کاش عامر مظہر مجید سے نہ ملے ہوتے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ دنوں میں محمد عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں کارکردگی ملی جلی رہی ہے

سیاست کے میدان میں عمران خان جو مرضی کہیں، ان کی رائے سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر کرکٹ کے بارے میں خان صاحب کا ہر جملہ مصدقہ آفاقی حیثیت رکھتا ہے۔

آج سہہ پہر جب محمد عامر ایک ویڈیو میں اپنے مداحوں سے کہہ رہے تھے کہ اپنی فٹنس اور طویل عرصے تک پاکستان کی نمائندگی کرتے رہنے کی خواہش کے پیشِ نظر انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کیا ہے، تب عمران خان کا ایک جملہ بہت یاد آیا۔

ورلڈ کپ 2015 کے پاک بھارت میچ سے پہلے تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے برسبیلِ تذکرہ یہ کہا تھا کہ انھیں بخوبی یاد ہے جس وقت انھوں نے پہلی بار وسیم اکرم کو دیکھا تھا مگر جب انھوں نے پہلی بار محمد عامر کو بولنگ کرتے دیکھا تو متحیر رہ گئے کہ یہ لڑکا تو وسیم اکرم سے بھی زیادہ ٹیلنٹڈ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بڑے میچ کا بڑا بولر

پاکستانی کرکٹ کے ’کرپٹ‘ کھلاڑی

ورلڈ کپ فاتح کپتان کی اس رائے کو مدِ نظر رکھا جائے تو یقینی بات ہے کہ اگر محمد عامر کا کرئیر 'ناگفتہ بہ' حوادث کی نذر نہ ہوتا تو شاید وسیم اکرم کے سبھی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہوتے۔

کرکٹ، بالخصوص ٹیسٹ کرکٹ کا حسن فاسٹ بولنگ ہے اور فاسٹ بولنگ کا بھی حسن 'لیفٹ آرم' فاسٹ بولنگ ہے۔ ایلن ڈیوڈسن، گیری سوبرز اور وسیم اکرم سے لے کر آج کے مچل سٹارک تک، جب کوئی بائیں بازو کا فاسٹ بولر اپنے رن اپ مارک پہ کھڑا ہوتا ہے تو بلے باز، امپائر اور فیلڈر سمیت سبھی ناظرین کی دھڑکنیں ایک بار رک سی جاتی ہیں۔

بہرحال لیفٹ آرم فاسٹ بولنگ قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے۔ وسیم اکرم کے بارے ہمارا یہ خیال ہے کہ اگر وہ کرکٹ کے علاوہ کچھ بھی اور منتخب کرتے تو یہ قوانینِ فطرت سے چھیڑ چھاڑ کے مترادف ہوتا کیونکہ وہ پیدا ہی فاسٹ بولنگ کے لیے ہوئے تھے۔

بعینہٖ محمد عامر بھی صرف اور صرف فاسٹ بولنگ کے لیے پیدا ہوئے تھے اور بجا طور پر وہ تیز ترین 50 ٹیسٹ وکٹیں لینے والے کم عمر ترین فاسٹ بولر تھے۔ ان کی بولنگ کی کاٹ ہی کچھ ایسی تھی کہ اینڈریو سٹراس سے رکی پونٹنگ تک سبھی ان کے سامنے متزلزل نظر آتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے جانے والے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے انگلینڈ کو نو وکٹوں سے ہرایا تھا

انسانی فطرت ہے کہ جب کوئی کہانی لیجنڈ بنتے بنتے اچانک کہیں 'اینٹی کلائمیکس' کا شکار ہو جائے تو اسے 'قسمت کا لکھا' کہہ دیا جاتا ہے۔ پھر اس 'قسمت کے لکھے' میں بھی مزید توجیہات شامل ہو جاتی ہیں مثلاً بد دعا، جادو ٹونہ، نظرِ بد وغیرہ۔

جس طرح سے محمد عامر کا کیرئیر شروع ہوا اور جتنی تیزی سے ختم ہوا، اسے قسمت کا لکھا ہی کہا جا سکتا ہے۔ وضاحت کی ضرورت ہو تو یہ کہنا آسان ہے کہ شاید انھیں کسی کی نظر لگ گئی کیونکہ ایک ہفتہ پہلے جس بولر کی پوری دنیا میں دھوم مچی تھی، اچانک لارڈز میں اسی پلئیر آف سیریز سے جائلز کلارک نے ہاتھ ملانے سے معذرت کر لی۔ جس بولنگ پر مائیکل ہولڈنگ عش عش کر رہے تھے، اسی بولر پر پابندی کا سن کر مائیکل ہولڈنگ رو پڑے۔

محمد عامر کا فیصلہ کن پہلا سپیل

یہی نہیں، ہمیشہ لفظوں کے انتخاب میں محتاط اور جذباتیت سے قطعی عاری ہولڈنگ یہاں تک کہہ گئے کہ آئی سی سی کو اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کر کے محمد عامر کی پابندی ختم کرنا چاہیے کیونکہ اس پابندی سے ٹیسٹ کرکٹ ایسے جینئس بولر سے محروم ہو جائے گی۔

لیکن پھر بھی محمد عامر کی قسمت خوب رہی کہ پوری قوم ان کی واپسی کی منتظر رہی۔ یہی نہیں، پانچ سالہ خلا کے بعد جب وہ پہلے جیسے بولر نہ رہے تو بھی مبصرین اور شائقین کی اکثریت ان کا دفاع کرتے ہی نظر آئے۔

ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا یہ فیصلہ کوئی بریکنگ نیوز نہیں ہے، یہ کافی پہلے سے نوشتۂ دیوار تھا۔ دیر تھی تو بس اعلان کی لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ جب یہ اعلان ہم سنتے، تب عامر ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی تاریخ کے چنیدہ بولر ہوتے اور وسیم اکرم کے ریکارڈ توڑ چکے ہوتے۔

لیکن نجانے یہ قسمت کا لکھا تھا کہ کسی کی بری نظر جو کرئیر کے اوائل میں ہی وہ سلمان بٹ کے زیرِ اثر آ گئے اور پھر مظہر مجید سے بھی مل لیے۔ اگر یہ دو حادثات محمد عامر کے کرئیر میں پیش نہ آتے تو اس کی کہانی خاصی مختلف ہوتی اور ریٹائرمنٹ کے اعلان پر کئی دل ٹوٹ جاتے۔

مگر بصد افسوس یہ ہو نہ سکا۔ محمد عامر آئندہ بھی پاکستان کے لیے کھیلتے رہیں گے اور کامیابیاں سمیٹتے رہیں گے مگر بدقسمتی یہ رہی کہ کرکٹ کی خالص ترین شکل، ٹیسٹ کرکٹ، میں وہ اپنے ٹیلنٹ کی نسبت کچھ خاص حاصل نہ کر پائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں