دنیا کا طاقتور ترین شخـص بننے کا کیا طریقہ ہے؟

Mikey Lane training in his gym تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

مائیک لین روزانہ 8500 کیلوریز کھاتا ہے اور ہفتے میں پانچ دن تک سخت مشقت والی ٹریننگ کرتا ہے تاکہ وہ دنیا کا طاقتور ترین شخص بن سکے۔

پینتیس برس کا مائیک اپنی ٹریننگ کے اصول کے طور پر ہفتے بھر میں سات مرغ، بڑے سائز کے چھ پیٹزا کھاتا ہے۔

برطانیہ کے شہر برمنگھم کے قریب ننیٹن کے اس طاقتور شخص نے اپنے گزشتہ نو برس اس مقصد کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں کہ وہ دنیا کا طاقتور ترین مرد بننے کا خواب پورا کرسکے۔

Mikey Lane training in his gym تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

اس نے اپنی زندگی کے سفر میں قومی اور پھر بین الاقوامی سطح پر مقابلوں میں حصہ لیا ہے تاکہ وہ اپنی حتمی منزل یعنی دنیا کے طاقتور ترین مردوں کے مقابلے میں حصہ لے سکے۔

مائیک کی ویٹ لفٹنگ میں دلچسپی اس وقت بنی تھی جب وہ سکول کا طالبِ علم تھا۔ پہلے وہ فٹ بال کھیلتا تھا لیکن اسے وہ کھیل زیادہ اچھا نہیں لگا۔ وہ روزانہ اپنے گھر سے قریب دس میل کے فاصلے پر جم میں ٹریننگ کرنے کے لیے سائیکلنگ کرتا ہے۔

وہ کہتا ہے کہ ’میں ہر برس کرسمس کے دنوں میں دنیا کے طاقتور ترین مردوں کے مقابلوں کو بچپن سے دیکھتا آرہا تھا، اس لیے میں ان سے بہت مرعوب تھا۔‘

جب وہ اپنے ایک عزیز کے ساتھ وارکشائیر میں طاقتور مردوں کے مقابلے کی تیاریوں میں اس کا ساتھ دے رہا تھا تب اسے احساس ہوا کہ اس میں بھی طاقتور مردوں کے مقابلے میں حصہ لینے کی صلاحیت ہے۔

’میں مقابلے کے شرکا کے لیے ویٹ لفٹنگ اور اس مقابلے سے منسلک سامان کو اٹھا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھ رہا تھا جب مجھے احساس ہوا کہ میں اس بھاری سامان کو دیگر پیشہ ورانہ اتھلیٹس کی نسبت آسانی سے اٹھا سکتا ہوں۔

Mikey Lane training in his gym تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

مائیک ایک عام کمرشل جِم میں ٹریننگ لیتا تھا، لیکن اسے جلد ہی احساس ہوا کہ اس جم کے ویٹ اور سامان چھوٹے پڑ گئے ہیں۔

تین برس قبل اس نے فیصلہ کیا کہ اسے اپنے مشن کو ایک نئی سطح تک لے جانا ہے۔ جس کے لیے اُسے اپنا ایک نیا جم بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے گھر سے چند میل کے فاصلے پر مِڈلینڈز میں ایک فارم ہاؤس کی بلڈنگ کرائے پر حاصل کی۔

Mikey Lane training in his gym تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

وہ اپنی دھات سازی کے کام کی صلاحیت کی بدولت اپنی مرضی کا ایک جِم تعمیر کرسکتا تھا جس میں اس کی ضرورت کی تمام سہولتیں موجود ہوں۔

Mikey Lane's gym equipment تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

مائیک نے اس جم کا نام ایپ جم رکھا کیونکہٹ بقول اُس کے ’میرے بہت لمبے ہاتھ ہیں اور شاید، جیسا کے دوسرے لوگ کہتے ہیں، میں ایک دن ایک گوریلے کی صورت اختیار کرلوں۔‘

Mikey Lane training in his gym تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox
Mikey Lane's gym sign تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

اس کے اپنے جم میں مائیک کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی ہے کہ اسے دوسروں جم میں جانے والوں کا خیال رکھنا ہو گا کہ کہیں کوئی ویٹ نہ گر پڑے اور کسی کو چوٹ نہ لگ جائے۔

Mikey Lane training in his gym تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

اس کے جم میں ایک سٹینڈ پانچ پانچ کلو سے لے کر ایک سو پانچ کلو وزن کے ڈمبلز سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اطلس سٹون یعنی 60 کلو گرام سے لے کر 200 کلو گرام کے ویٹ موجود ہیں۔

دنیا کے طاقتور ترین مردوں کے مقابلوں میں پانچ اطلس سٹون کا وزن اٹھا کر کسی اونچی جگہ پر رکھنا ہوتا ہے۔ یہ عموماً مقابلے کا آخری حصہ ہوتا ہے اور اس سے جیتنے والے کا تعین ہوتا ہے۔

Mikey Lane's gym equipment تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

مائیک کی گرل فینڈ اس کی مدد کرتی ہے جو اس کی مینیجر کا کردار بھی ادا کرتی ہے، کبھی اس کی فزیوتھیریپسٹ بن جاتی ہے اور کبھی اس کا کھنا بھی تیار کرتی ہے۔

Nina helping Mikey remove a splinter تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

اس سے پہلے نینا نے طاقتور ترین عورتوں کے مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئی تھی۔ بھاری وزن اٹھایا تھا، اور بھاری وزن اٹھا کر چلی تھی۔

Nina using a car polisher on Mikey's back تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

اوپر والی تصویر میں نینا مائیک کے پشت کے پٹھوں کا کار کو پالش کرنے والی مشین سے مساج کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سے اس کے پٹھوں کو راحت ملتی ہے، تکلیف کم ہوتی ہے اور حرکت میں مدد ملتی ہے۔

وہ کہتا ہے کہ ’میں کسی اور کو کبھی نہیں کہوں گا کہ کار پالش کرنے والی مشین لے اور معلومات کے بغیر اسے استعمال کرے۔ کسی سیانے کو ڈھونڈو اور اس سے بہت سارے سوالات کرو۔‘

مائیک کی روزانہ کی خوراک پیٹزا ہے۔ ’یہ کوئی آئیڈیل قسم کی خوراک نہیں ہے۔ لیکن اگر دن ڈھلنے تک آپ کو اپنی ضرورت کے مطابق کی کیلوریز نہیں ملیں ہیں تو پیٹزا اس مقدار کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔‘

Mikey Lane training in his gym تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

اپنی 8500 کیلوریز کی ضرورت اور 130 کلو گرام وزن کو برقرار رکھنے کے لیے مائیک گوشت، بریڈ رول، سؤر کا گوشت، بھنا گوشت، مرغ، گائے کا گوشت، سبزیاں کھانے کے علاوہ مختلف اجناس، چاکلیٹ اور بکسٹس کے ساتھ ملا کر پھلوں کا جوس بھی پیتا ہے۔

مائیک کے پاس دوسرے طاقتور مرد اور عورتیں دونوں آتے رہتے ہیں اور یہ ایک دوسرے سے کچھ سیکھتے رہتے ہیں۔ ’یہ سپورٹس کی ایک بہترین بات ہے، دوستی اور مدد جو اس سے حاصل ہوتی ہے۔‘

’ہم شاید ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ہم ایک دوسرے کی مدد کے لیے بھی پہنچ جاتے ہیں۔‘

Mikey Lane training in his gym تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

اوپر والی تصویر میں مائیک ایک بھاری وزن کا لوہے کا فریم اٹھائے چل رہا ہے۔ اسے پھندا کہا جاتا ہے۔ اس لوہے کے پھندے کے ساتھ دوڑنا کسی بھی طاقتور ترین مردوں کے مقابلوں کا حصہ ہوتا ہے۔

نیچے والی تصویر میں اس کی جرمن نسل کی کتیا مازیکین بھی موجود ہے۔ یہ کتیا اس کے ساتھ اس وقت سے ہے جب یہ آٹھ ہفتوں کی تھی۔

Mikey's dog Mazikeen تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

ہر مقابلے کے لیے مائیک کی مشق میں مختلف قسم کے ویٹس اٹھانا ہوتا ہے تاکہ تمام مسلز ایک وقت میں استعمال ہوسکیں۔

Mikey Lane training in his gym تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

وہ مشق کے دوران معاونت بھی حاصل کرتا ہے جس کی بدولت وہ زیادہ سے زیادہ وزن اٹھا پاتا ہے اور اس کے جسم کی نمو بھی ہوتی ہے۔

مائیک لچک اور حرکت دونوں پر نظر رکھتا ہے۔ ’میں مسلز کو راحت پہنچانے کے لیے ایک منصوبے پر عمل کرتا ہوں،میں ایک ٹریننگ سیشن میں مسلز کو راحت کے ساتھ اس پر زور نہیں لگاتا ہوں۔ میں فوم رولر کے استعمال سے بغیر زور لگائے مسلز کے ٹشوز کو راحت پہنچاتا ہوں۔

Mikey Lane training in his gym تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

ایک طاقتور مرد بننے کی ایک قیمت بھی ہوتی ہے، بعض اوقات جوڑوں میں درد ہوتا اور کبھی کبھار مسلز کے ٹشوز میں بھی درد محسوس ہوتا ہے۔

اس ٹریننگ سیشن کے علاوہ فٹ اور فعال رہنے کے لیے اسے فزیوتھراپسٹ، کیروپریکٹر، اور دوسرے ماہرین کی مدد حاصل رہتی ہے۔

Mikey Lane training in his gym تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

حال ہی میں مائیک نے امریکی شہر اوتھا میں ایک مقابلے میں حصہ لیا تھا جہاں اس نے 362 کلو گرام وزن اٹھانے کا مقابلہ جیتا تھا۔ لیکن وہ تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں آدھے نمبر سے رہ گیا تھا۔

اس کا اگلا مقابلہ 15 ستمبر کو ہوگا جہاں وہ اپنی کھوئی ہوئی ’بلنگھم چیمپیئنشپ‘ دوبارہ سے جیتنے کی کوشش کرے گا۔

مائیک کے سنہ 2019 میں جسمانی طاقت اور مردانگی کے بارے میں کیا خیالات ہیں؟ ’میں تو یہ کہوں گا کہ کوئی بھی چاہے وہ مرد ہو یا عورت ہو اس دباؤ کو اپنی اندرونی طات سے برداشت کر سکتا ہے، نہ کہ کسی مصنوعات کی اشتہاری مہم کے ذریعے، یا جسمانی ساخت سے جو کہ فیشن انڈسٹری استعمال کرتی ہے۔

’میرے خیل میں مردانگی ایک بہت ہی معروضی بات ہے۔ آج کل کی ڈیجیٹل ایج میں رہتے ہوئے یہ پرانے طرز کے مرد کے تصور سے بنیادی طور پر بدل رہی ہے جو بہت بڑا نظر آتا ہے، جو طاقتور ہوتا ہے، اور جو کاروں کی مرمت کا کام کرتا ہے۔‘

’مجھے فخر ہے کہ میں وہ کام کرسکتا ہوں، لیکن میں یہ اپنی صنف کی وجہ سے نہیں کرتا ہوں بلکہ سمجھتا ہوں کہ یہ میری صلاحیت ہے کہ میں ایسے کام کرسکتا ہوں۔‘

Mikey Lane's gym equipment تصویر کے کاپی رائٹ Richard Hancox

مائیک مرد و عورت جو بھی طاقتور بننا چاہتا ہے ان کو مشورہ دیتا ہے کہ ’ایک جم یا ہیلتھ کلب تلاش کریں، جہاں تجربہ کار لوگ موجود ہوں جو یہ جانتے ہوں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ ان سے بہت سارے سوالات کریں، آغاز میں سخت کام نہ کریں۔ بنیاد بنائیں۔‘

’لیکن اصل میں مزا لیں۔ جتنا مزا لیں گے اتنا ہیں زیادہ آپ محنت کرنے کی خواہش کریں گے، اور اتنا ہی زیادہ آپ ترقی کریں۔‘

تصویروں کے لیے رچرڈ ہینکاکس کا شکریہ۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں