’سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے دس کھلاڑوں کے دورۂ پاکستان سے منع کرنے میں انڈیا کا کوئی کردار نہیں‘

سری لنکا ٹیم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان آ کر کھیلنے سے انکار کرنے والوں میں دیموتھ کرونارتنے، لسیتھ مالنگا اور انجیلو میتھیوز کے علاوہ سات دیگر کھلاڑی شامل ہیں

سری لنکا کے کھیلوں کے وزیر ہرین فرنینڈو نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن کے مطابق انڈیا نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو پاکستان نہ جانے پر مجبور کیا۔

بی بی سی کی سنہالہ سروس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دس کھلاڑیوں کے پاکستان جانے سے انکار کی وجہ سنہ 2009 میں ٹیم پر دہشتگردوں کا حملہ تھا۔

'ہم نے کھلاڑیوں کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا تھا کیونکہ ہم کسی کو مجبور نہیں کرنا چاہتے تھے۔ دس کھلاڑیوں نے ٹیم سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا کیونکہ اُن کے اہل خانہ پاکستان کے دورے کے بارے میں خوش نہیں تھے۔ ہم اُن کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور جو بھی کھلاڑی ہمیں دستیاب تھے ہم نے اُن میں سے ایک اچھی ٹیم منتخب کی ہے۔'

ہرین فرنینڈو نے کہا کہ اِس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ سری لنکا کے کھلاڑیوں کے پاکستان نہ جانے کے فیصلے میں انڈیا کا کوئی کردار ہے۔

پاکستان کے وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے منگل کو اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ انھیں کھیلوں کے باخبر مبصرین نے بتایا ہے کہ انڈیا نے سری لنکا کے کھلاڑیوں کو دھمکی دی ہے کہ اگر انھوں نے پاکستان کے دورے سے منع نہیں کیا تو انھیں انڈین پریمیئر لیگ سے نکال دیا جائے گا۔

جن دس کھلاڑیوں نے پاکستان جانے سے منع کیا ہے اُن میں سے صرف ایک کھلاڑی لیستھ ملنگا ہی نے آئی پی ایک کے ساتھ معاہدہ کیا ہوا ہے۔

سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دس کھلاڑیوں نے رواں ماہ کے اختتام پر پاکستان میں شروع ہونے والے تین ایک روزہ اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز میں شرکت سے معذرت کر لی تھی۔

انکار کرنے والے کھلاڑیوں میں سری لنکن ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان دیمتھ کرونارتنے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان لستھ ملنگا کے علاوہ انجیلو میتھیوز، نیروشان ڈکویلا، کسال پریرا، دھننجیا ڈی سلوا، تھشارا پریرا، اکیلا دھننجیا، سورنگا لکمل اور دنیش چندیمل شامل ہیں۔

سری لنکا کی کرکٹ ٹیم نے گذشتہ ماہ پاکستان میں تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کھیلنے کا اعلان کیا تھا۔ سری لنکن کرکٹ کا دورہ پاکستان 27 ستمبر سے نو اکتوبر تک ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

شعیب، حفیظ سینٹرل کنٹریکٹ سے آؤٹ

مصباح الحق کے لیے وقت کم ہے اور مقابلہ سخت

سری لنکا کی ٹیم پاکستان میں ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی کھیلے گی

سری لنکن کھلاڑیوں نے یہ فیصلہ کرکٹ ٹیم کو دورہ پاکستان کے حوالے سے دی گئی ایک سکیورٹی بریفنگ کے بعد کیا ہے۔

سری لنکن کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'اس بریفنگ کا مقصد کھلاڑیوں کو دورہ پاکستان کے دوران کیے گئے سکیورٹی انتظامات سے باخبر کرنا تھا۔ (اس کا مقصد) ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میچوں کے لیے سکواڈ فائنل کرنے سے قبل کھلاڑیوں کی شرکت کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں جاننا بھی تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سات ستمبر کو سری لنکا کے وزیر کھیل ہیرن فرنینڈو نے بی بی سی سنہالا کو تصدیق کی تھی کہ چند کھلاڑیوں نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان جا کر کھیلنے سے انکار کیا ہے

سری لنکا اور پاکستان کے میچوں کا شیڈول بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ شیڈول کے مطابق تین ایک روزہ میچ کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں 27 ستمبر، 29 ستمبر اور دو اکتوبر کو کھیلے جانے ہیں۔

جبکہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کے تینوں میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پانچ، سات اور نو اکتوبر کو ہونا ہیں۔

اگست میں پاکستان اور سری لنکن کرکٹ بورڈز نے یہ سیریز کھلینے سے متعلق معاہدہ کیا تھا۔ابتدائی پلان کے مطابق دونوں ٹیموں کے مابین اکتوبر میں دو ٹیسٹ میچ بھی ہونا تھے تاہم ان کو منسوخ کر کے صرف ایک روزہ اور ٹی ٹوئینٹی سیریز کھیلنے پر اتفاق ہوا تھا۔

پاکستان نے سنہ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہوئے شدت پسندوں کے حملے کے بعد سے اب تک کسی ٹیسٹ میچ کی میزبانی نہیں کی ہے۔

شدت پسندوں کے حملے میں دو سویلین جبکہ چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ چھ کھلاڑی زخمی بھی ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان نے سنہ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور میں ہوئے شدت پسندوں کے حملے کے بعد سے اب تک کسی ٹیسٹ میچ کی میزبانی نہیں کی ہے

سری لنکا کے کھیلوں کے وزیر نے بی بی سی سنہالا کو تصدیق کی تھی کہ چند کھلاڑیوں نے ان کے اہل خانہ کی طرف سے اٹھائے گئے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کھیلنے سے انکار کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں