پاکستان میں برطانوی کوہ پیماؤں کا ریسکیو: ’ساری رات خون میں ڈوبے ایلی کے ساتھ لیٹے رہنا عجیب تجربہ تھا‘

Ally Swinton/Tom Livingstone تصویر کے کاپی رائٹ Ally Swinton/Tom Livingstone

برطانیہ سے کوہ پیمائی کے لیے پاکستان کا رخ کرنے والے پانچ دوستوں کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع ساڑھے 22 ہزار فٹ بلند کویو زون نامی چوٹی کو سر کرنا ایک ایسا خواب تھا جسے پورا کرنے کے لیے وہ طویل عرصے سے بےتاب تھے۔

مگر یہ کوشش ان میں سے دو افراد ٹام لیونگ سٹون اور سکاٹ ایلی سیونٹن، کے لیے ممکنہ طور پر ان کی زندگی کا سب سے ڈرامائی واقعہ بن گئی۔

کویو زوم ایک پتلا اور لمبا پہاڑ ہے جو کہ انتہائی ڈھلوانی ہے اور برف سے ڈھکا ہوا ہے۔

حادثے سے سات روز قبل ٹام، سکاٹ اور ان کے دیگر تین دوستوں نے فیصلہ کیا تھا کہ مختلف ٹولیوں کی شکل میں علیحدہ علیحدہ سمت سے اس پہاڑ پر چڑھیں گے۔ یوں انھوں نے دو، دو کوہ پیماؤں پر مشتمل دو ٹیمیں بنائیں اور ان کا پانچواں ساتھی واپس بیس کیمپ پر چلا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ally Swinton/Tom Livingstone
تصویر کے کاپی رائٹ Ally Swinton/Tom Livingstone

ولیم سم اور جان کروک نے پہاڑ پر مشرق کی جانب سے چڑھنے کی کوشش کی جبکہ ٹام اور ایلی نے مغربی راستہ چنا۔ مغربی راستے سے پہلے کوئی پہاڑ پر نہیں چڑھا تھا۔

ٹام اور ایلی کا کہنا ہے کہ انھیں اس چیلنج کا مزہ آ رہا تھا اور وہ 18000 فٹ کی بلندی پہنچ چکے تھے۔ ان کے لیے یہ ایک مشکل مگر بہترین تجربہ تھا۔

اور پھر ایک قدم رکھنے میں غلطی کی وجہ سے سکاٹ ایلی 65 فٹ گہری کھائی میں جا گرے اور زخمی ہو گئے۔

28 سالہ ٹام کہتے ہیں ’میں نے وہی کیا جو شاید کوئی بھی کرتا اور اپنے دوست کا خیال رکھا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر میں زخمی ہوتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا۔‘

’وہ سر پر ایک چوٹ کی وجہ سے خون میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں نے اس کی ٹانگ میں شدید تکلیف کی وجہ جاننے کے لیے اس کی پتلون کاٹی اور امید کی کہ میری انگلیوں کی کہیں کوئی ٹوٹی ہوئی نوکیلی ہڈی نہ مل جائے مگر شکر ہے اس کی ٹانگ پر صرف شدید خراشیں آئی تھیں۔‘

ٹام کہتے ہیں کہ انھوں نے خود کو جوش کے بجائے ہوش سے کام لینے پر مجبور کیا اور منطقی سوچ رکھی۔

انھیں معلوم تھا کہ وہ پاکستان کے ایک دور دراز علاقے میں تھے اور اپنی واپسی کے راستے کی جو ایک تصویر انھوں نے دیکھی تھی وہ ایک لمبا گلیشیئر تھا۔

اگر وہ خوش قسمت بھی ہوتے تو انھیں واپس جانے میں ایک پورا دن لگنا تھا۔

ادھر ایلی کے سر سے خون بہے جا رہا تھا اور وہ کانپ رہا تھا۔ ان دونوں میں طاقت بھی ختم ہو رہی تھی اور ان کے پاس کھانے کو صرف چند انرجی بارز اور خشک میوے رہ گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ally Swinton/Tom Livingstone
تصویر کے کاپی رائٹ Ally Swinton/Tom Livingstone

وہ بتاتے ہیں ’مجھے معلوم تھا کہ ایلی کو اس سے زیادہ طبی امداد کی ضرورت تھی جو کہ میرے پاس موجود ایک پٹی سے مل سکتی تھی۔ صرف چند منٹ سوچنے کے بعد میں نے اپنا ایس او ایس بٹن دبا دیا۔‘

جب وہ لوگ ریسکیو ہیلی کاپٹر کا انتظار کر رہے تھے تو ایلی ہوش میں تھا مگر پہلی دوپہر ہی ٹام کو لگا کہ وہ بےہوشی کی طرف جا رہے ہیں۔

’کچھ دیر کے لیے مجھے لگا کہ وہ آج رات کو مر جائے گا۔‘

’ساری رات ایک خون میں ڈوبے ایلی کے ساتھ لیٹے رہنا ایک عجیب تجربہ تھا۔ مجھے آج بھی اس کے خون کی بو آتی ہے۔‘

میں اس کی سانسوں کو سن رہا تھا۔ وہ اونچائی کی وجہ سے پہلے ہی بےربط تھیں اور جب وہ کچھ لمحوں کے لیے سانس لینا چھوڑ دیتا تھا تو میں اسے ہلکا سا ہلا دیتا تھا۔ جب تک اس کو اگلی سانس نہیں آتی تھی میری سانس اٹکی رہتی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ally Swinton/Tom Livingstone

شکر ہے اگلے روز تک اس کی حالت بہتر ہونے لگی اور ہیلی کاپٹر کے پروں کی آواز کی شکل میں ہمیں ریلیف ملی۔

پاکستانی فوج کی وجہ سے پانچوں کوہ پیماؤں کو بچا لیا گیا۔

ٹام اور ایلی کو پہاڑ سے 30 ستمبر کو لایا گیا اور ایلی کو گلگت بلتستان میں طبی امداد دی گئی۔

دونوں اب اپنے ملک واپس لوٹ چکے ہیں اور ریسکیو کے لیے شکرگزار ہیں۔ مگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی پہاڑ سر کرنے کی اس کوشش کو وہ اپنی بہترین کوششوں میں سے ایک کے طور پر یاد رکھیں۔

ٹام کہتے ہیں ’میں خود کو اعلیٰ درجے کے اقدار کے سامنے ناپتا ہوں۔ میں کوہ پیمائی کی حد کو چیلنج کرنا چاہتا ہوں۔ اگر آپ کو راستے میں فراسٹ بائٹ ہو جائے تو آپ ہار گئے۔ اگر آپ کو ریسکیو کیا جائے تو آپ ہار گئے۔‘

اس اعتبار سے ہم ہار گئے ہیں۔ مگر ہم دونوں اب محفوظ ہیں اور ہم نے ایک انتہائی زبردست تجربہ کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں