مصباح الحق کے لیے وقت کم ہے اور مقابلہ سخت: سمیع چوہدری کا کالم

مصباح الحق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جب اکتوبر میں پاکستان مصباح کی کوچنگ میں اپنا پہلا انٹرنیشنل میچ کھیلے گا تو یہ ڈریسنگ روم کم و بیش انھی چہروں پہ مشتمل ہو گا جو تین سال پہلے مصباح کی کپتانی میں کھیل چکے ہیں

پاکستانی صحافت کا المیہ یہ ہے کہ یہاں خبر اور خواہش میں تمیز کرنا بہت مشکل ہے۔ خبر سیاست سے متعلق ہو کہ معیشت سے، بات داخلی امور کی ہو یا خارجی کی، خبر نگار کی خواہش اکثر خبر کے مواد سے بازی لے جاتی ہے۔

سپورٹس جرنلزم کا معاملہ تو ویسے ہی نرالا ہے۔ ریٹنگ کے جغادری تجزیہ کار جب کسی خبر کا باریک قیمہ بنانے بیٹھتے ہیں تو جذبات کا ایک سمندر امڈ آتا ہے جو حقائق، ضوابط اور غیرجانبداری جیسی چیزوں کو بہا لے جاتا ہے۔

سو خبر یہ نہیں ہے کہ مصباح الحق پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ بن گئے ہیں۔ اصل خبر یہ ہے کہ مصباح الحق پاکستان کے ہیڈ کوچ 'کیوں' بن گئے ہیں؟

حسبِ معمول پی سی بی نے بھی اس خبر کو متنازع بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اول تو اگر پی سی بی یا وسیم خان کے دل میں کہیں ایسی خواہش تھی بھی سہی، تو بہتر تھا کہ مکی آرتھر کی کارکردگی کا جائزہ لینے والی کرکٹ کمیٹی سے مصباح الحق کو علیحدہ کر لیا جاتا۔

یہ بھی پڑھیے

مصباح الحق کی لو پروفائل عظمت

2016: مصباح الحق کا سال

’ایک اور جاوید میانداد چلا گیا‘

ورلڈ کپ کا نشہ اتنی جلدی کیسے اتر گیا؟

اگر ایسا ہو جاتا تو 'کانفلکٹ آف انٹرسٹ' کا سوال پیدا نہ ہوتا۔ اس پہ طرہ یہ کہ مصباح الحق بھی آخری وقت تک قیاس آرائیوں کو ہوا دیتے رہے اور کوچنگ کے لیے باقاعدہ درخواست نہ دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مصباح کے لیے یہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہو گی کیونکہ پاکستانی صحافت میں مصباح جیسے بورنگ کرداروں کی کوئی جگہ نہیں

بہرطور، اب جبکہ یہ اعلان کیا ہی جا چکا ہے تو یہ ذہن نشین کر لینا لازم ہے کہ مصباح کے لیے یہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہو گی کیونکہ پاکستانی صحافت میں مصباح جیسے بورنگ کرداروں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

کراچی لاہور کی کرکٹنگ رقابت تو ہر بدنصیب کپتان اور کوچ کے حصے میں آتی ہی ہے مگر مصباح کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ نہایت بورنگ بھی ہیں۔ نہ وہ اپنے منہ سے کوئی بریکنگ نیوز جھڑنے دیتے ہیں نہ ہی اپنے ڈریسنگ روم سے۔

سو خبر نگاروں کا بڑا نقصان تو یہ ہوا کہ اب ڈریسنگ روم کے پھڈے چاردیواری سے باہر نہیں نکلیں گے۔ نہ ہی مصباح مکی آرتھر کی طرح بالکنی پہ کھڑے ہو کر زیرِ لب کچھ بڑبڑائیں گے اور نہ ہی میانداد کی طرح ڈریسنگ روم سے ہی بلے بازوں کو بیٹنگ ٹپس دے کر اپنی پیشہ وارانہ ذہانت کے ثبوت دیں گے۔

سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب نہیں تو پھر مصباح کریں گے کیا؟

مصباح الحق کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انھیں ماضی کے کوچز کی طرح انٹرنیشنل کرکٹ سے دور ہوئے کوئی پانچ دس سال نہیں ہوئے۔ ان کے لیے یہ کل ہی کی بات ہے۔

جب اکتوبر میں پاکستان مصباح کی کوچنگ میں اپنا پہلا انٹرنیشنل میچ کھیلے گا تو یہ ڈریسنگ روم کم و بیش انھی چہروں پہ مشتمل ہو گا جو تین سال پہلے مصباح کی کپتانی میں کھیل چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرکٹ کے میدان میں مصباح کے لیے بے شمار چیلنجز ہیں

سو یہ تو فائدہ ہوا کہ مصباح کو اپنے ڈریسنگ روم کو سمجھنے کے لیے دو تین سیریز گزر جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ مگر ساتھ ہی اس فائدے کا نقصان یہ بھی ہوا کہ ان کے لیے کوئی 'ہنی مون پیریڈ' نہیں ہو گا۔

اگرچہ ابھی پی سی بی نے ٹیم کی کپتانی کا فیصلہ نہیں کیا مگر یہ طے شدہ بات ہے کہ کپتان جو بھی بنے، آئندہ ہار کا ملبہ کپتان پہ نہیں کوچ مصباح پہ گرے گا۔ ہاں اگر کپتان کا تعلق کراچی سے نہ ہوا تو وہ بھی بھرپور طریقے سے اس ملبے کی زد میں آئے گا۔

کرکٹ کے میدان میں مصباح کے لیے بے شمار چیلنجز ہیں۔ ون ڈے رینکنگ میں بہتری تو مطمع نظر ہو گی ہی، اس سے بھی بڑا سوالیہ نشان کھڑا ہے ٹیسٹ رینکنگ پر۔ دیکھنا یہ ہے کہ جس ٹیسٹ ٹیم کو اپنی قیادت میں مصباح نے نمبر ون بنایا تھا، اب اپنی کوچنگ میں کتنی جلدی اس کا وقار بحال کر پاتے ہیں۔

اور اس سے بھی بڑا چیلنج فی الوقت میڈیا کا سامنا کرنا ہے جہاں اکثر حلقوں میں اس فیصلے پہ ابھی سے صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ گو کہ میڈیا کو ہینڈل کرنے میں مصباح خاصی مہارت رکھتے ہیں مگر اب کی بار چونکہ ذمہ داری قدرے مختلف نوعیت کی ہے سو چیلنج بھی مختلف طرز کا ہو گا۔

جبکہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت، کیونکہ بہت سے لوگ صرف یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ مصباح الحق کتنے برے کوچ ثابت ہوں گے۔

اسی بارے میں