تندولکر، ڈونلڈ اور فٹزپیٹرک آئی سی سی کے ہال آف فیم میں شامل

آئی سی سی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرکٹ کے کھیل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے مایہ ناز انڈین بلے باز کو بالآخر آئی سی سی کے ہال آف فیم میں شامل کر لیا گیا ہے

کرکٹ کے کھیل میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے مایہ ناز انڈین بلے باز کو بالآخر آئی سی سی کے ہال آف فیم میں شامل کر لیا گیا ہے۔

آئی سی سی نے جمعرات کے روز جن تین کھلاڑیوں کو ہال آف فیم میں شامل کیا ان میں انڈیا کے سچن تندولکر، جنوبی افریقہ کے ایلن ڈونلڈ اور آسٹریلیا کی خاتون فاسٹ بولر کیتھرین فٹزپیٹرک شامل ہیں۔

فٹزپیٹرک کی شمولیت کے ساتھ ہی اس فہرست میں آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی تعداد سب سے زیادہ 29 ہو گئی ہے۔

سچن تندولکر انڈیا کی جانب سے پانچویں جبکہ ایلن ڈونلڈ جنوبی افریقہ کی طرف سے ہال آف فیم میں شامل کیے جانے والے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔

ہال آف فیم کیا ہے؟

آئی سی سی کی جانب سے ہر سال کرکٹرز کو ان کی مہارت اور کامیابیوں کے اعتراف میں ہال آف فیم میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ان کھلاڑیوں کو آئی سی سی کی جانب سے ایک اعزازی ٹوپی بھی دی جاتی ہے۔

اس سلسلے کا آغاز سنہ 2009 میں آئی سی سی کی سوویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا۔

اب تک اس فہرست میں 90 کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے جن میں آسٹریلیا کے سب سے زیادہ 29 کھلاڑی شامل ہیں۔

آئی سی سی کے قواعد و ضوابط کے مطابق کسی کھلاڑی کو تب تک اس فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کی ریٹائرمنٹ کو کم از کم پانچ سال نہ بیت جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس سلسلے کا آغاز سنہ 2009 میں آئی سی سی کی سوویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا

یہی وجہ ہے کہ وقار یونس اور سچن تندولکر نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو 1989 میں کیا تھا لیکن وقار یونس جو سنہ 2003 میں ریٹائر ہوئے انھیں یہ اعزاز سنہ 2013 میں بخشا گیا جب کہ سنہ 2013 میں ریٹائر ہونے والے سچن تندولکر کو یہ اعزاز سنہ 2019 میں ملا ہے۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو مانو سوہنے کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’سچن، ایلن اور کیتھرین تین مایہ ناز کھلاڑی تھے اس لیے وہ اس فہرست میں شمولیت کے مستحق ہیں۔ میں ان تینوں کھلاڑیوں کو مبارک باد دینا چاہوں گا کہ وہ دنیا کہ عظیم ترین کرکٹروں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔‘

موجودہ کھلاڑیوں کی شمولیت کی وجہ

سچن تندولکر دنیائے کرکٹ میں سب سے زیادہ 200 ٹیسٹ کھیلنے والے واحد کھلاڑی اور انھوں نے مجموعی طور پر انٹرنیشنل کرکٹ میں 100 سنچریاں بنائی ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔

ٹیسٹ میچوں میں سچن نے 15921 جبکہ ایک روزہ میچوں میں 18426 رنز بنائے ہیں اور وہ سنہ 2011 کی انڈیا کی ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے سچن تندولکر کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں آئی سی سی کے ہال آف فیم میں شامل ہوا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھ سے پہلے جن عظیم کھلاڑیوں کو یہ اعزاز ملا انھوں نے بھی کرکٹ کے کھیل کے لیے اپنی خدمات پیش کیں اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے بھی اس میں حصہ ڈالا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بلے بازوں میں جاوید میانداد اور حنیف محمد اس فہرست میں شامل ہیں جبکہ سنہ 2013 وقار یونس کی شمولیت کے بعد اس فہرست میں کوئی بھی کھلاڑی شامل نہیں ہو سکا

ایلن ڈونلڈ کی بات کی جائے تو وہ اپنے ملک کے مایہ ناز فاسٹ بولر تھے اور جنوبی افریقہ کے پہلے بولر تھے جنھوں نے ٹیسٹ میچوں میں 300 جبکہ ایک روزہ میچوں میں 200 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ ڈونلڈ 2004 میں ہر قسم کی کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے تھے۔

ڈونلڈ کا کہنا تھا کہ ’اس ایوارڈ کی وجہ سے آپ فوراً ماضی کی یادوں میں کھو جاتے ہیں اور آپ کو بچپن کی یادیں بھی آنے لگتی پیں کے کیسے آپ نے جوانی میں کرکٹ کھیلنا شروع کی اور کن لوگوں نے آپ کا اس وقت ساتھ دیا۔'

آسٹریلیا کی خاتون فاسٹ بولر کیتھرین فٹزپیٹرک 90 کی دہائی میں خواتین کی تیز ترین بولر مانی جاتی تھیں۔ انھوں نے اپنے 16 سالہ کریئر میں 180 وکٹیں حاصل کیں جو کہ اس وقت ایک ریکارڈ تھا۔

کیتھرین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’کرکٹ کے عظیم ترین کھلاڑیوں کے درمیان یہ اعزاز حاصل کرنا ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔‘

پاکستان کی جانب سے یہ اعزاز کسے حاصل ہے؟

پاکستان کی جانب سے اب تک پانچ کھلاڑیوں کو یہ اعزاز مل چکا ہے جن میں عمران خان، وسیم اکرم، حنیف محمد، جاوید میانداد اور وقار یونس شامل ہیں۔

سب سے پہلے اس فہرست میں شامل ہونے والے کھلاڑی عمران خان تھے جس کے بعد سنہ 2009 میں ہی وسیم اکرم کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا۔

بلے بازوں میں جاوید میانداد اور حنیف محمد اس فہرست میں شامل ہیں جبکہ سنہ 2013 وقار یونس کی شمولیت کے بعد اس فہرست میں کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں