مصباح الحق پر سوشل میڈیا پر تنقید: ’مصباح نے عمر اکمل اور احمد شہزاد کو موقع دے کر دونوں کا کریئر ختم کر دیا ہے‘

مصباح الحق تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مہینوں بعد انٹرنیشنل کرکٹ کے پاکستان لوٹنے کی خبر سن کر کرکٹ کے شائقین میں جو خوشی کی لہر دوڑی، وہ زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور شائقین کی اپنی ٹیم کو جیتتا دیکھنے کی خواہشات پر دو بار پانی پھر گیا۔

کوچ مصباح الحق کئی دنوں سے سرخیوں میں ہیں مگر بدھ کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین پاکستان اور سری لنکا کے مابین کھیلے جانے والے سیریز کے تیسرے اور آخری میچ سے پہلے ہی ان کی کارکردگی کا رزلٹ کارڈ مرتب کرتے نظر آئے۔

ٹی20 کی رینکنگ میں پاکستان سرِفہرست ہے لیکن پھر بھی وہ آٹھواں نمبر والی سری لنکن ٹیم، جو آدھی سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، سے دو میچ ہار چکی ہے۔

بُری کارکردگی کے پیشِ نظر سیریز کے تیسرے میچ سے پہلے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ اور ہیڈ سلیکٹر مصباح الحق نے منگل کو پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ ہر شعبے میں ٹیم کی کارکردگی میں کمی نظر آئی ہے۔

ساتھ ہی ساتھ انھوں نے عمر اکمل اور احمد شہزاد کو سراہا اور دونوں کو ٹیم میں شامل کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیے

’مصباح ٹھیک کہتے ہیں، لیکن۔۔۔‘

مصباح سرفراز کو ٹِم پین بننے دیں گے؟

’نئی‘ ٹیم میں عمر اکمل، احمد شہزاد کا کیا کام؟

مصباح الحق پاکستان کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مقرر

دوہرا عہدہ اور ضرورت سے زیادہ بوجھ

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کا اپنے یوٹیوب چینل کی ویڈیو میں کہنا تھا کہ 'تمام طرز کی کرکٹ کوچنگ کی ذمہ داریاں مصباح الحق کو سونپ کر ان پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ تیز رفتار طرز کی کرکٹ میں کھلاڑیوں کا قبلہ درست کرنے کے لیے ہمیں پاور ہِٹنگ کوچ کی ضرورت ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رمیز راجہ کا خیال ہے کہ تمام طرز کی کرکٹ کوچنگ کی ذمہ داریاں مصباح الحق کو سونپ کر ان پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے

سابق آسٹریلوی کھلاڑی اور اسلام آباد یونائیٹد کے ہیڈ کوچ ڈین جونز نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’میری رائے میں کرکٹ میں آپ ہیڈ کوچ اور سلیکٹر جیسے دو عہدے ساتھ لے کر نہیں چل سکتے۔ ذرا سوچیے، آپ ایسے کھلاڑی ہوں جنھیں تکنیکی یا اعصابی مسئلہ درپیش ہو تو کیا آپ اپنے کوچ کو دل کی بات بتا پائیں گے اگر آپ کو برخاست ہونے کا خدشہ ہو؟‘

صارفین کا ردِعمل

ڈین جونز کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے مصباح کے دوہرے عہدے کے بارے میں صارف عبید الرحمان کا کہنا تھا کہ 'یہ ٹیلنٹ صرف پاکستان میں ہوتا ہے۔ دنیا حیران ہے۔ اب آگے مصباح وسیم خان (مینیجنگ ڈائریکٹر، پی سی بی) کی جگہ اور پھر پی سی بی چیئرمین کی نشست پر بھی نہ آ جائیں۔'

مایوس ہو کر ایک صارف نے تو اپنی ٹیم ہی بدل لی۔

سید اسد علی نامی ٹوئٹر صارف کہتے ہیں کہ 'بیٹے نے تیسرے میچ کے لیے 3000 روپے کا ٹکٹ یہ سوچ کر خریدا کہ یہ سوپر ڈوپر فیصلہ کن میچ ہو گا لیکن مصباح کا شکریہ کہ ممکنہ طور پر یہ میچ وائٹ واش ثابت ہو سکتا ہے۔ بیٹے کو سری لنکن ٹیم کی کِٹ پہننے کا مشورہ دیا ہے۔'

ٹوئٹر پر کوئی ٹرینڈ چلے اور پاکستانی صارفین حسِ مزاح کا استعمال نہ کریں، ایسا ممکن نہیں ہے۔

ٹوئٹر صارف عظیم نے ٹویٹ کی 'سننے میں آیا ہے کہ احمد شہزاد اور عمر اکمل کا انتخاب کرنے کی وجہ سے کوچ مصباح چیف سلیکٹر مصباح سے شدید ناخوش ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ پی سی بی کو بیٹنگ کوچ مصباح الحق کی بری کارکردگی سے باضابطہ طور پر آگاہ کریں۔'

ٹی20 جیسی تیز رفتار گیم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کچھ صارفین کے خیال میں شاہد آفریدی بہتر انتخاب ثابت ہو سکتے تھے۔ صارف عمران عباس نے اپنی ٹویٹ میں لکھا 'یہی ہوتا ہے جب آپ بوم بوم کی جگہ ٹُک ٹُک کا انتخاب کرتے ہیں، آپ کی ٹیم چھکے لگانا بھول جاتی ہے۔'

جہاں مصباح الحق کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا وہیں ایک صارف اپنی ٹویٹ میں ان کا شکریہ کرتے دکھائی دیے۔ صارف فرقان نے لکھا 'مصباح نے ان دونوں (عمر اکمل اور احمد شہزاد) کو موقع دے کر بلآخر ان کا کریئر ختم کر دیا ہے۔ مصباح کا شکریہ۔'

مصباح الحق نے تو ہمیں تحمل دکھانے اور جوابات تلاش کرنے کے لیے اگلی سیریز کا انتظار کرنے کا مشورہ دے دیا مگر پاکستان وائٹ واش ہو گا یا لوگوں کا مصباح میں اعتماد بحال، یہ فیصلہ تو آج کا میچ ہی کرے گا۔

اسی بارے میں