سمیع چوہدری کا کالم: ورلڈ کپ کا نشہ اتنی جلدی کیسے اتر گیا؟

آسٹریلیا بمقابلہ انگلینڈ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ٹِم پین کی خوش قسمتی ہی جو روٹ کی بدقسمتی بن گئی۔ پین نے میچ سے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کو ترجیح دیں گے بھلے وکٹ جیسی بھی ہو۔

پین جانتے تھے کہ ان کا پیس اٹیک ہیزل وڈ اور مچل سٹارک کے بغیر پہلے بولنگ کرنے میں شاید اتنا پر اعتماد محسوس نہ کر سکے۔ مزید براں یہ بھی ان کی خواہش تھی کہ ایجبسٹن کی وکٹ پہ پانچویں روز ناتھن لیون بولنگ کریں نہ کہ معین علی۔

انگلینڈ کا غالباً ابھی ورلڈ کپ فتح کا نشہ اترا بھی نہیں تھا کہ پھر سے میدان میں اترنا پڑ گیا۔ ہفتہ بھر پہلے آئرلینڈ کے خلاف جب روٹ کی ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سو رنز بھی نہ کر پائی تو ورلڈ کپ کا سارا خمار کافور ہو گیا۔

گو کہ روٹ کی ٹیم بالآخر جیت گئی اور آئرلینڈ جیسے حریف سے تاریخی ہزیمت اٹھانے سے بچ گئی لیکن خدشات تبھی ان کے دل میں گھر کر گئے ہوں گے کہ بھلے جو بھی ہو، آسٹریلیا کے خلاف مکمل ٹیم کے ساتھ ہی سامنے آنا چاہیے۔ جبھی اینڈرسن کی فٹنس پر جوا کھیل لیا۔

یہ بھی پڑھیے

ایک عارضی کپتان اور ایک سنبھلے کپتان کا مقابلہ

’ایک ارب لوگ کیا دیکھتے ہیں اس میچ میں؟‘

’محمد حفیظ جیت گئے، ہاشم آملہ ہار گئے‘

مگر آسٹریلیا نے جو پالیسی اپنائی، وہ بہت دلیرانہ تھی۔ بہت عرصے بعد ایسا ہوا کہ آسٹریلوی ٹیم اپنے دو سٹرائیک بولرز کے بغیر میدان میں اتری وگرنہ سال پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آسٹریلیا ٹیسٹ میچ کھیل رہا ہو اور سٹارک اور ہیزل وڈ ڈریسنگ روم میں تماشائی بنے بیٹھے ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ووکس، براڈ اور سٹوکس نے بری بولنگ نہیں کی، انھوں نے اپنی پوری طاقت لگا دی کہ آسٹریلیا کو اٹھنے کا موقع نہ مل سکے۔ لیکن یہ بات سبھی کے ذہن میں تھی کہ جیمز اینڈرسن بولنگ نہیں کر سکیں گے اور یوں میچ شروع ہوتے ہی انگلینڈ کا پیس اٹیک معذور ہو گیا۔

یہی معذوری سٹیو سمتھ کی قوت بن گئی کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ جب یہ نامکمل اٹیک اپنے زخمی بولر کا کوٹا پورا کرتے کرتے تھک جائے گا تو وکٹ بھی دھیمی ہو چکی ہو گی اور رنز بھی سستے۔

سمتھ کے لئے اس طرح کی دھماکے دار واپسی ضروری بھی تھی کیونکہ سال بھر کی رسوائی اور پابندی کاٹنے کے بعد بھی وہ ورلڈ کپ میں کوئی خاطر خواہ اننگز نہ کھیل سکے تھے۔ اور ایسی صورتحال میں گھرے پلیئر کی فارم اگر جلد نہ لوٹے تو اسے ’ٹیم کی ضرورت‘ سے ’ٹیم پر بوجھ‘ بنتے زیادہ وقت نہیں لگتا۔

اور انگلینڈ کی ناقص پلاننگ نے بھی سمتھ کی واپسی کا سفر آسان کر دیا جو انھیں آف سٹمپ لائن سے باہر آزمانے کی بجائے مسلسل سٹمپس کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہے۔

اس سے برا یہ ہوا کہ اکلوتے سپنر معین علی کی بولنگ کنٹرول سے بالکل عاری رہی۔ گو کہ چوتھے روز کی وکٹ سست اور بیٹنگ کے لیے سازگار تھی لیکن اگر معین علی ذرا ڈسپلن کا مظاہرہ کرتے تو کم از کم میتھیو ویڈ کی دھواں دھار اننگز کے آگے بند باندھا جا سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن انگلش کرکٹ جس ڈگر پر چل نکلی ہے، ٹیسٹ ٹیم کی ایسی پرفارمنس کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ جس اپروچ کا فائدہ یہ ہوا کہ انگلینڈ اپنا پہلا ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب ہوا، اسی کا شاخسانہ ہے کہ جیسن روئے سے مختصر فارمیٹ کے کھلاڑی کو ٹیسٹ میچ کا اوپنر بنا ڈالا۔

یہ سیریز ابھی خاصی طویل ہے۔ دو ہفتے پہلے روٹ کی ٹیم ورلڈ کپ اٹھائے ساتویں آسمان پہ براجمان تھی مگر پچھلے پانچ دن کی ٹیسٹ کرکٹ نے اعصاب کو ایسے جھمیلے میں ڈالا کہ اس وقت انگلش ڈریسنگ روم اسی مخمصے میں گھرا ہوا ہے کہ ورلڈ کپ کا نشہ اتنی جلدی کیسے اتر گیا۔

اسی بارے میں