آرسنل کے مایہ ناز فٹبالرز اوزل اور سیئڈ کولیسنیئیک سے گاڑی چھیننے کی کوشش ناکام

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گل بیک پوزیشن پر کھیلنے والے کولیسنیئیک دو حملہ آوروں کا مقابلے کر رہے ہیں جن کے پاس چھریاں بطور ہتھیار تھیں۔

انگلش پریمئر لیگ کے دو معروف فٹبالرز کو لندن میں کاریں چوری کرنے والے ایک گینگ نے لوٹنے کی کوشش کی تاہم اس واقعے میں دونوں کھلاڑی بچ گئے۔

برطانوی فٹبال کلب آرسنل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان ٹیم کے دو اہم رکن، ترک نژاد جرمن کھلاڑی میسوت اوزل اور بوسنیا ہرزیگوینا کے سیئڈ کولیسنیئیک کو نشانہ بنایا گیا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کولیسنیئیک نے چوروں کا مقابلہ کیا اور بظاہر وہ ان کا پیچھا کرنے لگے۔

یہ واقعے جمعرات کی شام لندن کی گلی پلیٹس لین میں تقریباً پانچ بجے پیش آیا۔

آرسنل کلب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم دونوں کھلاڑیوں سے رابطے میں ہیں اور وہ دونوں ٹھیک ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اوزیل (دائیں جانب) اور کولیسنیئیک (بائیں جانب)

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فل بیک پوزیشن پر کھیلنے والے کولیسنیئیک دو حملہ آوروں کا مقابلے کر رہے ہیں جن کے پاس چھریاں بطور ہتھیار تھیں۔

کھلاڑیوں کی گاڑی کے قریب دو افراد اپنے چہرے چھپائے موپڈ موٹر سائیکلوں پر آئے تو کولیسنیئیک گاڑی سے اترے اور ان کا مقابلہ کرنے لگے۔

میٹروپولیٹن پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھیں اطلاع دی گئی کہ موٹر سائیکل سوار مشکوک افراد نے ایک شخص کو لُوٹنے کی کوشش کی تھی۔‘

‘گاڑی کے ڈرائیور اور ان کے ساتھ سوار مسافر دونوں اس واقعے میں بچ گئے اور بعد میں گولڈرز گرین کے علاقے میں ایک ریسٹورانٹ میں ان کی پولیس سے بات ہوئی۔‘

اب تک اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب لندن کی سڑکوں پر فٹبالرز کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ 2016 میں ویسٹ ہیم کے سٹرائیکر اینڈی کیرل کو ٹرینگ سے گھر واپسی پر پستول کی نوک پر دھمکایا گیا تھا۔

اسی بارے میں