دروغے والا کا ارسلان صدیقی، ویڈیو گیم ’ٹیکن کا پاکستانی بادشاہ‘

ارسلان تصویر کے کاپی رائٹ Astro Gaming

’ایسا اس سے پہلے ٹیکن مقابلوں کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ کوئی کھلاڑی پاکستان جیسے انجان ملک سے اٹھ کر آئے اور کورین، جاپانی، یورپی اور شمالی امریکی کھلاڑیوں پر چھا جائے۔ آج کی کہانی یہ ہے کہ ارسلان کو کوئی نہیں روک سکتا۔‘

یہ الفاظ امریکہ کے شہر لاس ویگاس میں ہونے والے اِیوو 2019 کے فائنل میچ کے دوران ایک کمنٹیٹر کے ہیں جو لاہور کے علاقے دروغے والے سے تعلق رکھنے والے ارسلان صدیقی کو ’ٹیکن گوڈ‘ کے نام سے جانے جانے والے ’ہولی نی‘ کو چاروں شانے چت کرتے دیکھ رہے ہیں۔

پچھلے ایک سال میں ٹیکن کی دنیا ’ارسلان ایش‘ کو واقعی نہیں روک پائی۔ ان کی کہانی اتنی ہی افسانوی ہے جتنی ان کرداروں کی ہے جن کی مدد سے وہ اپنے مخالفوں کو مات دیتے ہیں۔

ارسلان نے بچپن میں اپنے ساتھیوں کی طرح اپنے محلے میں ’ٹوکن والی گیم‘ کھیلی، اور پھر مختلف شہروں میں جا کر ٹورنامنٹ بھی جیتے۔

لیکن ای سپورٹس پاکستان کے بانی حسنین کہتے ہیں کہ ارسلان کی کامیابیوں کی وجہ ان کی انتھک محنت ہے۔

حسنین نے کہا کہ ’اگر آپ ان کو کبھی کھیلتے دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ وہ اتنے کامیاب کیوں ہیں۔ ارسلان کو میں نے 16 گھنٹے لگاتار کھیلتے دیکھا ہے، یہ لڑکا تھکتا نہیں ہے۔‘

حالانکہ والدین عام طور پر وہاں کے ماحول کی وجہ سے ٹیکن کے سینٹرز پر نہیں بھیجتے لیکن ارسلان کے والدین نے مشکلات میں بھی ان کا بہت ساتھ دیا شاید یہی وجہ ہے کہ ارسلان نے ایوو جیتنے کا سہرا ’اپنی ماں کی دعاؤں کے سر رکھا۔‘

دروغے والا سے لاس ویگاس تک

ارسلان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’ایوو جیتنا کسی بھی ای سپورٹس کے کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے کیونکہ یہ ای سپورٹس کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ ہے۔ آپ کے کریئر کی سب بڑی کامیابی ہی یہی ہوتی ہے کہ آپ ایوو جیتیں۔ یہ میرے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔‘

اس فتح کی اہمیت کا اندازہ ارسلان کی ڈرامائی کہانی سے لگایا جا سکتا ہے جن کے لیے ایک سال پہلے تک پاکستان سے باہر نکلنا بھی مشکل تھا۔

گذشتہ برس متحدہ عرب امارات میں ایک گیمر محمد البنا نے ایک ایسی کمپنی کھولنے کا فیصلہ کیا جو اس خطے کے بہترین کھلاڑیوں کی مالی معاونت کرے تاکہ وہ دنیا بھر کہ مقابلوں میں شرکت کر سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ @AstroGaming
Image caption ’ارسلان کو میں نے 16 گھنٹے لگاتار کھیلتے دیکھا ہے، یہ لڑکا تھکتا نہیں ہے۔‘

البنا نے ارسلان کو گذشتہ برس ابو ظہبی میں ایک ٹورنامنٹ میں بلایا جہاں اتفاق سے اس وقت کے ایوو چمپیئن ہولی نی بھی موجود تھے۔ ارسلان نے انھیں دونوں مرتبہ ہرا کر ای سپورٹس کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔

البنا نے کہا ’میں خود بھی ایک گیمر ہوں اور میں نے ارسلان کی ویڈیوز دیکھ رکھی تھی اس لیے میں نے اس کو سپانسر کرنے کا سوچا کیوں کے ارسلان میں بہت ٹیلنٹ تھا۔‘

ارسلان کو ’ٹیکن کا گمنام خدا‘ کہا جانے لگا اور اس طرح ال بنا کا ان پر اعتماد بھی بحال ہو گیا۔ ٹیکن کی دنیا میں اگلا بڑا مقابلہ جاپان میں ہونے والا ایوو جاپان تھا۔

’مجھے پاکستان کا ٹکٹ کروا دیں‘

جاپان کا یہ مقابلہ شاید ارسلان کے کریئر کا سب سے کٹھن اور اعصاب شکن مقابلہ تھا۔ اس کی وجہ اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والے بہترین کھلاڑی نہیں تھے بلکہ ان کے پاکستانی ہونے کے باعث ویزا کے مسائل تھے۔

ارسلان نے ایوو جاپان سے قبل دو دن مختلف ہوائی اڈوں پر در بدر ہوتے بسر کیے۔ ان مقابلوں میں وی سلیش کی ٹیم میں موجود گیمر وقاص علی کہتے ہیں کہ ارسلان کی قوت ارادی کے بارے میں انھیں اس دن پتا چلا۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک موقع پر تو وہ کال کے دوران رو پڑا، اور کہنے لگا کے مجھے پاکستان کا ٹکٹ کروا دیں۔‘

ارسلان ٹورنامنٹ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل پہنچے۔ وقاص نے بتایا کہ ’ارسلان بہت تھک چکا تھا، اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ چکے تھے اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ اس حالت میں کیسے مقابلہ کر سکے گا۔‘

لیکن ارسلان نے ایک ایک کر کے تمام کھلاڑیوں کو مات دی اور ٹورنامنٹ اپنے نام کیا۔

وقاص نے کہا کہ ’میں نے اس جیسا کھلاڑی پہلے کبھی نہیں دیکھا، اتنی ہمت اور جرات کا مظاہرہ شاید ہی کوئی کر سکتا۔‘

ان کے سپانسر محمد البنا کہتے ہیں کہ انھیں ارسلان سے اتنی اچھی کارکردگی کی امید نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter_@MrWiz
Image caption ارسلان کی وجہ سے لوگوں کو پتا چلا ہے کہ پاکستان میں ٹیکن کے حوالے سے کتنا ٹیلنٹ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس نے مجھے بھی حیرت میں مبتلا کیا جب اس نے دنیا کے دو مشکل ترین ٹورنامنٹ جیت لیے۔

’میں بہت مطمئن ہوں اور جتنا میں نے سوچا تھا اس سے بہت زیادہ مجھے ملا ہے۔‘

’ایوو ای سپورٹس کا ورلڈ کپ‘

سیالکوٹ کے رہائشی اور گیمر فرقان بشارت نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جس طرح کرکٹ کا ورلڈ کپ ہوتا ہے ویسے ای سپورٹس کے لیے ایوو اس کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس میں بہت سخت مقابلے ہوتے ہیں اور یہ گیمرز کا خواب ہوتا ہے کہ وہ جیت پائیں، اتنا مشکل ہوتا ہے جیتنا۔‘

اس سال ٹیکن کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی نے ایک سال میں ایوو کے دونوں مقابلے جیتے ہیں۔ یہ منفرد اعزاز ارسلان کے پاس آیا اور انھوں نے ٹیکن کی تاریخ کے پہلے فاتح ہیں جنھوں نے دونوں مقابلوں میں پہلی مرتبہ شرکت کی اور مقابلے اپنے نام کیے۔

لاس ویگاس میں ہونے والے ایوو مقابلے میں نو مختلف گیمز میں 1500 کھلاڑیوں نے شرکت کی اور یہ تین دنوں پر محیط تھا۔

ٹیکن کے کھیل میں کھلاڑی افسانوی کرداروں کی مدد سے لڑائی کرتے ہیں۔ ارسلان عام طور پر ٹیکن کی افسانوی کردار کزومی سے کھیلتے ہیں جبکہ فائنل میچ میں ان کے مقابل کھلاڑی ہولی نی ٹیکن کردار کزویا سے کھیلے۔ اتفاق سے کزومی اور کزویا کا افسانوی رشتہ ماں اور بیٹے کا ہے۔

ارسلان کی صلاحیتوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ہولی نی کو پچھلے ایک سال میں کبھی جیتنے نہیں دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Arslan Siddique
Image caption ارسلان نے بچپن میں اپنے ساتھیوں کی طرح اپنے محلے میں 'ٹوکن والی گیم' کھیلی، اور پھر مختلف شہروں میں جا کر ٹورنامنٹ بھی جیتے

ایوو فائنل میں کیا ہوا

یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اتنے بڑے مقابلے میں ٹیکن ایک انتہائی مشکل کھیل بن جاتا ہے۔

فرقان کہتے ہیں کہ ’تھری ڈی‘ موومنٹ کی وجہ سے یہ گیم انتہائی کٹھن ہو جاتی ہے کیونکہ اگر آپ ایک غلطی بھی کرتے ہیں تو آپ پورا راؤنڈ ہار سکتے ہیں۔

فائنل سے پہلے ارسلان ’ونر بریکٹ‘ میں تھے یعنی پورے ٹورنانمنٹ میں انھیں ایک بھی میچ میں شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ جبکہ دوسری جانب ہولی نی ارسلان کے ہاتھوں شکست کے بعد ’لوزر بریکٹ‘ میں آ گئے تھے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہولی نی کو ٹورنامنٹ جیتنے کے لیے ارسلان کو دو مرتبہ ہرانا تھا لیکن وہ پہلے میچ میں ہی ہار گئے۔

ایک میچ میں پانچ سیٹ اور ایک سیٹ میں پانچ راؤنڈ ہوتے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے ارسلان نے عمدہ کھیل پیش کیا۔

پہلے تین سیٹس کے بعد 2-1 سے ناکامی کے بعد نی نے کردار بدلنے کا سوچا اور کزویا کی جگہ ڈیول جن کے ذریعے ارسلان کی کزومی کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔

یہ اپنے طور پر ارسلان کے لیے ایک نفسیاتی فتح تھی۔ کمنٹیٹر بھی ارسلان کی کارگردگی سے متاثر نظر آئے۔ انھوں نے کہا کہ ’ارسلان کی ذہانت متاثر کن ہے۔ وہ ہر موقع پراپنے مخالفوں سے ایک قدم آگے ہوتا ہے۔ ارسلان کو کوئی بھی روک نہیں سکا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Arslan Siddique
Image caption 'ارسلان کی ذہانت متاثر کن ہے۔ وہ ہر موقع پراپنے مخالفوں سے ایک قدم آگے ہوتا ہے۔ ارسلان کو کوئی بھی روک نہیں سکا۔'

پاکستان میں ٹیکن کی مقبولیت

پاکستان میں پہلے ہی ٹیکن ایک مقبول کھیل ہے اور لوگ اب ٹیکن کے میچ براہِ راست دکھانے میں بھی شوق رکھتے ہیں اور نوجوان خاص کر اسے تفریح کے طور پر کھیلتے نظر آتے ہیں۔

ارسلان کی پچھلے ایک برس کی فتوحات کی بنا پر پاکستان کو عالمی طور پر مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ پچھلے ماہ جاپانی کھلاڑی کرو کرو نے پاکستان آ کر پاکستانی انداز سیکھنے اور کھلاڑیوں کے ساتھ پریکٹس کرنے کا اعلان کیا۔

ای سپورٹس پاکستان کے شریک بانی حسنین کہتے ہیں کہ ارسلان کی وجہ سے لوگوں کو پتا چلا ہے کہ پاکستان میں ٹیکن کے حوالے سے کتنا ٹیلنٹ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ارسلان نے جتنی آسانی سے یہ ٹورنامنٹ جیتا ہے اس سے گیمنگ کمپنیوں کی توجہ پاکستان کی جانب مرکوز ہوئی ہے۔

ارسلان خود کہتے ہیں کہ ’اس جیت سے پاکستان میں ای سپورٹس پر بہت اچھا اثر پڑے گا کیونکہ بہت سارے سپانسر پاکستان میں کھلاڑیوں کو سپانسر کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے پاکستان میں موجود ٹیکن اور دوسری ای سپورٹس کے دیوانوں کے والدین کو پیغام دیا کہ آپ اپنی اولاد کی پڑھائی پر اتنا پیسا خرچ کرتے ہیں تو اگر کوئی ای سپورٹس میں اچھا ہے تو اسے بھی ایک موقع ضرور ملنا چاہیے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں