹ میں مل کر تقریباً 400 رنز بنائے ہیں اور وہ پانچویں اور چھٹے نمبر پر آتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کے مڈل آرڈر میں کچھ قوت ہے۔

شاندار فیلڈنگ کے ساتھ نیوزی لینڈ کی ایک چیز نے پورے ٹورنامنٹ میں بہت متاثر کیا ہے اور وہ ان کی حیرت انگیز بولنگ ہے۔

ٹرینٹ بولٹ اپنی زندگی کی بہترین فارم میں ہیں اور انھیں فرگوسن اور ہنری کی جانب سے مکمل تعاون حاصل ہے۔ ہنری نے اولڈ ٹریفورڈ میں انڈيا کے ٹاپ آرڈر کو بکیھر کر رکھ دیا تھا۔

ان تینوں نے ٹورنامنٹ میں 48 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں اور وہ انگلینڈ کے ان فارم اوپنرز جیسن روئے اور جانی بیرسٹو پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے۔

یہ دونوں اوپنرز اہم میچوں میں انگلینڈ کی ابتدا میں فیصلہ کن رہے ہیں اور گذشتہ دس میچوں میں دونوں نے 950 رنز سے زیادہ سکور کیے ہیں۔

روٹ، مورگن اور سٹوکس بھی مڈل آرڈر میں پر اعتماد نظر آئے ہیں لیکن بٹلر بظاہر اپنی فارم کھوتے نظر آ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹورنامنٹ کا اچھا آغاز کرنے والے بٹلر نے پاکستان کے خلاف سنچری سکور کی تھی لیکن پھر بعد میں وہ رنز بنانے کے لیے جدوجہد کرتے نظر آئے اور بعد کی پانچ اننگز میں صرف 68 رنز ہی کر سکے۔

نیوزی لینڈ کی بولنگ اٹیک میں نیشم اضافی دھار لاتے ہیں اور وہ سانٹر کے ساتھ مل کر اس بات کی یقین دہانی کریں گے کہ انگلینڈ کا مڈل آرڈر رنز بنانے کی رفتار کو تیز نہ کر سکے۔

انگلینڈ کے کپتان ایئن مورگن کو پورے ٹورنامنٹ میں باؤنسر سے پریشانی رہی ہے اور نیوزی لینڈ کے تیز بولروں کو اس طرف دھیان دینے کی ضرورت ہو گی۔

سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونے کے بعد انڈین ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے نیوزی لینڈ کے بولروں کے بارے میں کہا 'اگر حالات بولرز کے لیے موافق ہیں اور سکور بورڈ پر خاطر خواہ رنز ہوں تو وہ خطرناک حریف ہوتے ہیں جیسا کہ آپ نے میچ میں دیکھا۔'

بہر حال لارڈز میں ٹاس سے قبل لیگ میچ میں نیوزی لینڈ کو 119 رنز کے واضح فرق سے ہرانے کے بعد انگلینڈ کی ٹیم کو یقیناً نفسیاتی برتری حاصل ہے۔

تاہم انگلینڈ کو یہ بات پریشان کر رہی ہو گی کہ ون ڈے کرکٹ میں لارڈز کے میدان پر ان کا ریکارڈ بہت اچھا نہیں رہا ہے اور انھیں نصف میچوں میں شکست کا سامنا رہا ہے۔

یہ بھی ایک اتفاق ہی ہے کہ دونوں ٹیموں کو لارڈز پر کھیلے جانے والے اپنے لیگ میچ میں شکست کا سامنا رہا اور دونوں کو آسٹریلیا کے ہاتھوں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں