کرکٹ ورلڈ کپ 2019: کیویز جیتتے جیتتے رہ گئے، انگلینڈ ہارتے ہارتے

کرکٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جب پہلے بیس اوورز میں ہی انگلینڈ اپنے تین بہترین بلے بازوں سے محروم ہو گیا تو سبھی امکانات کا پلڑا نیوزی لینڈ کے حق میں جھکتا دکھائی دیا

نیوزی لینڈ کی قسمت اچھی رہی یا بری، یہ سوال بھی اس یادگار میچ کی طرح ہمیشہ کے لئے ٹائی ہو گیا۔ کیونکہ کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جب کرکٹ بھی آفاقی قوانین کی طرح نہایت بے رحم سی دکھائی دیتی ہے۔

کرکٹ کے گھر ’لارڈز‘ کی پچ عموماً سپن کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اسی لئے اس وکٹ پر انگلینڈ کا ریکارڈ کبھی بھی زیادہ اچھا نہیں رہا۔ مگر فائنل میچ کے لئے جو وکٹ تیار کی گئی، یہ وکٹ لارڈز کی عمومی وکٹ سے خاصی مختلف تھی۔

سات ہفتوں سے جاری اس جنگ کے آخری معرکے کے لیے جو وکٹ تیار کی گئی، اس پر سبز گھاس موجود تھی۔ مطلع بھی ابر آلود تھا۔ ایسے حالات میں سیمرز بولنگ کرنے کو بے تاب ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لارڈز میں نیوزی لینڈ انگلینڈ کو کس طرح ہرائے؟

امپائر علیم ڈار سیمی فائنلز کے بعد فائنل سے بھی باہر

کرکٹ ورلڈ کپ پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

لیکن ولیمسن نے یہاں پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ یہ نہایت دلیرانہ فیصلہ تھا۔ کرکٹ کی مروّجہ دانش کا تقاضا تھا کہ ان کنڈیشنز میں ٹورنامنٹ کے بہترین بولنگ اٹیک کو بولنگ کا موقع دیا جاتا۔

لیکن اس دلیرانہ فیصلے کے پسِ منظر میں یہ نفسیاتی پہلو موجود تھا کہ ہوم گراؤنڈ پر ہدف کا تعاقب کرنے والی انگلش ٹیم پر بڑے میچ کا شدید دباؤ ہو گا اور اس دباؤ میں اگر اوپر تلے دو تین وکٹیں گر گئیں تو کیویز کی ٹرافی تک رسائی نہایت آسان ہو جائے گی۔

اور ایسا ہی ہوا۔

جب پہلے بیس اوورز میں ہی انگلینڈ اپنے تین بہترین بلے بازوں سے محروم ہو گیا تو سبھی امکانات کا پلڑا نیوزی لینڈ کے حق میں جھکتا دکھائی دیا۔

وہ تو بھلا ہو بٹلر کا کہ بین سٹوکس کو دوسرے اینڈ سے 'کمپنی' فراہم کر دی ورنہ انگلش امیدوں کے چراغ گل ہوا ہی چاہتے تھے۔

مگر اس سے پہلے کیوی اننگز پر نظر دوڑائی جائے تو سب سے بڑی غلطی ہنری نکلس کی جانب سے دیکھنے کو ملی جنھوں نے اچھے بھلے پویلین لوٹتے گپٹل کو ریویو لینے کا مشورہ دے ڈالا اور وہی ریویو بعد میں کیویز کو بہت یاد آیا جب روس ٹیلر اریسمس کے غلط فیصلے پر مایوسی سے پویلین لوٹے۔

انگلش سیمرز نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ کرس ووکس نے بلے بازوں کی زندگی دشوار کیے رکھی۔ اور ان سے بھی خوب رہے لیام پلنکٹ، کہ جن سے کبھی کچھ زیادہ امیدیں نہیں وابستہ ہوتیں مگر ہمیشہ مڈل اوورز میں اہم ترین وکٹیں بٹورنے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔

اور جہاں حتمی اوورز میں امید تھی کہ لیتھم اور گرینڈہوم پاور ہٹنگ کر کے ہدف ڈھائی سو سے اوپر لے جائیں گے، وہاں آرچر کی تباہ کن بولنگ نے کیوی اننگز کو ایک نسبتاً حقیر ٹوٹل تک محدود کر ڈالا۔

انگلش اننگز کسی طرح سے بھی غیر متوقع نہیں تھی۔ جس طرح سے اوپر تلے بڑی وکٹیں گریں، کیوی اٹیک کے سامنے ان کنڈیشنز میں یہ عین متوقع تھا۔ مگر کیویز کی بدقسمتی یہ رہی کہ ان کے سٹرائیک بولر ٹرینٹ بولٹ اس طرح کی فارم نہ دکھا پائے جو ان سے متوقع تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آرچر کی تباہ کن بولنگ نے کیوی اننگز کو ایک نسبتاً حقیر ٹوٹل تک محدود کر ڈالا

بین سٹوکس اس معاملے میں بہترین پلئیر ہیں کہ جب کبھی ٹیم پر بحران کا سماں ہو، اکیلے پوری ٹیم کا بوجھ اپنے کندھوں پہ اٹھا لیتے ہیں۔ پچھلی بار جب کسی آئی سی سی ٹورنامنٹ میں بین سٹوکس پر یہ ذمہ داری پڑی تھی تو کارلوس بریتھ ویٹ نے چار محیر العقول چھکے مار کر ٹرافی انگلینڈ کے منھ سے چھین لی تھی۔

مگر یہاں بین سٹوکس کی قسمت نے بھی خوب ساتھ دیا۔ پہلے تو باؤنڈری پر ٹرینٹ بولٹ کی ذرا سی لغزشِ پا ان کے کام آ گئی اور انگلینڈ ہارتے ہارتے رہ گیا۔ پھر ساتھ ہی ان کے بلے سے ٹکرا کر ایک 'اوور تھرو' باؤنڈری پار جا پہنچی اور مفت کے چار رنز مل گئے۔

لیکن پھر بھی یہ میچ آخری گیند تک کیویز کا ہی تھا۔ کیویز نے قسمت کی بے وفائی کے باوجود آخری بال تک اس میچ کو لٹکائے رکھا۔

شاید ولیمسن کو سپر اوور کے لئے بولٹ کی بجائے میٹ ہنری سے رجوع کرنا چاہئے تھا۔ لیکن پھر بھی بولٹ نے برا اوور نہیں پھینکا کیونکہ گپٹل اور نیشم ایک بار پھر میچ ٹائی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

شومئی قسمت کہ یہاں کرکٹ کے جس قانون کو لاگو ہونا تھا، اس کا کھیل کی مبادیات سے کوئی گہرا تعلق نہیں ہے۔

سپر اوور ٹائی ہونے کے بعد باؤنڈریز کی تعداد پر جیت کا فیصلہ دراصل کرکٹ کا ’جان چھڑاؤ ‘ سا قانون ہے جس کا مقصد کسی نہ کسی طرح ٹائی در ٹائی میچ کا فیصلہ کرنا ہے۔

بس یہی ولیمسن کی بدقسمتی رہی کہ اس میچ میں یہ قانون ان کے حق میں نہیں گیا۔ وگرنہ یہ تو وہ ورلڈ کپ تھا کہ نیوزی لینڈ جیتے جیتے رہ گیا اور انگلینڈ ہارتے ہارتے جیت گیا۔

اسی بارے میں