لستھ ملنگا نے ایک روزہ کریئر کو اپنے انداز میں خیرباد کہہ دیا

ملنگا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کرکٹ کے شائقین کے سامنے جب بھی لستھ ملنگا کا نام لیا جائے تو وہ ان کے گھنگھرالے بالوں اور غیر روایتی بولنگ ایکشن کا ذکر کریں گے۔

بلے بازوں سے پوچھا جائے تو یقیناً وہ ان کے پیر توڑ یارکرز کی کہانیاں سنائیں گے جبکہ بولرز ضرور یہی کہیں گے کہ ان جیسا کوئی نہیں ہے۔

یہ درست بھی ہے کہ ملنگا جیسا کوئی نہیں ہے اور یہ بات انھوں نے اپنے آخری میچ کی پانچویں گیند پر باور کروائی جب انھوں نے بنگلہ دیش کے مایہ ناز بلے باز تمیم اقبال کو ان سوئنگنگ یارکر پر بولڈ کر دیا اور تین اہم وکٹیں حاصل کر کہ سری لنکا کو فتح سے ہمکنار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

وزیرِ کھیل کا بندر سے موازنہ کرنے پر ملنگا پر جرمانہ

’چندیمل، ملنگا اور میتھیوز بھی پاکستان نہیں جائیں گے‘

ملنگا کی ہیٹ ٹرک مگر پھر بھی بنگلہ دیش کی جیت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ملنگا کے یارکرز

ایسا نہیں کہ بلے باز ملنگا کے یارکرز کی تیاری نہیں کرتے۔ ملنگا کو کھیلتے ہوئے بلے بازوں کے ذہن میں شاید یہ پہلی چیز ہوتی ہے۔

کرک وز کے مطابق ملنگا نے اپنے کریئر میں 500 سے زائد یارکرز کرائے ہیں اور اس سے کہیں زیادہ یارکرز کرانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے پاس یارکرز کی مختلف اقسام موجود ہیں جن میں ایک خطرناک سلو یارکر بھی شامل ہے۔

لیکن اتنے سالوں بعد بھی حالیہ ورلڈ کپ میں ملنگا نے اس ہتھیار کے ذریعے انگلینڈ جیسی ٹیم کو چاروں شانے چت کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملنگا جیسا کوئی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ملنگا کے کریئر کے اعداد و شمار

ملنگا نے اپنے ایک روزہ کریئر میں 226 ایک روزہ میچوں میں 28 کی اوسط سے 338 وکٹیں حاصل کیں۔

انھوں نے اپنے ایک روزہ کریئر کا آغاز سنہ 2004 میں متحدہ عرب امارات کے خلاف ایک میچ سے کیا لیکن انھیں پہلی مرتبہ سنہ 2007 کے ورلڈ کپ میں شہرت حاصل ہوئی جب انھوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں چار گیندوں پر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کہ عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

ایک روزہ میچوں میں ملنگا کی سب سے اچھی کارکردگی 38 رنز کے عوض چھ وکٹیں لینا رہی۔

ریکارڈز کی بات کی جائے تو شاید انھیں ایک روزہ ورلڈ کپ نہ جیتنے کا افسوس رہے گا کیونکہ عالمی کپ مقابلوں میں ان کی کارکردگی عمدہ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ملنگا کے ریکارڈز

اگر بالوں کے سٹائل تبدیل کرنے کا بھی کوئی ریکارڈ ہوتا تو وہ ضرور ملنگا کے پاس ہوتا۔

زیادہ تر شائقین کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ ملنگا کے بال ہمیشہ سے ہی ایسے نہیں تھے۔ کریئر کے آغاز میں ان کے بالوں کا انداز روایتی تھا البتہ آہستہ آہستہ ان کی بولنگ کی طرح یہ بھی غیر روایتی ہونے لگا۔

چار عالمی کپ مقابلوں میں 56 وکٹیں حاصل کر کے ملنگا سب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔

ملنگا کے پاس سب سے زیادہ تین مرتبہ ایک روزہ میچوں میں ہیٹرک کرنے کا اعزاز بھی موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بات یہاں ختم نہیں ہوتی ملنگا ایک میچ ونر تھے۔ سری لنکا نے ملنگا کی موجودگی میں جن میچوں میں کامیابی حاصل کی ان میں ملنگا 24.7 کے سٹرائک ریٹ کے ساتھ سرِفہرست رہے۔

انھوں نے بطور ٹی ٹوئنٹی کپتان سری لنکا کو سنہ 2014 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کریئر کے آخر میں انھیں فٹنس کے مسائل درپیش تھے جن کی وجہ سے وہ اتنی اچھی کارکردگی نہیں دکھا پائے جس کی ان سے امید کی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہی وجہ ہے کہ سنہ 2015 سے سنہ 2019 کے عرصے میں ان کی بولنگ اوسط صرف 36 ہی رہی۔

تاہم حالیہ ورلڈ کپ کے آغاز میں وہ ایک مرتبہ پھر سے اپنے ہی رنگ میں نظر آئے اور انھوں نے لڑکھڑاتی ہوئی سری لنکن ٹیم کو سہارا دیے رکھا۔

سلنگا ملنگا کے نام سے جانے جانے والے اس بولر نے سری لنکا کے غیر روایتی کھیل پیش کرنے کی وراثت کو آخری دم تک سنبھالے رکھا لیکن سوال یہ ہے کہ اب اس کا وارث کون بنے گا؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں