چین قطر میں 2022 میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے فٹبالر ’درآمد‘ کر رہا ہے

چین فٹ بال تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فٹبالر ایلکسن برازیل میں پیدا ہوئے لیکن اب وہ چین کی قومی ٹیم کا بھی حصہ ہیں

جب ستمبر میں چین نے قطر میں 2022 میں ہونے والے ورلڈ کپ کے کوالیفائینگ میچ کھیلا تو سب کی آنکھیں دو کھلاڑیوں پر جمی ہوئی ہیں۔

26 برس کے نِکو یناریس لندن میں پیدا ہوئے تھے، جبکہ تیس برس کے ایلکسن چند مہینوں پہلے تک برازیل کے شہری تھے۔

دونوں چین کی چوبیس رکنی ٹیم کا حصہ ہیں جس نے ستمبر میں ہی مالدیپ میں پانچ کے مقابلے میں صفر سے میچ جیتا۔

مطالبے پر شہریت

ایلکسن نے اپنے پہلے ہی میچ کے آخری حصے میں دو گول کر کے ٹیم کو کامیابی دلوائی۔

یہ چین کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ ایک غیر ملکی نے چینی شہریت اختیار کر کے چین کے لیے کسی دوسرے ملک کے خلاف میچ کھیلا۔ لندن سے تعلق رکھنے والے ایک اور کھلاڑی یناریس کو اس میچ میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا تھا۔

یہ ایک بڑا قدم ہے۔ ایک ملک جس کی اپنی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ ہے وہ سنہ 2002 کے بعد ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے لیے ’غیر ملکی‘ کھلاڑیوں کو اپنی قومی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’میری عمر میں کھلاڑی چین یا قطر جاتے ہیں‘

کیا پیسہ آپ کو ورلڈ کپ جتوا سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مارسیلو لِپی (مرکز میں) نے مبینہ طور پر چینی ٹیم کا دوبارہ کوچ بننے کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو چینی شہریت دی جائے

اس طرح کے خیال پر تو کئی مرتبہ بحث ہوئی ہے لیکن 2019 میں اس پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ چینی ٹیم کے ہیڈ کوچ مارسیلو لِپی کے لیے ایک ٹیم بنانے کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کو زبردست مالی فائدوں کے علاوہ، چینی شہریت دینا بھی ایک شرط تھی۔

اٹلی کے ورلڈ کپ جیتنے والے لیجینڈ نے اس وقت کوچ کا عہدہ چھوڑ دیا تھا جب چین کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ایشیا کپ سے باہر ہو گیا تھا۔ لیکن وہ 119 دنوں کے بعد دوبارہ اسی عہدے پر واپس آگئے۔

تب سے غیر ملکی کھلاڑیوں کو چینی شہریت دے کر ٹیم میں شامل کرنا ایک بڑا موضوع رہا ہے۔

اگرچہ ایلکسن اور یناریس دو ایسے کھلاڑی ہیں جو قومی ٹیم میں شامل کر لیے گئے ہیں، تاہم صرف وہی دو ایسے کھلاڑی نہیں جنھوں نے گزشتہ چند ماہ میں چینی شہریت حاصل کی ہو یا لینے والے ہوں۔

انھوں نے ایسا کیسے کیا؟ فیفا کے چند اصولوں کے علاوہ، انھیں شاید مندرجہ ذیل چھ نکات پر غور کرنا ہوگا:

1- والدین میں سے کسی ایک کو چینی ہونا چاہیے

ظاہر ہے کہ چین فٹ بال میں اپنی کارکردگی بہتر کرنا چاہتا ہے۔ لیکن وہ اپنی چینی شناخت کو بدلنا نہیں چاہتا ہے۔

لہٰذا جن غیر ملکیوں کو چینی شہریت دی گئی ہے ان کا تعارف کس طرح کرایا جائے گا۔ چین نے اس کے لیے ان کے چینی ورثے کا سہارا لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فٹبال ورلڈ کپ: قطر میں مزدوروں کو واجبات نہیں ملے

’بحران کا 2022 فٹبال ورلڈ کپ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نِکو یناریس کے چینی ورثے نے ان کے کیس میں ان کی مدد کی اور اب وہ چین کے لیے کھیل رہے ہیں

اس برس جنوری میں بیجنگ کی سِنوبو گوؤن فٹ بال کلب نے، جس کا چین کی مقبول ترین سُپر لیگز میں شمار ہوتا ہے، بڑے فخر سے نکو یناریس اور جان ہؤ سئیٹر کے ساتھ معاہدے کا اعلان کیا اور ان دونوں کو چینی کہہ کر متعارف کرایا گیا۔

اس طرح چین کی فٹ بال کی تاریخ میں یہ پہلے دو غیر ملکی کھلاڑی ہیں جو چینی شہریت حاصل کر چین میں فٹبال کھیلنے لگے۔

ان میں سے کوئی بھی اس سے پہلے چین میں نہیں رہا ہے، تاہم یہ دونوں اپنی اپنی چینی ماؤں کی وجہ سے چین کی قومی ٹیم کے لیے کھیلنے کے اہل قرار پائے ہیں۔

دونوں ہی نے چین میں چند ماہ کھیلنے کے بعد اس منصوبے پر بہت خوشی کا اظہار کیا ہے۔

ہؤ سئیٹر نے چینی میڈیا کو بتایا کہ ’میری ماں چین میں پیدا ہوئی تھیں۔ یہ میرے خاندان کے لیے بڑا اعزاز ہوگا اگر میں چین کے لیے کھیلوں۔‘

جبکہ دوسری جانب یناریس نے کہا کہ ’مجھے تو ہمیشہ سے معلوم تھا کہ میری جڑیں چین میں ہیں‘۔

2- کسی معروف یورپی کلب کا تربیت یافتہ ہونا

اگرچہ چینی فٹ بال میں غیر ملکی کھلاڑیوں کو چینی شہریت دینا ایک پالیسی بن گئی ہے، لیکن پھر بھی چین میں کھیلنے کے اس خواہش مند کو چینی کلب کے معیار کے مطابق ایک اچھا کھلاڑی ہونا چاہیے اور اس کے لیے بھی حکام کو کافی تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔

اس وقت ترجیح یہ ہے کہ کسی طرح چین کی فٹبال ٹیم کو اس قابل کر دیا جائے کہ وہ ورلڈ کپ تک پہنچ جائے۔ آخری مرتبہ چین کی ٹیم 2002 میں ورلڈ کپ تک پہنچی تھی اور اس نے اپنے تین کے تین میچز کوئی بھی گول کیے بغیر ہارے تھے۔ یہاں تک کہ اس کی انڈر ٹوئنٹی ٹیم 2005 سے اب تک کوالیفائی نہیں کرسکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چینی صدر فٹبال کے شوقین ہیں اور وہ فٹ بال کے فروغ کے لیے بہت بڑے منصوبے رکھتے ہیں

چینی صدر شی جِن پِنگ نے نوجوانوں میں فٹبال کے فروغ کے لیے قومی سطح پر ایک بہت بڑا تربیتی نظام تشکیل دیا ہے۔ لیکن غیر ملکی کھلاڑی انھیں مختصر مدت کے لیے کامیابی دے سکتے ہیں۔

یناریس انگلینڈ کی ٹیم آرسنل کے تربیت یافتہ ہیں، جبکہ ہؤ سئیٹر نے ایک کم عمر کھلاڑی کی حیثیت سے ناروے کے فٹ بال کلب روزنبرگ سے اپنے کھیل کا آغاز کیا تھا۔

ان دونوں نے اپنے اپنے ممالک میں نوجوانوں کی ٹیموں میں کھیلا ہے۔

چینی سپر لیگ کے سات مرتبہ چیمپئین بننے والی گوانگ ژاؤ ایور گرانڈے نے انگلینڈ کے ٹائیس براؤننگ سے اسی برس فروری میں معاہدہ کیا، ان کے آنجہانی دادا مبینہ طور پر گونگ ڈانگ سے تعلق رکھتے تھے اور سنہ ساٹھ کی دہائی میں برطانیہ ہجرت کر گئے تھے۔

چینی میڈیا نے جولائی میں یہ خبر دی تھی کہ انھوں نے چین کی شہریت اختیار کر لی ہے لیکن فیفا اس معاملے پر نظرثانی کر رہا ہے۔

3- چینی کلب میں اچھی کارکردگی دکھائیے

اس برس اگست میں چین ایک قدم اور آگے بڑھا اور اس نے برازیل کے کھلاڑی ایلکسن کو ٹیم میں شامل کر لیا۔ ان کا چین سے کوئی ثقافتی یا وراثتی تعلق بھی نہیں ہے لیکن وہ چین میں چھ برس سے کھیل رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریکارڈو گولارٹ برازیل کے دوسرے کھلاڑی ہو سکتے ہیں جو شاید چین کے لیے کھیلیں

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر نسلی لحاظ سے چینی نہیں بھی ہیں تب بھی آپ کے لیے چینی قومی ٹیم کے دروازے بند نہیں ہوں گے۔

اگرچہ ایک ایسے ملک کے لیے جس میں قوم پرستی کوٹ کوٹ کر بھری ہو، اس کے اس طرح باہر سے کھلاڑیوں کو لانا ایک بڑی بات ہے۔

اس بڑے کھلاڑی کی اتنی بڑی مثال بننے کی وجہ کیا ہے؟ وہ چینی سپر لیگ میں سب سے زیادہ گول کرنے والا کھلاڑی ہیں، جنھوں نے 103 گول کیے ہیں۔

یوارگرانڈے کے ایک اور کھلاڑی ریکارڈو گولارٹ نے بھی کافی گول کیے ہیں اور مبینہ طور پر اپنا برازیلین پاسپورٹ ترک کردیا ہے اور اور چینی پاسپورٹ حاصل کرنے کے مراحل میں ہیں۔

4- اپنی اصلی شہریت چھوڑ دیجیے

ادھر لیونل میسی ہسپانوی پاسپورٹ رکھتے ہوئے ارجنٹائن کے لیے کھیل سکتے ہیں لیکن چین میں ایسا نہیں ہے۔

چین کے قوانین میں دوہری شہریت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک مرتبہ چینی شہریت دے دی گئی تو آپ دوسرے ملک کا پاسپورٹ نہیں رکھ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایلکسن 2019 میں چین میں سالانہ ایک کروڑ دس لاکھ ڈالرز کمائیں گے

چین میں غیر ملیکوں کے کام کی غرض سے جانے کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن برطانوی شہریت یا ناروے کی شہریت چینی پاسپورٹ کے لیے ترک کرنے کا فیصلہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے بارے میں بہت کچھ ظاہر کرتا ہے یا چین میں فٹبال میں خطیر رقم ملنے کے امکانات کا اشارہ دیتا ہے۔

دو ایک برس قبل چینی کلبز غیر ملکی کھلاڑیوں کو اتنی زیادہ رقم ادا کر رہے تھے کہ چین کی فٹبال ایسوسی ایشن نے غیر چینی کھلاڑی لانے پر سو فیصد ٹیکس عائد کرنا شروع کر دیا تھا۔

سنہ 2019 میں ایلکسن کی سالانہ آمدن ایک کروڑ دس لاکھ ڈالرز ہے۔ اب تک انھیں کو برازیل میں ایک دوستانہ میچ کھیلنے کے لیے بلایا گیا ہے لیکن وہ اس میچ میں کھیلے نہیں۔

5- آپ کا ایک چینی طرز کا نام ہونا چاہیے

اگر ایک چینی کھلاڑی بہترین چینی زبان نہیں بولتا ہے تو کم از کم اس کا ایسا چینی نام ہونا چاہیے تاکہ چینی پرستار اس کے نعرے لگا سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہؤ سئیٹر (بائیں جانب) چینی شہریت اختیار کرنے کے بعد ہؤ یانگ یانگ بن گئے

جن لوگوں کو نوے کی دہائی کے آخر یا اوائل کی ایشیئن فٹبال یاد ہے انھیں یاد ہوگا کہ جاپان نے بھی کھلاڑیوں کو شہریت دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

چین کے لیے بھی یہ ویسا ہی ہے لیکن تھوڑا مختلف بھی۔

نِکو یناریس کا چینی نام ’لی کے‘ ہے جو کہ ان کے انگلش نام کا ترجمہ ہے اور الیکسن اب ’آئی کیسن‘ ہیں۔

ہؤ سئیٹر چینی شہریت اختیار کرنے کے بعد ہؤ یانگ یانگ بن گئے ہیں۔ لیکن یہ ان کا اصل چینی نام ہے جو انھوں نے اپنی ماں سے لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چینی قومی ترانہ سیکھنا اہم شرط ہے

6- چینی ترانہ سیکھنا لازم ہے

’قدم بڑھاؤ! قدم بڑھاؤ! قدم بڑھاو!‘

یہ چینی قومی ترانے کے الفاظ ہیں۔

شہریت ملنے والے ان کھلاڑیوں میں سے کوئی بھی چینی نہیں بولتا لیکن ان سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ کم از کم ترانہ گا سکیں۔

چین کی فٹبال ایسوسی ایشن کے مطابق چینی ٹیم میں شامل ہونے والوں کے لیے یہ کم سے کم شرط ہے کہ وہ ایسا کر سکیں۔ اور ترانہ ہی نہیں بلکہ چین کے لیے میچ بھی جیت سکیں۔

اس لیے چین امید کر رہا ہے کہ ’مقامی کھلاڑیوں‘ اور ’غیر ملکی‘ کھلاڑیوں کی شمولیت سے سنہ 2022 میں قطر میں کم از کم چند مرتبہ تو چین کا قومی ترانہ سننے کو ملے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں