سمیع چوہدری کا کالم: انضی بھائی! میری جوانی لوٹا دیں

فواد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فواد عالم ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے انبار لگا رہے تھے، پورا میڈیا چیختا رہ گیا مگر انضمام بھائی 'غیر ارادی طور' پہ مستحق پلئیرز کو نظر انداز کرتے رہے

کی مِرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

انضمام الحق چیف سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔ جاتے جاتے اور تو کافی کچھ کہا، یہ بھی کہہ گئے: ’میرے اس عہدے پہ ہوتے ہوئے، ہو سکتا ہے ٹیم کی پرفارمنس اس سے بہتر ہوتی جو نتائج میں نظر آتی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ میں نے غیر ارادی طور پہ بعض مستحق پلئیرز کو نظر انداز کیا ہو لیکن پاکستان کرکٹ کی بہتری ہی ہمیشہ میری ترجیح رہی۔‘

کارپوریٹ دستاویزات کی لفّاظی کچھ ایسی کمال ہوتی ہے کہ کئی ناانصافیاں اور ظلم سجے سنورے لفظوں کی آڑ میں چھپے رہ جاتے ہیں۔ ۔ ورنہ صاف لفظوں میں کہا جائے تو یہ انضمام الحق کا خفیف سا اعترافِ جرم ہے۔

پاکستان میں بالخصوص یہ رِیت رہی ہے کہ جب اعلیٰ ترین عہدے دار ریٹائر یا مستعفی ہوتے ہیں تو پھر یادداشتیں لکھتے ہیں اور مزے لے لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں جگہ پہ فلاں وقت جو فیصلہ کیا تھا، اس میں یہ یہ مصلحتیں کار فرما تھیں۔

مزید پڑھیں

’پانچ سو رنز بن تو سکتے تھے لیکن۔۔۔‘

’بھلا ہوا کہ سرفراز ٹاس نہیں جیتے‘

’گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا‘

انضمام الحق کا یہ اعتراف عکاس ہے ان کارکردگیوں کا جو پچھلے تین سال میں پاکستان کی جانب سے دیکھنے کو ملیں۔ ٹی ٹونٹی کی عالمی درجہ بندی میں قومی ٹیم سرِ فہرست آ گئی اور چیمپئینز ٹرافی کی جیت بھی بہت بڑا کارنامہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پورا میڈیا چیختا رہ گیا مگر انضمام بھائی 'غیر ارادی طور' پہ مستحق پلئیرز کو نظر انداز کرتے رہے

مگر ان دو پہلوؤں کے سوا بحیثیتِ مجموعی ون ڈے اور ٹیسٹ میں پاکستان کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ سری لنکا، زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے سوا پاکستان کسی اور ٹیم سے کوئی سیریز جیتنے میں ناکام رہا۔

ٹیسٹ ٹیم کو جس طرح سے مصباح الحق بنا کر گئے تھے، سرفراز کی کپتانی اور انضمام کی سلیکشن میں اس کا یہ حشر ہوا کہ سری لنکا سے ہوم گراؤنڈ پہ کلین سویپ ہو گئے اور پچھلے تین سال میں آئر لینڈ کی سیریز کے سوا پاکستان کوئی ایک بھی ٹیسٹ سیریز نہ جیت پایا۔

اور جب یہ ناگفتہ بہ کارکردگیوں کا سلسلہ جاری تھا تو پوری دنیا چیختی رہ گئی کہ فواد عالم کو ٹیم میں شامل کریں مگر تب انضمام کے سر پہ بھوت سوار تھا 'ینگ ٹیم' بنانے کا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption طویل انتظار کے بعد ایک دن اچانک اظہر علی ون ڈے کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے

فواد عالم ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے انبار لگا رہے تھے۔ ڈومیسٹک سرکٹ کے ٹاپ پرفارمر تھے اور وہ بھی ایک نہیں، لگاتار دو سال سے۔ پورا میڈیا چیختا رہ گیا مگر انضمام بھائی 'غیر ارادی طور' پہ مستحق پلئیرز کو نظر انداز کرتے رہے۔ اب وہی جانیں کہ اس میں پاکستان کرکٹ کی کون سی بہتری پیشِ نظر تھی۔

اور اس سے بھی متنازع کیس رہا اظہر علی کا ہے جنہیں انضمام بھائی کی آمد سے پہلے ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی ملی تھی۔ دونوں ٹیموں کی کپتانی سے تو خیر گئے ہی، انضمام الحق کے آتے ہی ون ڈے ٹیم میں اپنی جگہ سے بھی محروم ہو گئے۔

بادلِ نخواستہ انہیں چیمپئینز ٹرافی کے لئے سلیکٹ کیا گیا، پرفارمنس بھی اچھی رہی مگر پھر بکھیڑا آ گیا کہ امام الحق کو بھی کھلانا ہے، اس گومگو اور طویل انتظار کے بعد ایک دن اچانک اظہر علی ون ڈے کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اب جب کہ انضمام الحق سلیکشن کمیٹی کے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں، ان کا کرئیر ہرگز ختم نہیں ہوا

اب جب کہ انضمام الحق سلیکشن کمیٹی کے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں، ان کا کرئیر ہرگز ختم نہیں ہوا۔ عین ممکن ہے مستقبل قریب میں کسی ٹیم کے ہیڈ کوچ بنے بیٹھے ہوں۔ لیکن فواد عالم کا کرئیر تو ختم ہو گیا۔ اظہر علی کا ون ڈے کرئیر تو ختم ہو گیا۔

یہ دو مثالیں تو وہ ہیں جو اپنی اہمیت اور خبری حیثیت کے سبب منظرِ عام پہ آ گئیں۔ یہ اب خدا ہی جانے کہ کتنے اور مستحق پلئیرز اس 'غیر ارادی نظر اندازی' اور 'پاکستان کرکٹ کی بہتری' کا شکار ہوئے۔

اچھا ہوا کہ یہ کوئی عدالت نہیں ہے ورنہ یہاں تو بے شمار صدائیں سنائی دیتیں کہ ’انضی بھائی! میری جوانی لوٹا دیں‘۔

اسی بارے میں